بھار ی برف کی موجودگی میں اساتذہ سکولوں میں حاضر متعلقہ حکام زمینی حقائق سے بے خبر

 برفباری اور بحالی کی صورتحال کا مکمل جائزہ لیکر حکم پر نظر ثانی کی اپیل

محمد تسکین

بانہال // صوبہ جموں کے برفباری سے ڈھکے سرمائی زون کے سرکاری سکولوں میں بچوں کے بغیر ہی اساتذہ کی سکولوں میں حاضری کا سلسلہ موسم کی خرابی کی وجہ سے دو روز کی تاخیر کے بعد جمعہ کی صبح سے شروع ہوگیا ہے اور بیشتر اساتذہ کو ’’مرتا کیا نہ کرتا‘‘ کے مصداق بھاری برفباری کے باوجود سرکاری سکولوں میں حاضر ہونا پڑا ہے۔ وادی چناب کے کشتواڑ ڈوڈہ اور رام بن کے بیشتر علاقوں میں برفباری اور شدید بارشیں ہوئی ہیں اور پہاڑی اور میدانی علاقے ایک سے دو فٹ برف سے ڈھکے ہوئے ہیں۔ درجنوں علاقوں کی طرح ضلع رام بن کے تعلیمی زون بانہال نیل، کھڑی مہو منگت ، اکڑال پوگل پرستان ، گول سنگلدان اور بٹوٹ راجگڑھ کے بیشتر علاقے بھاری برف سے ڈھکے ہوئے ہیں اور شدید سردی کی لپیٹ میں ہیں۔ عام اساتذہ کا ماننا ہے کہ اس برفباری میں اساتذہ کیلئے سکولوں میں گرمی کیلئے کسی بھی قسم کا کوئی انتظام نہیں ہے اور بچوں کے بغیر ہی سکولوں کی چار دیواری میں بنا کسی کام کے حاضر رکھنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ضلع رام بن کے بانہال ،کھڑی ، مہو منگت، گول ، پوگل پرستان ، رامبن اور بٹوٹ سناسر کے برفباری سے متاثرہ علاقوں سے اطلاعات ہیں کہ جمعہ کی صبح اساتذہ کو برفباری سے منقطع علاقوں میں اپنے سکولوں تک پہنچنے کیلئے بھاری برف میں میلوں کا سفر پیدل ہی طے کرکے حاضری لگانے کیلئے پہنچنا پڑا ہے۔ محکمہ تعلیم کے اعلی حکام زمینی صورتحال سے ناواقف ہونے کیوجہ سے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے اور بارشوں ، برفباری ، مٹی اور برف کے تودوں کے پیش نظر اساتذہ کی سرمائی چھٹیوں میں دو دن کی توسیع کی گئی تھی لیکن سافٹ اور ہارڈ زونوں میں زمین پر جمع برفباری اور شاہراہوں ، سڑکوں اور راستوں کے منقطع ہوئی صورتحال کی طرف تعلیمی اور ضلع کے اعلی افسران نے کوئی توجہ نہیں دی ہے جو اساتذہ کے ساتھ زیادتی ہے۔وادی چناب کے آساتذہ کی کئی انجمنوں نے تعلیمی حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ برفباری سے متاثرہ علاقوں میں شدید سردی میں اساتذہ کی بلا وجہ کی حاضری کے حکم پر نظر ثانی کریں اور زمینی حقائق کا جائزہ لیکر رابطہ سڑکوں اور راستوں کی بحالی کے بعد ہی برف سے متاثرہ علاقوں میں سکولوں کو کھولنے کا حکم دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سارے علاقوں میں برفباری کیوجہ سے پیدا ہوئی سلپ اور برفانی تودوں سے اساتذہ کی جانوں کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور اس طرف متوجہ ہونے کی ضرورت ہے۔