عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی//دہلی کے جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کا احتجاج، نظام تعلیم میں اصلاحات اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے بدھ کو 12ویں دن بھی جاری ہے۔ ادھر سونم وانگچوک کی بھوک ہڑتال چوتھے دن میں داخل ہو گئی ہے۔ دریں اثنا، ان کی صحت کے بارے میں طبی اپ ڈیٹس نے خدشات کو بڑھا دیا ہے.سی جے پی کے مطابق بھوک ہڑتال شروع کرنے کے بعد سے سونم وانگچک کا تقریباً دو کلو گرام وزن کم ہو گیا ہے، جب کہ ان کا بلڈ پریشر مسلسل کم ہو رہا ہے۔ ڈاکٹروں کی ایک ٹیم ان کی صحت کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔ طبی ٹیم وقتاً فوقتاً ان کا بلڈ پریشر، آکسیجن لیول، شوگر لیول اور دیگر چیزوں کی جانچ پڑتال کر رہی ہے۔ وہیں طلبہ، کسانوں، سماجی کارکنوں اور حامیوں کی بڑی تعداد کاکروچ تحریک کی حمایت کے لیے جنتر منتر پہنچ گئی ہے۔جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین حکومت سے تحریک کے مطالبات پر فیصلہ لینے کی اپیل کر رہے ہیں۔ اسٹیج سے مسلسل تقریریں کی جا رہی ہیں، لوگوں کو تحریک میں شامل ہونے اور حمایت کرنے کی تاکید کی جا رہی ہے۔ ملک کے مختلف حصوں سے حامی بھی وہاں پہنچ رہے ہیں۔کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے دوران ‘انشن’ پر بیٹھے کئی کارکنوں کی صحت مسلسل خراب ہو رہی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت ڈپکے نے کہا کہ بہت سے لوگوں کی صحت تیزی سے بگڑ رہی ہے، لیکن وہ پرامن طریقے سے اپنے مطالبات پر ڈٹے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان کے مطالبات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہے۔ اگر جلد کوئی حل نہ نکالا گیا تو انشن کر رہے لوگوں کی صحت مزید بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔پچھلے 7 دنوں سے انشن پر بیٹھے انیش کی طبیعت مسلسل بگڑتی جا رہی ہے۔
ابھیجیت دپکے نے بتایا کہ انیش کی صحت کی حالت تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت اس ملک کے نوجوانوں کی آواز سننے سے کیوں کترا رہی ہے؟کاکروچ جنتا پارٹی نے واضح کیا کہ جنتر منتر پر دھرنا اور احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حکومت ان کے اہم مطالبات کو حل کرنے کے لیے ٹھوس قدم نہیں اٹھاتی۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کا احتجاج تعلیم، ماحولیات اور مفاد عامہ سے متعلق مسائل پر کیا جا رہا ہے۔ سونم وانگچک کی بگڑتی ہوئی صحت کے باوجود ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ پرامن طریقے سے اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