تربیتِ اطفال

 عمیمہ: علی بیٹا آخر کیا مسئلہ ہے آپ کے ساتھ! آپ تو خوشی خوشی اسکول جاتے تھے۔ آج کل حریم بیٹا اسکول وین میں تو کوئی بچہ اسے تنگ نہیں کرتا؟
حریم: نہیں مما… میں تو اس کا وین میں بھی بہت خیال رکھتی ہوں۔
مما: پھر کیا بات ہے کہ وہ اسکول سے اتنا بیزار ہوگیا ہے! کہیں کلاس میں تو کوئی بچہ اسے تنگ نہیں کرتا؟ خیر مجھے ضرور اسکول جانا چاہیے، اس کی میڈم اور کلاس ٹیچر سے بات کرنی چاہیے۔
٭٭٭
عمیمہ خود ایک پڑھی لکھی اور تعلیم و تدریس سے وابستہ ماں تھی، وہ جانتی تھی کہ آج کل علی اسکول جانے سے جس طرح کترا رہا ہے اور صبح کو اسکول جاتے ہوئے روتا اور مچلتا ہے اس کے پیچھے ضرور کوئی وجہ ہوگی۔ علی کا ہوم ورک وہ خود اسے کرواتی ہے، علی ذہین بچہ بھی ہے، اپنا سبق بھی اچھی طرح یاد کرکے جاتا ہے، پھر کیا وجہ ہوسکتی ہے! وین میں بھی کوئی مسئلہ نہیں۔
٭٭٭
اگلے دن وہ اپنے اسکول سے سیدھی علی کے اسکول پہنچی۔ ابھی چھٹی میں آدھا گھنٹہ باقی تھا۔ میڈم اسے بہت اچھی طرح جانتی تھیں، اس نے ساری صورت حال میڈم کے ساتھ شیئر کی اور کہا کہ میں اس کی کلاس ٹیچر سے اس سلسلے میں ملنا چاہتی ہوں۔ میڈم ایک دم گھبرا گئیں اور فوراً اس کی بات کاٹ کر کہنے لگیں: اوہو…آپ نے کیوں زحمت کی! مجھے فون کرلیتیں، بے کار میں آپ کو تکلیف اٹھانا پڑی… اور سنائیے آپ کیسی ہیں، ملازمت کیسی چل رہی ہے؟
عمیمہ: الحمدللہ، بس میں علی کی وجہ سے پریشان ہوں، اگر اس کی کلاس ٹیچر سے بات ہوجاتی تو…
میڈم: (بات کاٹتے ہوئے) ویسے بھی کلاس ٹیچر اس وقت کلاس میں ہے، اس وقت تو بات بھی نہیں ہوسکتی آپ کو تو معلوم ہے کہ…
عمیمہ: ٹھیک ہے (گھڑی میں دیکھتے ہوئے) چھٹی میں آدھا گھنٹہ ہے، میں انتظار کرلیتی ہوں، پھر بار بار میرا آنا مشکل ہوگا۔
میڈم: اگلے ماہ میٹنگ ہے، آپ ضرور آئیے گا، اس سلسلے میں بھی بات ہو جائے گی (یوں لگ رہا تھا کہ وہ کسی صورت میں بھی کلاس ٹیچر سے بات کروانے پر راضی نہیں)۔ مجبوراً عمیمہ نے میڈم کو خدا حافظ کہا اور آفس سے باہر آگئی۔ اسکول کے گیٹ سے نکلتے نکلتے اس نے ایک آیا سے پوچھا: کلاس II کہاں ہے؟ (اس کی بیٹی حریم کلاس II میں پڑھتی تھی)
آیا نے سامنے اشارہ کرکے کہا وہ سامنے کلاسII ہے۔ عمیمہ نے اِدھر اُدھر دیکھا، کوئی نہ تھا، وہ فوراً کلاس II کی طرف بڑھ گئی، حالانکہ وہ جانتی تھی کہ یہ بداخلاقی ہے، لیکن وہ سوچنے لگی چلو آگئی ہوں تو حریم کی ٹیچر سے بھی بات کرتی جائوں۔ جیسے ہی وہ کلاس روم کے دروازے پر پہنچی، ٹیچر اسے دیکھ کر لپک کر آئی اور بڑے جوشیلے انداز میں اسے سلام کیا اور کہا: میڈم آپ کیسی ہیں۔
ٹیچر کا یہ والہانہ انداز اس کی سوچ کے برخلاف تھا۔ وہ حیرانی سے ٹیچر کو دیکھنے لگی۔
