محمد ایوب بٹ۔بربرشاہ
تقدیر اندازے کا نام ہے ۔اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کی تخلیق کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے ہی ہر شٔے کی تقدیر لکھی ہے جو لوح محفوظ میں موجود ہے۔یہ لوح محفوظ کیا ہے ،پہلے اسی کو سمجھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے اپنے نور سے قلم پیدا کیا اور پھر اس قلم کو حکم دیا کہ لوح محفوظ میں ہر شٔے کی تقدیر لکھ دیں۔اس میں کائنات کی ابتداء سے قیامت برپا ہونے تک سارے حالات اور واقعات درج کئے جاچکے ہیں۔ لوح محفوظ ایک ایسی تختی ہے ،ایک ایسا دفتر ہے جس میں قرآن کریم اور تقدیر محفوظ رکھا گیا ہے۔لوح محفوظ کو اللہ تعالیٰ نے سفید موتیوں سے بنایا ہے اور اسکے صفحات سرخ یا قوت کے ہیں ۔اس کی تحریر نور سے لکھی گئی ہے۔اس کی تختی کی لمبائی زمین و آسمان کے برابر ہے اور چوڑائی مشرق اور مغرب کے برابر ۔یہ تختی عرش کے دائیں جانب ساتویں آسماں سے لٹکی ہوئی ہے۔اس کی نگرانی حضرت اسرافیل ؑ کررہے ہیں۔ایک دن تین سو ساٹھ دفعہ ربّ الکریم اس تختی کی طرف دیکھتے ہیں ۔اگر اس میں کچھ درج کرنا ہو یا تکمیل تک پہنچانا ہو تو وہ کیا جاتا ہے۔اُس وقت یہ تختی حضرت اسرافیل ؑ کے ماتھے سے ٹکراتی ہے جو احترام سے جھکا رہتا ہے۔
حضرت اسرافیل ؑ تختی کے ماتھے سے ٹکرانے کے دوران اس تختی کے اندر دیکھتے ہیں کہ ربّ نے اس میں کیا حکم درج کیا ہے۔اگر یہ حکم آسمانوں کے لئے ہو تو حضرت اسرافیلؑ کو حضرت میکائیل ؑکے سُپرد کرتے ہیں اور اگر زمین والوں کے لئے کوئی حکم ہو تو وہ حضرت جبرائیل ؑکے سپرد کرتے ہیں۔جس قلم سے لوح محفوظ تحریر کی گئی ہے،اُس قلم کی لمبائی سات سو سال کی مسافت کی لمبائی کے برابر ہے۔لوح محفوظ میں پہلے ہی سے یہ لکھا جاچکا ہے کہ دنیا میں کون نیکی کی راہ اختیار کرے گا اور کون بدی کی،کس کو جنت میں لے جائے گا اور کون دوزخ میں۔ ہر مسلمان کو تقدیر پر ایمان لانا ضروری ہے ورنہ وہ کافروں میںشمار ہوگا۔ایمان کے چھ رکن ہیں اور سب پر ایمان لانا بے حد ضروری ہے۔وہ چھ رکن یوں ہیں : اللہ کی وحدانیت پر یقین،فرشتوں پر ایمان لانا،اللہ کی کتابوں پر ایمان لانا ،رسولوں پر ایمان لانا ،قیامت کے برپا ہونے پر ایمان لانا ،اچھی اور بُری تقدیر پر ایمان لانا۔اللہ تعالیٰ نے اگر کسی کے مقدر میں تکلیف لکھی ہے تو وہ اس کو اپنی وسعت او رطاقت کے حساب سے آکر رہے گی۔جو بھی لکھا جاچکا ہے وہ ٹل نہیں سکتا۔اور جو کچھ بھی لکھا جاچکا ہے وہ ہمیں انسان کے اعمال کے مطابق لکھا جاچکا ہے۔اللہ تعالیٰ، نعوذ باللہ ظالم نہیں ہیں،اس لئے جن چیزوںکا اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے ،اُن کا اختیار بھی انسان کو دیا ہے اور جن چیزوں کا حکم نہیں دیا ہے اُن کا اختیار بھی انسان کو نہیںدیا ہے۔قرآن کریم اللہ کا کلام ہے جس میں جگہ جگہ انسان کو ہدایت کے راستے دکھائے گئے ہیں۔بُرائی اور بھلائی کے فرق کو واضح کیا ہے،اب جو انسان نیکی کے راستے پر گامزن ہوجائے تو ربّ بھی اس کو نیکی کا توفیق عطا کرتا ہے اور جو بدی کا راستہ اختیار کرتا ہے ، اُس کو ویسی ہی توفیق ملتی ہے۔ارادے اور اختیار میں ربّ نے انسان کو آزاد چھوڑا ہے۔قرآن کریم کی اس آیت پر غور کریں۔اِنَّ الّذینَ لا یُومِنونَ بِایتِ اللہ لَا یَھدیھُم اللہ وَ لھُم عذابُ الیم۔(سورۃ النحل ۔آیت۔۱۰۴)۔(ترجمہ) ’’بے شک جو لوگ اللہ کی آیات کو نہیں مانتے ،اللہ بھی اُن کو صحیح راہ تک پہنچنے کی توفیق نہیں دیتااور ایسے لوگوں کے لئے درد ناک عذاب ہے۔‘‘قرآن کریم کی یہ آیت صاف طور پر واضح کرتی ہے کہ جو لوگ نیک راہ پر گامزن ہوتے ہیں ،اُن کو اللہ نیک توفیق عطا کرتا ہے اور جو بدی کی راہ اختیار کرتے ہیں ،انہیں ویسی ہی توفیق ملتی ہے۔
