بھارت بند کی کال پرسرینگر اورجموں میں مظاہرے

 جموں // بھارت بند کی کال پر کسان تحریک نے پیر کوجموں کشمیرمیں احتجاجی مظاہرے کئے اور مطالبہ کیا کہ بی جے پی حکومت کی طرف سے غیرجمہوری اورغیرآئینی طور منظور کئے گئے کسان مخالف قوانین کو منسوخ کیا جائے۔احتجاج کی کال سمیوکت کسان مورچہ جو مرکزکے تین زرعی قوانین کے خلاف کسان تنظیموں کی مشترکہ جماعت ہے۔جموں میں احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کمیونسٹ پارٹی رہنمایوسف تاریگامی نے کہاکہ کسان مخالف قوانین زراعت کے شعبے کو تباہ کرنے اور ملک میں خوراک کی حفاظت کیلئے خطرہ ہیں۔اس کے علاوہ یہ قوانین کم سے کم سپورٹ پرائس (MPM)کے خاتمے اور ملک کی زراعت اور کاروباری گھرانوں کو بازار فراہم کرنے کی بنیادرکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تمام فیصلوں کیلئے کم ازکم امدادی قیمت کویقینی بناتے ہوئے ان کی پیداوارکی مناسب قیمت کامسئلہ ایک طویل عرصے سے التواء میں رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف کسانوں کو ڈیزل ،پٹرول،کھادوں اوردیگرزرعی اشیاء اورروزمرہ کی ضروریات کی بڑھتی قیمتوں کا سامنا ہے اور دوسری طرف وہ غریب ہوتے جارہے ہیں کیوں کہ ان کی آمدن کم ہورہی ہے۔اسی طرح کا مظاہرہ سرینگر میں بھی منعقد ہواجس میں عبدل رشید پنڈت، غلام قادر ہفرو اور عبدالرشید زینہ پورہ کسان رہنماں نے خطاب کیا اورخطے کے باغ مالکان اور کسانوں کے لیے کم از کم امدادی قیمت کا مطالبہ کیا اور پورے جموں و کشمیر میں کسانوں کو درپیش مختلف مسائل پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے باغبانی کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا ہے اور آبادی کا بڑا حصہ اس شعبے پر منحصر ہے۔ تمام فصلوں کے لیے کم از کم امدادی قیمت کو یقینی بناتے ہوئے ان کی پیداوار کی مناسب قیمت کا مسئلہ ایک طویل عرصے سے زیر التوا ہے۔ حکومت کو ایم ایس پی میں پھلوں کی صنعت کو شامل کرنا چاہیے۔ بار بار وعدوں اور یقین دہانیوں کے باوجود یہ جائز مطالبہ آج تک پورا نہیں کیا گیا۔