آئرلینڈ، فرانس اور سویزرلینڈمیں احتجاجی مظاہرے
ڈبلن +پیرس+ جنیوا// آئرلینڈ کے دارالحکومت ڈبلن میں امریکی سفارت خانے کے باہر ہزاروں افراد نے امریکہ میں نسل پرستی اور پولیس بربریت کے خلاف مظاہرہ کیا۔آئرلینڈ کے قومی ریڈیو اور ٹیلی ویژن چینلز نے یہ اطلاع دی۔ خیال رہے سیاہ فام امریکی شہری جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے خلاف آئرلینڈ میں امریکی سفارت خانے کے باہر یہ تیسرا مظاہرہ تھا۔ہفتہ کے روز مظاہرین نے امریکی سفارت خانے کے سامنے گھٹنے ٹیک کر مظاہرہ کیا اور جارج کے ساتھ پولیس کی بربریت کے لئے اپنے غصہ کا اظہار کیا۔ اس عرصے کے دوران ، مظاہرین نے امریکہ کے ساتھ ساتھ دوسرے مقامات پر نسل پرستی کی گہری جڑوں کو ختم کرنے کابھی مطالبہ کیا۔قابل ذکر ہے امریکہ کے شہرمنیپولیس شہر میں ایک گورے پولیس افسرنے 46 سالہ جارج فلائیڈ نامی سیاہ فام کے گردن کو تقریباً 9 منٹ تک گھٹنے سے دبائے جانے کے سبب ان کی 25 مئی کو موت ہوگئی تھی۔ادھر فرانس اور سوئٹزرلینڈ میں بھی لوگوں نے مظاہرے کیے ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکہ میں پولیس بربریت اور نسل پرستی کے خلاف تقریبا ً23 ہزار لوگوں نے پورے ملک میں مظاہرے کئے ۔ فرانس میں تقریباً 5500 لوگوں نے پیرس میں واقع امریکی سفارتخانے کے باہر ایفل ٹاور کی جانب منہ کرکے کیمپس ڈی مارک پارک میں مظاہرہ کیا۔ فرانس کے لیون، بورڈی اوکس،نائس،للی اور میٹس سمیت متعدد شہرو ں میں 23 ہزار سے زائد افراد نے مظاہرہ کیا۔دوسری جانب سوئٹزرلینڈ میں بھی جارج کی موت کے خلاف ہورہے احتجاج کے پیش نظر اظہار یکجہتی کے لئے لوگوں نے مظاہرہ کیا۔ سوئس آر ٹی ایس ٹیلی ویژن کے مطابق ہفتہ کے روز نوشاتل، زیورخ اور برن میں ریلیاں نکالی گیئں۔نوشاتل میں منعقد ریلی میں پانچ ہزار افراد شریک ہوئے ۔ سوئٹزرلینڈ میں ریلیاں زیادہ تر پر امن رہیں۔ اس دوران لوگوں نے عالمی وبا کورونا وائرس (کوویڈ ۔19) سے بچاؤ کے لئے ماسک پہن رکھے تھے ۔
لندن میں‘بلیک لائیو میٹر’ مظاہرے ،23 پولیس اہلکار زخمی
لندن //امریکہ میں سیاہ فام امریکی شہری جارج فلائیڈ کی موت کے بعد برطانیہ کے لندن میں نسل پرستی اور پولیس بربریت کے خلاف ہو رہے احتجاج میں گزشتہ چند دنوں میں 23 پولیس افسران زخمی ہوچکے ہیں۔ یہ اطلاع پولیس سپرنٹنڈنٹ جو ایڈورڈ نے دی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ کورونا وائرس کی وبا اور حکام کے منع کرنے کے باوجود ہزاروں افراد نے وسطی لندن تک مارچ کیا۔لندن میٹرو پولیٹن پولیس ویب سائٹ پر مسٹر ایڈورڈ کے حوالے سے بتایا گیا ہے ‘‘ہم لوگوں کے مظاہرہ کرنے کے جنون سے واقف ہیں اور ہم نے اس کی اجازت بھی دی ہے ۔ انہوں نے بڑی تعداد میں مظاہرہ بھی کیا۔ اس دوران ہمارے افسران پیشہ ور اور پابند رہے لیکن چند لوگوں کا ایک چھوٹا گروپ تھا جس نے پولیس افسران کے خلاف تشدد کیا ۔
اقوام متحدہ دفتر کے باہر مظاہرہ
غیرجانبدارانہ تفتیش کی مانگ
نیو یارک//سیاہ فام امریکی شہری جارج فلائیڈ کے قتل کے خلاف لوگوں نے نیویارک میں واقع اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر احتجاج کیا اورامریکہ کی مذمت کے لئے قراردادلانے کا مطالبہ کیا۔اقوام متحدہ کے داخلی دروازے پر ہفتے کے روز تقریبا سو افراد نے مظاہرہ کیا۔ مظاہرین امریکہ میں رونما ہونے والے نسلی تشدد کی اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے ماہرین سے غیرجانبدارانہ تفتیش کا مطالبہ کر رہے تھے ۔ اس کے ساتھ ہی مظاہرین نے اقوام متحدہ سے امریکہ میں نسل پرستانہ تشدد کی مذمت کے لئے ایک قرار داد لانے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین پولیس کی مالی اعانت میں کمی کا بھی مطالبہ کر رہے تھے ۔قابل ذکر ہے کہ اس سے ایک روز قبل ، جمعہ کے روز ، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے ماہرین نے جارج فلائیڈ کی موت کی مذمت کرتے ہوئے ترقی پسندانہ اصلاحات اور انصاف کی بات کی تھی۔