ذبح خانہ کو انگریزی میں ’سلاٹر ہاوس‘ کہتے ہیں۔ جدید دور میں کسی بھی معاشرے کے لئے ذبح خانہ کی اہمیت صحت عامہ کے ساتھ جُڑی ہے۔ محکمہ مکانات و شہری ترقی یا سرینگر میونسپل کارپوریشن کے حکام بھی جانتے ہیں کہ گزشتہ تیس سال سے سرینگر یا دیگر اضلاع میں ذبح خانوں کی عدم موجودگی میں قصاب غیرقانونی طور پر جانور ذبح کرتے ہیں کیونکہ اس عمل میں مقامی میونسپل کمیٹیوں کا کوئی دخل نہیں رہتا۔ قصاب بے تحاشا گھروں میں ہی بھیڑوں یا دوسرے جانوروں کو ذبح کرتے ہیں اور ان کا فضلہ تنگ اور پہلے سے ناکارہ نالیوں سے بہتا ہوا ماحول کو خطرناک حد تک آلودہ بنا دیتا ہے۔
چند سال قبل جاری کئے گئے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق جموں کشمیر میں غذائی ضرورتوں کے لئے روزانہ 50 لاکھ جانوروں کو ذبح کیا جاتا ہے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ جانوروں کو کیسے ذبح کیا جاتا ہے، مسئلہ یہ بھی ہے کہ کیا ذبح کرتے وقت یہ جانور صحت مند اور لائق استعمال ہوتے ہیں کیا نہیں۔ تیس سال قبل اس بات کا تعین سلاٹر ہاوس میں ہی کیا جاتا تھا۔ ایس ایم سی کا ہیلتھ افسر بذات خود ماہرین کی ٹیم کے ہمراہ ذبح خانہ پر جاکر ایک ایک بھیڑ کا معائنہ کرتا تھا اور عام استعمال کے لئے درست پائے جانے والے جانوروں پر باقاعدہ مہر لگائی جاتی تھی۔
یہ سب سرینگر میں چوٹہ بازار کے قریب قائم سرکاری سلاٹر ہاوس میں کیا جاتا تھا۔ آج اس سلاٹر ہاوس کی جگہ ایک میریج ہال تعمیر کیا گیا ہے۔ ستم صرف یہ نہیں کہ ذبح خانہ کے لئے متبادل تلاش کئے بغیر ہی اُدھر میریج ہال بن گیا، ستم یہ ہے کہ فی الوقت یہ میریج ہال بھی صحت عامہ کے لئے بہت بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ چار منزلہ میریج ہال کے لئے ڈرنیج کا کام ادھورا چھوڑا گیا ، جسکے نتیجہ میں شادی بیاہ کی تقریبات کے وقت پیدا ہونے والا فضلہ اس گنجان آباد بستی کے لئے وبال جان بن جاتا ہے۔ عوامی خزانہ کی بربادی کا یہ سب سے نمایاں ثبوت ہے۔ ذبح خانہ کے خاتمہ نے شہر کو بیماریوں کے رُوبرو کردیا اور میریج ہال میں صفائی اور نکاس کے عدم انتظام نے اس خطرے کو دوبالا کردیا۔
ایسا بھی نہیں سرکاری گلیاروں میں یہ احساس نہیں تھا کہ جموں کشمیر میں ایک بھی جگہ سلاٹر ہاوس نہیں ہے۔ یہ باتیں طویل عرصے سے ہورہی ہیں۔ ’سلاٹر ہاوٴس مانیٹرنگ کمیٹی‘ کے اجلاس ہر سال ہوتے ہیں۔ حکومت نے جموں اور سرینگر میں جدید طرز کے دو سلاٹر ہاوٴس تعمیر کرنے کے لئے 52 کروڑ روپے واگذار بھی کئے ہیں۔ سرینگر میں 25 کروڑ روپے کی لاگت سے بننے والے سلاٹر ہاوٴس کی تعمیر کا کام جموں کشمیر پروجیکٹس کنسٹرکش کارپوریشن یا جے کے پی سی سی کو دیا گیا ہے۔ اس ضمن میں بالائی شہر کے آلوچہ باغ علاقے میں پونے تین کروڑ روپے سے ایک ڈھانچے کی بنیاد بھی رکھی گئی ۔ تاہم یہ کوئی نہیں کہتا ہے آلوچہ باغ کے باشندوں نے اس فیصلے کے خلاف نہ صرف عدالت بلکہ اعلیٰ حکام سے بھی رجوع کیا۔ کئی سال قبل اُسوقت کے مرکزی وزیربرائے آبی وسائل سیف الدین سوز نے آلوچہ باغ میں ایک جلسے سے خطاب کے دوران وعدہ کیا کہ یہاں سلاٹر ہاوٴس نہیں بنے گا۔ ایک طرف شہر اور دیہات میں انتہائی نامناسب انداز میں گوشت اور مرغ کو ذبح کرنے کا بے ہنگم رواج جاری ہے اور دوسری طرف انتظامیہ ایک مناسب اور قابل عمل منصوبہ بھی سامنے نہیں رکھ سکی ہے۔ اسی سہل انگاری اور سُستی سے تنگ آکر گزشتہ برس اگست میں اعلیٰ حکام نے ایس ایم سی کے کمشنر کو ایک اہم میٹنگ کے دوران وارننگ دی تھی کہ سلاٹر ہاوس اگست 2021 میں مکمل ہوجانا چاہئے۔ لیکن اس ڈیڈلائن کا بھی وہی حال ہوا جو دیگر اعلانات کا ہوتا ہے۔
حیرت ہے کہ جب سرینگر کوسمارٹ سِٹی بنانے کا مِشن شروع کیا گیا تو اُس ضمن میں کہیں بھی سلاٹر ہاوٴس کا ذکر تک نہیں آیا، حالانکہ جانوروں کو نامناسب ڈھنگ سے ذبح کرنے سے شہر خطرناک حد تک آلودہ ہوتا جارہا ہے۔ خود سرکاری اعدادوشمار کے مطابق صرف سرینگر سے روزانہ 200 میٹرک ٹن فضلہ پیدا ہوتا ہے۔ کُوڈے کچرے کی دوسری اقسام کے ساتھ یہ فضلہ بھی سرینگر کے ہی اژھنؔ زونی مر علاقے میں واقع ڈمپنگ سائٹ پر جمع کیا جاتا ہے۔ کوُڑے سے توانائی پیدا کرنے کے جس پروجیکٹ کی خاطر اربوں روپے واگذار ہوئے وہ ابھی تک مکمل نہیں ہوا اور اژھنؔ ڈمپنگ سائٹ سے جو عفونت اُٹھتی ہے وہ عیدگاہ سے صورہ کے ہسپتال تک فضا کو زہرآلود بنا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دس سال قبل عالمی صحت تنظیم WHO نے سرینگر کو پوری دُنیا کے 14 غلیظ ترین شہروں میں شامل کیا تھا۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق اِن شہروں میں سے دس تو بھارت میں ہیں لیکن سرینگر سب سے گندا ہے۔ یہ رپورٹ آتے ہی کشمیر کی انتظامیہ نے کئی روز تک مسلسل تردید کی اور دعویٰ کیا کہ اس نے سروے کے لئے عالمی صحت تنظیم کو کسی طرح کا کوئی ڈیٹا نہیں دیا تھا، لہٰذا سروے کے نتائج متنازعہ ہیں۔ لیکن کشمیر کے معروف سائنس دان ، جو اب اسلامِک یونیورسٹی اونتی پورہ کے وائس چانسلر ہیں، نے واقعات اور شواہد کی بنیاد پر اعلان کیا تھا کہ عالمی صحت تنظیم کا سروے بالکل درست ہے اور سرینگر واقعی دُنیا کا نہایت غلیظ اور گندہ شہر بن چکا ہے۔
اخباروں میں سُرخیاں چھپوانے اور شاہراہوں پر ہورڈنگ لگوانے سے سرینگر سمارٹ سٹی نہیں بنے گا، اس کے لئے آلودگی اور عفونت کے بنیادی ذرایع کا سدباب کرنا ہوگا اور اس میں جدید ترین سلاٹر ہاوٴس کی تعمیر سرفہرست ہے۔
(رابطہ : 7780882411,9469679449 [email protected])