ٹیچر: مس میں آہلہ ہوں، آپ نے مجھے نویں کلاس میں پڑھایا تھا، لیکن آپ یہاں؟
عمیمہ: میری بیٹی آپ کی کلاس میں ہے، حریم نام ہے۔
ٹیچر: ماشاء اللہ بہت ذہین بچی ہے، لیکن آپ کس سلسلے میں ملنا چاہتی ہیں مس؟ مجھے تو اس سے کوئی شکایت نہیں۔
عمیمہ: بیٹا میں دراصل علی کی وجہ سے آئی ہوں (پھر عمیمہ نے تمام بات ٹیچر کو بتائی)۔
ٹیچر: اوہ… مہربانی فرما کر مس، آپ علی کو اس اسکول سے… میرا مطلب ہے (اِدھر اُدھر دیکھ کر) علی کی ٹیچر کی ہر روز شکایات آتی ہیں، وہ بے دردی سے ان معصوم بچوں کو مارتی پیٹتی ہے، میڈم کی رشتہ دار ہے اس لیے میڈم والدین کو اس سے ملنے نہیں دیتیں، بچے اس سے کانپتے ہیں۔ آپ شہر کے اتنے بڑے اسکول میں پڑھاتی ہیں،اپنے بچوں کو وہاں کیوں نہیں داخل کرواتیں…! کم از کم علی کو تو مس یہاں سے لے جائیں۔ آپ خود اُستاد ہیں، آپ کا رویہ ہمیشہ اپنے شاگردوں سے مشفقانہ رہا ہے بلکہ تمام اُستادوں کا بھی۔
عمیمہ آہلہ کی گفتگو سے سمجھ گئی کہ علی کیوں اسکول آنے سے کتراتا ہے۔ اب تو اُس کا علی کی ٹیچر سے ملنا بہت ضروری تھا، لہٰذا وہ آہلہ کو خدا حافظ کہہ کر باہر آئی۔ وہ آیا اسے راہداری میں ہی مل گئی جس نے اسے علی کی کلاس کا پتا بتایا۔ عمیمہ کلاس روم کے پاس پہنچی تو عجیب سماں تھا، گرمی اور لو میں کمرے کے پنکھے اور لائٹ بند تھے، صرف ایک پنکھا ٹیچر کی کرسی کے اوپر چل رہا تھا جہاں ٹیچر بیٹھی تھی، تمام معصوم بچے جیسے انہیں ’’سانپ سونگھ گیا تھا‘‘ کے مصداق خاموش بیٹھے تھے۔ عمیمہ کو دیکھ کر اس نے بڑی ناگواری اور خرانٹ لہجے میں کہا: فرمائیے!
عمیمہ: میں علی کی والدہ ہوں۔
ٹیچر: (عمیمہ کی بات کاٹ کر بڑی بدتمیزی سے) اوہو… علی انتہائی سست و کاہل بچہ ہے، نہ ہوم ورک کرکے آتا ہے اور نہ اس کے پاس پنسل، ربر، شاپنر وغیرہ ہوتا ہے، کچھ کہو تو روتا ہے۔
عمیمہ ایک سمجھ دار ماں تھی، فوراً معاملے کو بھانپ گئی لیکن وہ معاملہ بگاڑنا نہیں چاہتی تھی، لہٰذا بڑی بردباری سے کہا: آج اس نے ہوم ورک نہیں کیا تھا؟ علی بیٹا یہاں آئیں۔ اس نے ٹیچر کے سامنے علی کا بیگ کھولا۔ تینوں ہوم ورک کاپیاں بیگ میں تھیں، اس میں ہوم ورک بھی کیا گیا تھا۔
ٹیچر: (غصے سے) بدتمیز بچہ… میں مسلسل چیخ رہی تھی کہ ہوم ورک کیا ہے تم نے؟ جواب ہی نہیں دے رہا تھا۔ علی تم نے بتایا کیوں نہیں کہ ہوم ورک کیا ہے اور… اور اس کے پاس اسٹیشنری بھی نہیں (ٹیچر نے اپنی بات کو سنبھالنے کے لیے کہا)۔
عمیمہ نے بیگ کی تمام چیزیں انڈیلیں۔ جومیٹری بکس پورا بھرا ہوا تھا۔ دو پنسلیں، دو ربر، شاپنر، اسکیل، کلر پنسلیں بلکہ ایکسٹرا سامان اس کے پاس تھا۔
