بے حیائی کی تشہیر ۔بُرائیوںکی دعوت | حیاء انسان کی ضیا اور خاصانِ خدا کی علامت

دنیا میں جو بھی انسان پیدا ہوتا ہے ،فطرتاً مسلمان پیدا ہوتا ہے۔ اسکے بعد اس کی پرورش کرنے والوںپر منحصر ہوتا ہےکہ اُسے کیا بنایا جائے۔اس کے والدین جس مذہب کے ہوں گے، مسلم ہو ں یا غیر مسلم تووہ اس بچے کو بھی وہی بنایا جائے گا۔اللہ نے چونکہ ایک انسان کے اندر دو چیزیں رکھیں، ایک نیکی کا مادہ اور دوسرا بدی کا عنصر۔ دونوں کے رجحانات رکھ دئے گئے ہیں۔ہر انسان ان دونوں کو اپنے اندر محسوس کرتا ہے۔یہ کوئی لاعلم چیز نہیں ہے بلکہ اللہ نے پہلے ہی انسان کو نیکی اور برائی میں تمیز کرنے کا شعور رکھا ہے۔اس نے انسان کو دو راستے دکھائے، ہدایت کا اور گمراہی کا بھی۔ اب انسان کی اپنی مرضی ہے کہ وہ کس راستے کو اختیار کرے۔ انسان شکر کرے یا کفر دونوں کا انجام روزِ قیامت دیکھے گا۔ انساان کے اندرجو نفس رکھا گیا ، اُس کی تین قسمیں ہیں: نفس عمارہ ، نفس لوامہ اور نفس مطمئنہ۔ اب انسان کو اس پر خود غور و فکر کرنا چاہئے کہ میں کہاں ہوں ،مجھ پہ کون سا نفس حاوی ہے کیونکہ انسان خود کو بخوبی جانتا ہے۔اللہ نے تو ہمارے لیے وہ سب کچھ مہیا ر رکھا جو کہ ہماری ضروریات ہیں۔لیکن ایک انسان اصلی انسان تب کہلایا جائے گا، جب وہ حسن اخلاق اور شرم و حیا کا پیکر ہوگا۔ کیونکہ ایک حدیث مبارکہ میں آیا ہے: ایمان کی ستر سے زیادہ شاخیں ہیں اور حیا بھی ان میںسے ایک شاخ ہے۔ حیا انسان کی ضیا ہے۔ اگر انسان کے اندر حیا نہ ہو تو وہ ایمان کے دائرے سے خالی ہے ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس انسان کو حیا نہ ہو پھر وہ جو چاہے کر لے یعنی جب حیا چلی جاتی ہے تو انسان کا سب کچھ ختم ہوجاتا ہے ۔ پھروہ جانور کی طرح زندگی گزانا شروع کر دیتا ہے ۔اللہ نے حیا کو انسان کی فطرت میں رکھا ہے۔اگر ہم اپنے صحابہ کرام اور اپنے رہبر و رہنما جناب نبی برحق صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ پر نظر ڈالتے ہیںتو بالکل عیاں ہوجاتا ہے کہ آپؐ کو کتنے حیا دار تھے۔آپ کی دخترحضرتِ فاطمہ رضی اللہ عنہا کتنی حیا دار تھیں ۔لیکن آج ہم بے حیائی میں اتنے ملوث ہوچکےہیں کہ اپنے رہبر و راہنما پیغمبر آخرالزماں ؐکی سیرت کو بھی بھول گئےہیں۔
ہمیں نہ صرف لوگوں سے حیا کرنا چاہئے بلکہ اللہ تعالی زیادہ مستحق ہے کہ اُسے حیا کی جائے نہ کہ ہم تنہا ہو کر یہ سوچے کہ ہم جو چاہیے کرلے، ہمیں کوئی نہیں دیکھتا ۔اللہ تو علیم بذات صدور ہے، وہ بصیر ہے، وہ سب کچھ دیکھتا اور جانتا ہے ۔لہٰذا ہمیں اللہ سے اسطرح حیا کرنی چاہیے کہ اگر ہم کہیںتنہا بیٹھے ہوئےہونگے تو ہمیں ذہن میں یہ بات ہونی چاہئےکہ اللہ مجھےدیکھ رہا ہے،تو یہی چیز انسان کو ہربےحیائی سے روک سکتی ہے۔جب انسان کو یہ یاد رہے کہ قیامت کے دن اللہ کی پکڑ ہوگی تو انسان برے کاموں سے بچ جائے گا۔ کہیں پر ہم بے حیائی کی باتیں کرکے بےحیائی کو فروغ دے رہے ہوتے ہیں ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :جس قوم میں بے حیائی عام ہوجائے حتیٰ کہ اسکی تشہیر کی جائے تو جان لو کہ اللہ تعالی اس قوم میں ایسی بیماریاں نازل کر دیتا ہے کہ جن کا اِسے پہلے اُنکے آباء واجداد نے نام نہیں سنا ہوگا۔آج تو ہم دیکھ رہےہیں کہ کتنی لا علاج اور مہلک بیماریاں دنیا میں جنم لے رہی ہیں۔ جن کا نام سنتے ہی انسان کا دل کانپ جاتا ہے ۔کورنا وائرس جس نے عالمی سطح پر لوگوں کو گھیر لیا، یہ سب کچھ بے حیائی اور اسکی تشہیر کو فروغ دینے کا ہی نتیجہ ہے۔اگر ہم معمولی صابن کی ٹکیہ کو دیکھیں گے تواُس کے ویپر پر بھی عورتوں کی برہنہ تصویریں لگی ہوتی ہیں۔آجکل کے بیشتر اخباروں میں بے حیائی کی کھلے عام تشہیر کی جارہی ہے ۔وہ لوگ اپنا آخرت خراب کر کے اس فانی دنیا کیلئے اپنے نفس کی بھوک مٹانے کی خاطران کی تشہیر کرتے ہیں۔بے حیائی چاہے کسی بھی طرح پھیلائی جائے تو پھیلانے والے لوگ بہت بڑے مجرم ہیں،ایک تو وہ لوگ دنیاوی سزا کے مستحق ہیں اورانہیں آخرت میں بھی عذاب الیم دیا جائے گا۔ کیونکہ سورہ النور میں (آیت ۔۱۹) میںآیا ہے کہ ’’یاد رکھو جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بے حیائی پھیلے، اُنکے لیے دنیا و آخرت میں درد ناک عذاب ہے‘‘۔
جو بھی لوگ فحش فلموں،نازیبا فلمی گانوں اوردیگر گندی تصویروں کی تشہیرسے سوشل میڈیا کے ذریعے بے حیائی کو فروغ دینے کی کوشش کرتے ہیں اورانہیں بے حیائی اور بدکاری کے اڈے بنانے میں مصروف ِعمل ہیں، وہ بہت بڑےسزا کے مستحق ہیں۔ یہاں تو مخلوط رقص اور تفریحات کے انتظام سے بے حیائی کو عام کیا جارہا ہے ۔لہٰذا ہر فرد کو یہ حق ہے کہ وہ انفرادی طور پر اس بےحیائی کو روک دے تاکہ اجتماعی زندگی میں نقصان نہ اٹھانا پڑے۔اجتماعی طور پر بھی عوام الناس اسکی روک تھام کیلئے سخت سے سخت قدم اٹھانے چاہئے تاکہ کسی کو بےحیائی کی تشہیر کرنی کی مجال نہ رہے ۔جب ایک کو سزا ملے گی تو وہ باقیوں کیلئےباعث عبرت بن جائے گی ۔ اہل علم کو اسکی طرف خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔علماء حضرات کے لئے باقی مسئلوں میں اُلجھنے سے بہتر ہے کہ اس بات کی طرف توجہ کریںکیونکہ لوگ آج پھر سے دورِ جہالت کی جانب چلے جارہے ہیں ۔جیسے اُس زمانے میں عورتوں کی خرید و فروخت کی جاتی تھی، اسکو سجا کے غیر مردوں کے سامنے رکھا جاتا تھا اور اسے تمتع اٹھا کر پیسے وصول کئے جاتے تھے، آج پھر سے وہی کچھ صنف نازک کے ساتھ کیا جارہا ہے ۔ سیکس انڈسٹریاں بنائی گئی ہیںاور اُن پر کروڑوںروپے خرچ کئے جارہے ہیں، یہ محض اسلئے کہ بے حیائی عام ہوجائے ۔ امریکہ میں اگر دیکھا جائے تو وہاں کثرت سے بچے جنسی زیادتیوں کے شکار ہوتے ہیں اور ان حوس پرستوں نے عورت کی عزت کو تار تار کرکے اسکو بے پردہ کر دیا ہے۔
بے حیائی کی قرآن پاک میں سخت مذمت کی گئی ہے ۔حیا انسان کو بُری اور رزیل خصلتوں سے بچاتا  ہے ۔لیکن نفس پرست لوگوں نے عورت کو اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے استعمال کیا جو کہ اسلام نے منع کیا ہے۔ عورت نام ہی پردے کا ہے۔یہ ہیرا اور موتی ہے لہٰذا اسکو چھپانا ہی فرض ہے ۔یہ قوم کی بلندی اور ترقی کا راز اور خاندانوںکی وقار ہے ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت پردے میں رہنے کی چیز ہے کیونکہ جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اسے بہکانے کیلئےموقع تلاش کرتا ہے (ترمذی )
یہ بہت بڑے المیہ اور افسوس کی بات ہے کہ اخباروں میں صنف نازک کی تشہیر کرکے اسکو پیسا کمانے پہ اُکسایا جاتا ہے ۔ ایک باپ اور بھائی بے حیائی کو ایسے فروغ  دیتا ہے جیسے انکے گھروں میں عورتوں نے جنم ہی نہیں لیا ہوتا۔اگر مرد کو غیر محرم خاتون کی طرف نظر اٹھانے کو منع کیا گیا ،پہلی نظر اگرچہ معاف کی گئی لیکن دوسری نظر ڈالنے پر جرم کا مرتکب ٹھہرایا گیا ۔تو اب یہ کیسے جائز ہے کہ عورت کو مردوں کے ساتھ خلوت اختیار کرنے کی اجازت دی جائے ۔مرد و زن کی اختلاط سے بہت بُرے نتائج سامنے آرہے ہیں جسکی وجہ سے لوگ اب شادیوں کو کم اہمیت دے کر زنا کاری میں ملوث ہوتے جارہے ہیں۔اسقاط حمل سے انسانی نسل کو ضائع کیا جاتا ہے ۔اگر اسلام نے عورت کو عبادت کرنے کیلئے بھی پردے میں رہنے کا حکم دیا ،تو اب یہ کیسے مباح ہے کہ ایک عورت فلمی انڈسٹریوں میں غیر محرم مردوں کے ساتھ کام کرکےپیسہ کمائے۔عورتوں کو ایسی ملازمت دینے والا دراصل اسکو اپنے وجود سے بے خبر کرکے دورِ جہالت کی طرف لے جاکر بدکاری میں ملوث کرنا چاہتے ہیں۔ یہ اصل میں مغرب کی تعلیم ہے جسکو اب فروغ دیا جاتا ہے۔ اگر ایسی تشہیر اور بے حیائی دیکھ کراگر ہماری قوم اب بھی نہ جاگ جائے تو بے شک یہ بے غیرت اور مردہ قوم ہی کہلائے گی اور روزِ قیامت اس قوم کی پکڑ ہوگی ۔کیونکہ ہم  خیر اُمت ہیں، ہمیں اچھائی کا حکم اور بدی سے لوگوں کو روکنے کیلئے کہا گیا ہے۔لہٰذا اگر ہم اب بھی اس بے حیائی کو نہ روک دے تو ہر ایک سزا کا مستحق ہوگا اور عنقریب اللہ ہم پر اپنا عذاب مسلط کر دے گا ۔اسلام نے عورت کو نماز پڑھنے کو گھر میں افضل قرار دیا تو اب یہ کیسے ممکن ہے کہ اسلام اس بے حیائی اور مرد و زن کے اختلاط کی اجازت دے گا۔ اس فحش گوئی کا تعلق چاہےانسان کے لباس سے ہو یا کام سے ہو یا زبان سے ہو، گیت یا غزلیں گانےسے ہو،ایسے ہر کام سے بے حیائی کو فرو غ ملتا ہے۔ اگر کوئی بے حیائی کا لباس پہنے تو وہ بھی بے حیائی کا حصہ دار ہے کیونکہ وہ اس غلط کام کو فروغ دے کر قوم کو تباہ وبرباد کر رہا ہےاور انہیںجہنم کی طرف لے جاتا ہے۔
ایک انسان میں جب شرم و حیا ختم ہو جاتا ہے تو وہ حیوان بن جاتا ہے ۔اُس کو پھر بہن ،بیوی اور بیٹی میں تمیز کرنے کی سکت نہیں رہتی ۔وہ سب کو یکساں سمجھ کر جسے چاہتا ، اپنی خواہشات ِنفس کے لئے استعمال کرتا ہے۔ بداخلاقی کی وجہ سے انسان میں حیوانی صفت آتی ہےاور بے حیائی کیلئے بھی پہلا قدم یہی ہے کہ پہلے انسان کو حیوان بنایا جائے ۔ایک لڑکی جسکے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اچھی تعلیم و تربیت اسکو دی جائےتو باپ کو جنت کی بشارت دی گئی۔مگر افسوس ہم پہ کہ اپنے رحمت للعالمینؐ کی تعلیم کو ٹھکرا کر اور اسکی تکذیب کرکے دورِ جہالت کے رسموں کو فروغ دیتےہیں۔قیامت کے روز ان مردوں اور عورتوں کی رسوائی ہوگی جو بے حیائی پھیلاتے ہیں۔ اسلام ہمیں انسانیت کی فلاح و بہبودی کا درس دیتا ہے نہ کہ بے حیائی کا ،اسلام سراسر امن ہے جبکہ اس بے حیائی کے طوفان سے پورا عالم بے سکونی میں گرفتارہو چکا ہے۔ بد امنی ،بے چینی دنیا میں فتنہ و فساد پیدا کرتی ہے اور ہر ایک کاسکون غارت کردیتی ہے، وجہ یہی بے حیائی ہے۔
ہماری نئی نسل شرم و حیا کو بھول کر بے حیائی کے سمندر میں ایسے ڈوب گئی ہے کہ اب نکلنا محال نظر آتا ہے۔ عالمی سطح پر بے حیائی کو الیکٹرانک میڈیا، سوشل میڈیا اورذرائع ابلاغ  کے ذریعےبڑے پیمانے پر فروغ دیا جاتاہے جو کہ نوجوان نسلوں کو بگاڑنے میں اہم کردار ادا کرکے اس پاک کائنات کا نظام برہم کرانا چاہتے ہیں۔خوبصورت اور نوجوان لڑکیوں کو مردوں کے ساتھ کھلا چھوڑ کرا قوام میں بے حیائی کے اڈے بنا کے مال و دولت کو انبار جمع کررہے ہیں تو ہماری قوم ان کے ساتھ بھرپور تعاون کررہے ہیں۔ کچھ لوگ تو دوسروں کے عیبوں کے پروگرام نشر کرتے ہیں جو کہ سراسر ناجائز ہے ۔ہمیں دوسروں کے عیب اُچھالنے کے بجائے انکی پردہ پوشی کرنی چاہیے تاکہ قیامت کے روز اللہ ہمارے عیبوں کو چھپائے ۔یہ افسوس کی بات ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی ہونے کے باوجودہمارےیہاں بھی عورت کو پیسہ کمانے کا ذریعہ بنا کر اسکو استعمال کیا جاتا ہے۔ عورت چراغ محفل نہیں بلکہ چراغ خانہ ہے ۔کائنات کے اندر جو حسن ہے ،وہ عورت کی وجہ سے ہے ۔اسی سے بڑے بڑے پیغمبروں نے جنم لیا ہے ،بڑے بڑے افلاطون اور قوم کے امانت دار تاجر پیدا ہوئےہیں۔اگر ہم عورتوں کو اسلام کی تعلیم دیں گے تو وہ فاطمہ رضی اللہ عنہا جیسی بن کے حسن اور حسین کو جنم دیں گی اور قوم کا مستقبل روشن ہوگا ۔ ورنہ اگر ہم بے حیائی کو ایسے ہی فروغ دیتے رہے تو قوم میں بدکار ،زناکار اور شرابی لوگ ہی پیدا ہوجائیں گے جو قوم کیلئے نقصان دہ اور پنے والدین کیلئے صدقہ جاریہ کے بجائے باعث جہنم بن جائیں گےاور پوری دنیا پھر عذابِ الہٰی میں مبتلا ہو جائے گی ۔اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ان بُرے کاموں سے بچا کر حلال رزق کمانے کی توفیق دے اور ہر ایک کو ہدایت کے نور سے منور کرے تاکہ ہماری بگڑی ہوئی قوم سدھر جائے۔(آمین یا رب العالمین)
(طالب علم :جامعت البنات سرینگر)
پتہ۔ شوپیان