جموں//بین الاقوامی سرحد پر بدھ کے روز مسلسل تیسرے دن بھی سرحدی افواج کے مابین شدید ترین فائرنگ اور گولہ باری ہوتی رہی۔ کٹھوعہ کے ہیرانگر سے لے کر اکھنور کے چکن نیک علاقہ تک 198کلو میٹر سرحد پر محاذ کھو ل دیا گیا ہے اور تازہ فائرنگ میں کم از کم 5افراد ہلاک جب کہ 10بی ایس اہلکاروں سمیت 54افراد زخمی ہو گئے ۔ مہلوکین میں 8سالہ کرشنا ولد وجے کمار اور 37سالہ شامو دیوی زوجہ بہادر لال ساکن بین گلاڈ سانبہ ، بچن لال و لدکرم چند ساکن سامکا اور رگھویر سنگھ ولد دھرم سنگھ ساکن ستو الی آر ایس پورہ نیز رام پال ولد ٹلو رام ساکن لونڈی ہیرا نگر شامل ہیں۔زخمیوں میں 10بی ایس اہلکار بھی شامل ہیں جو کٹھوعہ، سانبہ اور جموں اضلاع کی اگلی چوکیوں پر مامور تھے۔ 16عام شہری ارنیہ ، آر ایس پورہ، سچیت گڑھ اور بشناہ میں زخمی ہو ئے ۔ رام گڑھ اور سانبہ میں16شہری، ہیرانگر، راج باغ اور لونڈی کٹھوعہ میں12افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ شدید زخمیوں کو جموں میڈیکل کالج لایا گیا ہے کہ جب کہ معمولی زخمیوں کو ضلع ہسپتال میں فسٹ ایڈ دی گئی ہے ۔ پولیس نے بتایا کہ ہزاروں افراد اپنا گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر پناہ گزین ہیں، انہیں نکالنے کے لئے بلٹ پروف گاڑیوں کا استعمال کیا جا رہا ہے ۔ تین اضلاع کی مقامی انتظامیہ نے آر ایس پورہ ، ارنیہ ، سانبہ اور کٹھوعہ میں سرکاری عمارتوں میں قائم کئے گئے عارضی ریلیف کیمپوں میں تمام سہولیات دستیاب کرائی گئی ہیں۔ ان کیمپوں میں کم از کم 1500 افراد ٹھہرے ہوئے ہیں۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ سول و پولیس انتظامیہ کے اہلکاروں کے علاوہ بی ایس ایف ٹیمیں بھی متحرک ہیں۔ انہوں نے بتایا ’زخمیوں کو اسپتال جبکہ متاثرہ لوگوں کو محفوظ مقامات کی طرف منتقل کیا جارہا ہے‘۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جموں ارن منہاس نے یو این آئی کو بتایا ’انتظامیہ نے ریلیف کیمپوں میں تمام بنیادی سہولیات دستیاب کرائی ہیں‘۔ انہوں نے بتایا ’ڈاکٹر صاحبان زخمیوں کو فرسٹ ایڈ دینے میں لگے ہوئے ہیں جبکہ مویشیوں کے علاج کے لئے ویٹرنری ڈاکٹر بھی کام میں لگے ہوئے ہیں‘۔ ارن منہاس نے مزید بتایا ’سرحدی گولہ باری سے متاثرہ لوگوں کو محفوظ جگہیں فراہم کرنے کے لئے پنچایت گھروں، سرکاری سکولوں، مندروں، کیمونٹی ہالوں اور دیگر سرکاری ڈھانچوں کو برائے کار لایا جارہا ہے‘۔ جی ایم سی کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ سرحدی گولہ باری کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کے لئے ڈاکٹروں کی ٹیمیں بنائی گئی ہیں اور زخمیوں کو کھانا اور ادویات مفت فراہم کی جارہی ہیں۔