ٹیچر اس صورت حال پر بجائے شرمندہ ہونے کے، بھنّا رہی تھی۔ عمیمہ ٹیچر کو شرمندہ نہیں کرنا چاہتی تھی، نہ معاملہ بگاڑنا چاہتی تھی، لہٰذا انتہائی صبر و تحمل سے اس نے نرم لہجے میں کہا: میں معذرت چاہتی ہوں کہ میرا بیٹا آپ سے تعاون نہیں کررہا ہے۔ میں فلاں اسکول میں ٹیچر ہوں، تمام بچے ایک سے نہیں ہوتے۔
ٹیچر نے جب علی کی والدہ سے اس کے اسکول کا نام سنا تو ایک دم اس کا لہجہ ہی بدل گیا۔ تھوڑی دیر پہلے وہ بھنا رہی تھی اب ایک دم ٹھنڈے لہجے میں کہنے لگی: میں اس سے کہتی ہوں کہ ہوم ورک کاپیاں نکالیں تو یہ خاموش رہتا ہے، بتاتا ہی نہیں کہ اس کے پاس کاپیاں…
عمیمہ: مہربانی فرماکر آپ میرے ساتھ تعاون کریں، کچھ بچے ایسے ہوتے ہیں۔ اس کے پاس ہر چیز موجود ہوتی ہے، ہوم ورک بھی کرکے آتا ہے، سبق بھی یاد ہوتا ہے۔ یہ ایک ذہین بچہ ہے، آپ کے تعاون سے ہی میرا مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔ میں امید کرتی ہوں کہ آپ کے تعاون سے میری پریشانی ختم ہوجائے گی۔ پھر اس نے دوستانہ ماحول میں ٹیچر سے اجازت لی۔ عمیمہ کے اس مثبت اقدام کی وجہ سے چند ہی دنوں میں نمایاں فرق نظر آیا۔ علی اب خوشی خوشی اسکول جانے لگا۔ اگلے ہفتے عمیمہ اپنے اسکول سے واپسی پر خاص طور پر علی کی ٹیچر سے ملنے گئی اور اس کا شکریہ ادا کیا۔
مذکورہ بالا قسم کے واقعات سے اکثر والدین کو واسطہ پڑتا ہے۔ بعض والدین اسے نظرانداز کرتے ہیں، یعنی صحیح وجوہات جاننے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ اپنے بچوں کو ہی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور ڈانٹتے مارتے ہیں کہ وہ اسکول نہیں جا رہے۔ والدین کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ ایسے موقعوں پر بچے سے دوستانہ رویہ رکھتے ہوئے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ یہاں مذکورہ واقعہ میں عمیمہ کو بعد میں معلوم ہوا کہ ٹیچر نے بچوں کو سختی سے کہا تھا کہ خبردار اگر گھر میں جاکر مائوں کو بتایا تو اور ماروں گی۔ اس لیے علی ماں کے دوستانہ رویّے کے باوجود ماں کو اصل واقعہ بتا نہیں پا رہا تھا۔ عمیمہ ایک سمجھ دار ماں تھی کہ وہ اس واقعہ کی تہ تک پہنچی، اور اپنے مثبت اور بردبار رویّے کی بدولت مسئلے کو حل کرلیا۔یہاں میں اساتذہ اور والدین سے گزارش کروں گی کہ بچوں کے ساتھ بے جا سختی ان کی شخصیت میں توڑ پھوڑ پیدا کرتی ہے۔ مناسب موقعوں پر تھوڑی بہت سختی جائز ہے، لیکن ہر وقت ڈنڈا لے کر ان کی اصلاح نہیں کی جاسکتی۔