تقدیر کی دو قسمیں ہیں: تقدیر مبرم اور تقدیر معلق۔ تقدیر مبرم ،تقدیر کا وہ حصہ ہے جو کسی صورت میں تبدیل نہیں ہوسکتی ،اس میں جو کچھ لکھا جا چکا ہے وہ اٹل ہے۔اس میں انسان کا کوئی اختیار نہیں۔جیسے کب اور کیسے پیدا ہوگا ،اُس کی جنس اور ساخت کیسی ہوگی،اُس کے ماں باپ کون اور کس نسل سے ہوں گے،کیا کیا صلاحیتیں لے کر پیدا ہوگا ،کب ،کہاں اور کیسے رزق ھاصل کرے گا ،کب کون سی آفت نازل ہوگی،کب اور کیسے اس کی موت ہوگی ؟وغیرہ۔ان سب میں انسان کو دخل نہیں۔تقدیر معلق، تقدیر کا وہ حصہ ہے جو بدلا جاسکتا ہے ۔اگر تقدیر میں کوئی سختی لکھی ہوئی ہے تو انسان کی تدبیروں ،جدوجہد ،صدقہ و خیرات ،توبہ اور دعائوں کی بدولت بدل کر آسانی پیدا کرسکتی ہے۔اکثر لوگ اپنی بُرائی کو ،اپنی غلطی کو بہانہ بناکر تقدیر کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔کم عقل یہ تک کہتے ہیں کہ ان کی کوشش اور جدوجہد کاکوئی فائدہ نہیں ،اس لئے کہ جنت اور جہنم کا فیصلہ پہلے ہی ہوچکا ہے،ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں،اس لئے گناہ گار کیسے تصور کئے جاسکتے ہیں۔اصل میں ایسے نادانوں کی سوچ تقدیر کے عین منافی ہے۔اس لئے کہ تقدیر اصل میں وہ علم ہے جو ربّ کو پہلے سے معلوم ہے۔ البتہ اللہ کا علم انسان کے ارادے اور خود مختاری سے نہیں ٹکراتا ہے۔اللہ کی طرف سے پہلےسے ہی لکھی ہوئی تقدیر سے انسان کی خود مختاری ختم نہیں ہوتی۔یہ کہنا کہ اللہ نے ہر فیصلہ پہلے سے ہی طے کیا ہے، غلط بیانی ہے بلکہ درست یہ ہے کہ سب کچھ پہلے سے اللہ کے علم میں ہے۔ ذرا(سورۃ الحج کی آیت ۔۱۰ )پر غور کریں: ترجمہ۔’’یہ ہے تیرا وہ مستقبل جو تیرے اپنے ہاتھوں نے تیرے لئے تیار کیا ہے،ورنہ اللہ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔‘‘ اس آیت میں صاف طور بیان کیا گیا ہے کہ جو تیرے مقدر میں لکھا جاچکا ہے ،وہ تیرے اعمال کی بناء پر ہی لکھا جاچکا ہے۔تقدیر سمجھانے کے لئے یوں مثالیں پیش کرتے ہیں: ایک استاد اپنے شاگردوں کی تربیت کرتے ہوئے پہلے ہی اندازہ لگاتا ہے کہ امتحان میں کون شاگرد اعلیٰ درجے سے کامیاب ہوگا اور کون اوسط درجے سے اور کون ناکام ہوگا۔رزلٹ آنے پر استاد کا اندازہ صحیح ثابت ہوجائے تو یہ کہنا غلط ہوگا کہ اُستاد نے ہی کامیابی یا ناکامی پہلے ہی طے کی تھی،بلکہ یہ فقط تجربے کی بناء پر اُس کا اندازہ تھا۔اسی طرح ایک ماہر ڈاکٹر اپنے علم کی بدولت یہ اندازہ کرسکتا ہے کہ فلاں مریض چند دنوں یا چند ماہ کا مہمان ہے اور اس کا اندازہ اگر صحیح ثابت ہوجائے تو یہ کہنا غلط ہے کہ ڈاکٹر نے ہی اُس کی موت لکھی تھی۔اسی طرح ایک کیمپوٹر بنانے والے کو پہلے سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ کون سا پُرزہ کون ساکام کریگا اور اس پر کام کرنے والے کو کہاں تک رسائی دی جائے گی،وغیرہ وغیرہ،یہ سب کچھ علم کی بدولت ہے۔ایک معمولی انسان اس طرح ٹھیک ٹھیک اندازہ لگا سکتا ہے تو کائنات بنانے والے ربّ کو پہلے سے اندازہ نہیں ہوگا ۔کیاربّ کا علم پوری کائنات کو گھیرے میں رکھے ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو ارادے اور اختیار کی مکمل آزادی دی ہے اور انسان کو اسکے اختیار اور آزادی میں مکمل آزاد چھوڑا ہے۔اس لئے انسان خود طے کرسکتا ہے کہ کون سا راستہ صحیح ہے کو سا غلط۔ہر انسان کی فطرت میں پیدائش سے پہلے ہی اچھے اور بُرے کی تمیز کرنے کی صلاحیت رکھی گئی ہے،اگر انسان نے اپنے اختیار کی آزادی سے بہتر راستہ چُن لیا تو ربّ اُس کو بہتر توفیق عطا کرے گا اور اگر بُرا راستہ چُن لیا تو اس کو ویسی ہی توفیق ملے گی،مگر اللہ کو علم ہے کہ وہ کون سا راستہ چُن لے گا ۔(جاری)
رابطہ9419050333: