تیرے جمال کی تصویر کھینچ دوں لیکن
زبان میں آنکھ نہیں آنکھ میں زبان نہیں
(جگر مرد آبادی)
تصور کا خیال بذات خود ایک بڑے خیال کا محتاج ہے اس خیال کا جس کا تصور خود میں ایک خام نقشے کا حامل ہوتا ہے جس کا بنیادی خمیر شخص کی تخلیق میں پوشیدہ رہتا ہے کسی شئے کا تصور قائم کرنا گویا ایک تعمیر کے مانند ہے اس تعمیر کے مانند جس کے تمام حلیے کا احاطہ کرنا تصوّر سے تصویر تک کی ضمانت فراہم کرتا ہے ۔ تصوّر کا عمل ذاتی طور پر انسان کی اختراع اور انکشافات کا لامحل عمل ہے جس میں ہزار پرتیں پوشیدہ بھی ہیں اور عیاں بھی پوشیدہ اس صورت میں کہ تصوّراتی خاکہ ایک ڈھانچے کا متمنی ہونا چاہتا ہے جس میں نقش فہم کی ضرورت محسوس ہوتی ہے ۔
تصوّر سے تصویر تک کا سفر لامتناہی ہوتا ہے جس کی نسبتیں کبھی واقعاتی ثابت ہوتیں ہیں اور کبھی خیالیاتی لیکن تصوراتی عمل کا آسانی سے گزر جانا بھی سہل نہیں ہے مشکلوں کا سفر طے کرنے کے بعد بھی اس راستے سے چھٹکارہ نہیں ملتا۔ ایک شخص عمر پیری میں لڑکپن کی تصویر کو ہاتھوں میں لے کر عجیب صورت حال اور وسوسے کا شکار ہو جاتا ہے اور غیر سا لمیت کے انداز میں یاد ماضی کے تمام اوراق کو الٹتا جاتا ہے یہاں تک کہ حال سے بھی کچھ مدت تک نا آشنا ہو جاتا ہے ۔ اسی طرح جس طرح ایک معصوم بچہ معصومیت کے ساتھ اس لئے روتا ہے تاکہ اس سے گھر کے افراد یہ کہئے کہ وہ عمر میں چھوٹا نہیں بلکہ بڑا ہے اس بڑا ہونے کی تصوّر کاری میں یہ چھوٹا بچہ خود کو خود کفیل اور نفسیاتی سطح پر بالغ سمجھ کر خوشی سے پھولے نہیں سما پاتا ہے ۔ بزرگ اشخاص ( مرد اور عورت) اکثر ان ہی تصوروں میں کھو جانا چاہتے ہیں جو انہیں نوجوانی کی دنیا کی سیر پر لے جاتے ہیں جہاں خود کو بچانے کے لئے وہ جھوٹ پر جھوٹ بولے جاتے تھے ، اپنوں کے لئے دنیا سے لڑنے کی خاطر جان دینے پر آمادہ ہو جاتے تھے ، جہاں نقش فریادی کی تلاش حسین پہلوؤں میں کی جاتی تھی، جہاں رقیبوں کا راستہ تکا جاتا تھی جہاں دشمنی خرید لی جاتی تھی ، جہاں محبوب کی خاردار گلی گلشن نو بہار معلوم ہوتی تھی ،جہاں بہتے دریا کوپار کرنا بائیں ہاتھ کا کھیل سمجھا جاتا تھا، جہاں آدمی خیالی سسرال قائم کر کے لذیز دعوتیں مزے لے لے کر کھایا کرتا تھا، اپنی بانہوں کو ہوا میں وا کر کے خیالی محبوب سے چمہ چاٹی کر کے بچوں کی پیدائش کا منتظر رہتا تھا۔ جہاں نفع اور نقصان سے بالاتر ہو کر ہر سودے کا سر سے گزر جانا ضروری تھاجس کی صفتیں لازوال ہوتیں تھی جنھیں احساسی سطح پر پر کرتے لرتے آدمی زوالے آدم کے راستے سے بھی گزرنالازمی سمجھتا تھا پھر مجبوری ہی نہیں محبوبی سمجھ لیتا تھا جہاں اگر موت بھی مفت ہاتھوں ملے تو ہاتھوں ہاتھ لینے کے لئے تیار ہو جاتے تھے ۔
یادوں کی بوچھاروں سے جب پلکیں بیگھنے لگتی ہے
سوندھی سوندھی لگتی ہے تب ماضی کی رسوائی بھی
(گلزار)ؔ
اس تصور یا تصویر کاری کا دوسرا رخ بھی قدرے مختلف ہے جہاںحضرت آدم نوجوانی کی دہلیز کو خیر آباد کہنا ہی نہیں چاہتا ہے بلکہ یوں کہیے خود کو جوان ہی رکھنا چاہتا ہے یہاں تک کہ ہر تدبیر اپناتا ہے ۔ ظاہری نمود و نمائش تک یہ تمام تدبیریںساتھ تو دیتیں ہیںلیکن حیایاتی نظام کا کیا کیجئے جو ہر سچائی کو ظاہر کر ہی دیتا ہے اور آدمی بے چارہ ’’دور کے ڈھول‘‘ کی خفیف سی خاموشی اور مسکراہٹ کے سایے تلے دب جاتا ہے ۔ جو ظاہر کو ظاہر کر کے ہی چھوڑ دیتا ہے ۔
تصوّر کو تصویر پر اسی صورت میں لانا جس صورت میں اس کا تقاضا محوی خیال چاہتاہے بہرحال مصور کے لئیے مشکل کام ہے ۔اس دوران مصوّر کو بہت سارے لوگوں کی گالیاں بھی مخاصمت کی صورت میں پڑتی ہیں ۔ اور گالیاں بکنے والا شخص بنیادی طور پر اپنی ان نفسیاتی الجھنوں کو دور کرنا چاہتا ہے جن سے وہ تصویر کو دیکھنے کے عمل سے گزرتا ہے، جہاں اس کا سارا جوش اور غصہ مصوّر کی لن ترانیوں میں گزرتا ہے حالانکہ حق تو یہ ہے کہ مصوّر معصوم اور بے گناہ ہی ثابت ہوتا ہے ۔
لگتا ہے کئی راتوں کا جاگا تھا مصور
تصویر کی آنکھوں سے تھکن جاگ رہی ہے
قصور اگر ہے تو اس تصوّر کا جس کا حلیہ تصویر میں موجود نظر نہیں آرہا ہے یا یوں کہیے کہ وقت کا جس نے تصویر کے عکس میں بند ہونے والے شخص کو حقیقت کا آئینہ دیکھایا ہے اور شخص ہے کہ مانتا نہیں۔ آدمی کی نفسیاتی کمزوریوں کا احساس اس وقت عیاں ہو جاتا ہے جب ماضی کی کسی خوبصورت تصویر کو ہاتھوں میں لیکر بغور وہ اس کو قریب سے دیکھ دیکھ کر اندر ہی اندر خوشی سے پھولے نہیں سما پاتا اور بار بار بغل میںبیٹھے ساتھی کویوں بلند آواز میں اشارہ کر کے کہتا ہے ’’دیکھو میں کتنا خوبصورت تھا کس قسم کے گال تھے ، میری آنکھیں اُف، میری وجاہت، میری چال ڈھال، میرا دبدبہ، میرے عنبری بال۔‘‘ ماضی کو یاد کر کے اصل میں آدمی حال کی اس حقیقت پر پردہ ڈالنا چاہتا ہے جو مستقبل قریب اس سے کسی اور دنیا کی طرف منتقلی کا واضح اور صاف اشارہ کرنے جارہا ہے جس سے اکثر لوگ خوف کھاتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ مگر اس حق کا کیا کیجئے جس کی حقیقت ازل سے یہی طے ہے کہ آدمی کو جان سے ہاتھ دھونا ہی ہے چاہئے وہ عالم غربت میں ہو یا امیری کے مزے لوٹ رہا ہو، نوجوانی کے حسین لمحے گزار رہا ہو یا عمر پیری میں داخل ہونے کو ہے ۔ بچپن سے لیکر بڑھاپے تک کی جتنی بھی تصویریں کمرے کی مدد سے اتاری گئی ہیں ان تمام کا احاطہ کرنے پر یہی معلوم ہوگا کہ آدمی کتنا بدل جاتا ہے ظاہر ی وجود کے ساتھ ساتھ باطنی دنیا میں بھی ہزار تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جن کا ظاہری تصوروں میں نظر آنا مشکل ہے اندرونی تبدیلیوں کا اگر احساس ہے تو وہ صرف متعلقہ شخص کو جس کے تصوراور تصویروں کا غائبانہ ذکر ہو رہا ہے ۔ ؎
ذکر جب چھڑ گیا قیامت کا
بات پہنچی تیری جوانی تک
(غالب)
تصویر کھینچنے کے لیے اکثر بیک گراونڈکو ٹھیک طریقے سے سنھبالا جاتا تھا ۔ڈیجٹل ورلڈ کی آسایشوں سے قبل تصویریں اتارنے کو ہنر کچھ خاص لوگوں کو ہی آتا تھا جو گلی گلی ، شہر شہر ، کوچہ کوچہ اپنا فوٹو سٹڈیو قائم کر لیتے تھے حالانکہ آج بھی کہیں کہیں پر موجود ہیں لیکن تب کی بات الگ تھی ۔ تصویریں جاناں کو دیکھنے کے لیے منتظر آنکھیں اور وہ انتظار کی راتیں اس وقت ختم ہوجاتی تھیں جب نامہ بر کی مہر بانیاں راس آتی تھیں ۔
تصور سے تصویر تک کے عمل سے نہ صرف مصور بے خبر رہتا ہے بلکہ خود وہ شخص بھی جس کی تصویر اتاری جارہی ہے وہ جس منظر نامے یا جس صورت کو قید کرانے کا متمنی ہوتا ہے وہ قید نہیں ہوپاتی ہے جس کا افسوس جناب کو عمر بھر رہتا ہے حالانکہ لمحہ برابر وہی ہے ، ماحول چاہت کے مطابق ہے ، کیمرہ بالکل نئی آن بان کے ساتھ نئے تکنیکی اصولوں سے لیس لیکن پھر بھی نہ جانے کیوں وہ تصور تصویر میں قید نہیں جس کا وہ متمنی ہوتا ہے ۔شعرا حضرات اکثر کہتے رہتے ہیں کہ دیکھنے کے قابل وہ لمحات ہوتے ہیں جن میں راز و نیاز اور وعدے وفا یا اظہار الفت کا لمحہ موجود ہو ۔بقول نظیر اکبر آبادی
تیری تصویر تو وعدے کے دن کھینچنے کے قابل ہے
کہ شرمائی ہوئی آنکھیں ہیں گھبرایا ہوا دل ہے
(اسسٹنٹ پروفیسر ڈگری کالج حاجن)
������