اساتذہ والدین کا درجہ رکھتے ہیں، انہیں بھی شاگردوں کی بھلائی اور اصلاح کے لیے والدین جیسا ہی رویہ اپنانا چاہیے، یعنی اعتدال کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ میں نے اپنے زمانۂ درس و تدریس میں اس بات کا مشاہدہ کیا کہ اساتذہ کا مشفقانہ رویہ بچوں کو ان کے قریب لاتا ہے اور بچے ان ہی اساتذہ کے مضامین میں بھی دلچسپی لیتے ہیں۔ جماعت ششم کا ایک بچہ جس کی تمام استانیاں شکایت کرتی تھیں اور اسے ہر وقت مجبور ہوکر ڈانٹتی مارتی تھیں، وہ دن بہ دن پڑھائی سے دور ہوتا گیا۔ جب وہ بچہ میری کلاس میں آیا تو اس کی والدہ نے سمجھیں کہ رورو کر اپنا مسئلہ مجھ سے بیان کیا۔ میں نے اس بچے پر خصوصی توجہ دی، ہلکی پھلکی سختی کے ساتھ پیار و محبت کا رویہ رکھا، جس کا نمایاں اثر ماہانہ ٹیسٹوں میں نظر آیا، وہ میرے تینوں مضامین میں اچھے نمبروں سے پاس ہوا۔ اس کی والدہ نے مجھے بتایا کہ وہ آپ کا دیا ہوا ہوم ورک بڑی دلچسپی سے کرتا ہے اور سبق بھی دھیان سے یاد کرتا ہے۔ یہ وہی بچہ تھا جسے اکثر ٹیچرز نارمل بھی نہیں سمجھتی تھیں۔
آج کل میڈیا کی خرافات نے ہمارے آس پاس ماحول کو گمبھیر قسم کی برائیوں میں جکڑ دیا ہے۔ ایسی برائیوں سے بچانے کے لیے والدین اور اساتذہ کا بچوں کے ساتھ دوستانہ رویہ لازمی ہونا چاہیے، تاکہ کہیں بھی اگر خدانخواستہ کوئی ’’انہونی بات‘‘ بچوں کے ساتھ پیش آرہی ہے ،تو وہ والدین اور اساتذہ سے شیئر کرسکیںاور والدین کو بھی یہ نوٹ کرتے رہنا چاہیے کہ بچوں کے رویوں میں کوئی تبدیلی تو نہیں آرہی؟ اگر ایسا ہو تو اس کی وجوہات تلاش کریں، اور دانش مندی کے ساتھ انہیں اعتماد میں لیں تاکہ بر وقت ان کی مدد کی جا سکے اور انہیں سمجھایا جا سکے۔دورانِ درس و تدریس ہم چند ٹیچرز کے مشفقانہ رویّے کی وجہ سے طالبات ہم سے اپنے نجی مسائل اور پریشانیاں شیئر کرتی تھیں، جن کے حل کے لیے ہم کوشش کرتے۔ اسی طرح میں نے اپنے بچوں کے ساتھ بھی دوستانہ لیکن اعتدال کے دائرے میں رویہ رکھا، جس کی وجہ سے وہ مجھ سے ہر بات شیئر کرتے ہیں۔ میں بار بار مائوں کو یہی تاکید کرتی ہوں کہ بے جا سختی بچوں کو آپ سے دور کردیتی ہے اور اس حالت کی وجہ سے بچے اکثر مسائل میں گھر جاتے ہیں۔ ان کی بات توجہ سے سنیں، ان کی بات کو اہمیت دیں۔ چونکہ اساتذہ کرام بھی بچے کی زندگی میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں، اس لیے وہ ان کی کردار سازی میں مثبت کردار ادا کرسکتے ہیں۔ لہٰذا وہ بھی اعتدال میں رہتے ہوئے شفقت بھرا رویہ بچوں کے ساتھ روا رکھیں کہ بچے اسکول آنے سے گھبرائیں نہیں بلکہ خوشی خوشی آئیں اور پڑھائی میں دلچسپی لیںاور خدانخواستہ ان کے ساتھ اسکول میں یا اسکول کے باہر کوئی غیر معیاری یا انہونی بات ہو تو وہ اساتذہ سے شیئر کریں۔ اس طرح اساتذہ والدین کے ساتھ مل کر اس مسئلے کو حل کرسکتے ہیں۔ اسی لیے ہر معاشرے میں والدین اور اساتذہ کرام بڑی اہمیت کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔
