’بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ‘مہم سماجی اصلاح کی قبولیت کی مثال:مودی

یو این آئی
نئی دہلی// وزیراعظم نریندر مودی نے ‘بیٹی بچاؤ پڑھاؤ’ مہم کو سماجی اصلاح کی کوشش کی سمت میں سماجی قبولیت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے اس کے لیے درست ماحول تیار ہوتے ہیں صورتحال میں تیزی سے تبدیلی آنے لگی ہے ۔ وزیراعظم نریند رمودی نے نواس کیرل کے شیو گری تیرتھ کی 90 ویں سالگرہ اور برہم ودیالیہ کے گولڈن جبلی کے سال بھر چلنے والے مشترکہ تقاریب کے افتتاحی پروگرام سے خطاب کر رہے تھے ۔ وزیراعظم رہائش گاہ-7 لوک کلیان مارگ پر منعقدہ پروگرام میں انہوں نے سال بھر چلنے والے مشترکہ تقاریب کا لوگو بھی جاری کیا۔ شیو گری تیرتھ دانم اور برہم ودالیہ، دونوں کی شروعات سماجی مصلح نارائن گرو کے آشیرواد اور رہنمائی میں ہوئی تھی۔ اس موقع پر شیو گری مٹھ کے روحانی پیشوا ؤں اور عقیدت مندوں کے علاوہ مرکزی وزراء راجیو چندر شیکھر اور وی مرلی دھرن بھی موجود تھے ۔وزیراعظم نے اپنے گھر میں سادھوؤں کا استقبال کرنے پر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے گزشتہ برسوں کے دوران شیو گری مٹھ کے سادھوؤں اور عقیدت مندوں سے ا پنی ملاقات کو یاد کیا اور بتایا کہ کس طرح ان سے بات چیت کر کے انہیں ہمیشہ توانائی حاصل ہو تی رہی ہے ۔ انہوں نے اترا کھنڈ – کیدار ناتھ کے سانحہ کو یاد کیا جب مرکز میں کانگریس کی حکومت اور کیرالہ کے وزیر دفاع ہونے کے باوجود شیو گری مٹھ کے سادھوؤں نے ان سے گجرات کے وزیراعلیٰ کے طور پر مدد مانگی تھی۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ اس بات کو کبھی نہیں بھولیں گے ۔وزیراعظم نے کہا کہ شیو گری مٹھ کی 90 ویں سالگرہ اور برہما ودیالیہ کی گولڈ جوبلی کی تقریبات صرف انہیں ادارو ں کے سفر تک محدود نہیں ہے بلکہ ‘یہ آئیڈیا آف انڈیا کا لافانی سفر بھی ہے ، جو مختلف دور میں مختلف ذرائع سے آگے بڑھتا رہا’۔انہوں نے مزید کہا ،‘چاہئے وارانسی میں شیو کا شہر ہو یا ورکلا میں شیو گری، ہندوستانی توانائی کا ہر ایک مرکز ہم تمام ہندوستانیوں کی زندگیوں میں ایک خصوصی مقام کی حیثیت رکھتا ہے ۔ یہ مقامات صرف تیرتھ ہی نہیں ہیں بلکہ وہ عقیدے کے مراکز ، ’ایک بھارت شریشٹھ بھارت‘ کے جذبے کے ادارے بھی ہیں’۔وزیراعظم نے کہا کہ جہاں بہت سے ممالک اور تہذیبیں اپنے دھرم سے دور ہو گئیں اور روحانیت کی بجائے مادیت کو اپنا لیا ہے۔