عظمیٰ یاسمین
تھنہ منڈی // تھنہ منڈی اور گرد و نواح میں گزشتہ دنوں پیش آئے چار المناک واقعات نے پورے علاقے کو غم کی چادر میں لپیٹ دیا ہے۔ ان واقعات میں تین نوجوانوں اور ایک معصوم بچے کی ناگہانی اموات نے نہ صرف ان کے اہلِ خانہ بلکہ پورے سماج کو رنج و الم سے دوچار کر دیا ہے۔ پہلا سانحہ مامون گنائی ولد محمد رفیق ساکن تھنہ منڈی کا تھا، جو جموں سے واپسی پر گودڑھ سندربنی کے قریب ایک سڑک حادثے میں جاں بحق ہوئے۔ دوسرا سانحہ معراج الدین ولد غلام محی الدین ساکن کھیورہ راجوری کے ساتھ پیش آیا، جو کھنیال کوٹ تھنہ منڈی میں ایک جنازے کے دوران اپنے ہی رشتہ دار کے ہاتھوں چاقو زنی کا نشانہ بن کر جاں بحق ہو گئے۔ تیسرا واقعہ سابق فوجی جاوید احمد کا تھا، جنہیں رات دیر گئے دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ چوتھی اندوہناک خبر یہ تھی کہ مامون گنائی کے کمسن بیٹے اذہان گنائی جو اپنے والد کے ہمراہ حادثے میں زخمی ہوا تھا، زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جموں میڈیکل کالج میں دم توڑ گیا۔ اس معصوم کی نمازِ جنازہ 18 جولائی 2025 کو بعد نماز عصر جامع مسجد تھنہ منڈی میں ادا کی گئی۔ ان پے در پے اموات پر پورا علاقہ سوگوار ہے۔ عوامی، سماجی، دینی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ گہری ہمدردی اور تعزیت کا سلسلہ جاری ہے۔ مرحومین کی مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر کی دعائیں مانگی جارہی ہیں۔ وہیں معراج الدین کے قتل کے واقعے پر عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ بھی پایا جاتا ہے۔ اس موقع پر تھنہ منڈی کی عوام نے پولیس انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ قاتل کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے پرتشدد واقعات کی روک تھام ہو سکے۔ عوام نے قاتل کو پھانسی کی سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی ناگزیر ہے تاکہ سماج میں امن و امان قائم رہ سکے۔ ادھر پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ملزم کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ علاقے میں امن و امان کی فضا برقرار رکھنے کے لیے حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ لوگوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ جملہ مرحومین کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل سے نوازے۔