بچت اور سرمایہ کاری کے منافع بخش عادات

لیاقت علی
دولت مند بننےکے لیے جہاں دولت کمانا ضروری ہوتا ہے وہاں بچت کرنا بھی اتنا ہی اہم ہوتا ہے۔ مالیاتی امور کے ماہرین کہتے ہیں کہ اگر آپ دولت مند بننا چاہتے ہیں تو پھر آج ہی بچت کا آغاز کردیں اور پھر اس بچت کو سرمایہ کاری کے طور پر استعمال کریں۔ 

وارن بفٹ دنیا کے مایہ ناز سرمایہ کار ہیں۔ بچپن میں وہ اوہاما میں اپنی فیملی کےگراسری اسٹور پر کام کرتے تھے۔ انھوں نے نیویارک اسٹاک ایکس چینج پر لسٹڈ ایک کمپنی کے حصص 11 سال کی عمر میں خریدے اور فوربز کے مطابق آج 2022ء میں ان کے اثاثوں کی مالیت 125.6ارب ڈالر تک جا پہنچی ہے۔ 

وارن بفٹ کا بچت کے حوالے سے ایک بنیادی اصول ہے:دنیا کے بیشتر لوگ اخراجات سے بچنے والی رقم کو بچت سمجھتے ہیں، یہ تصور درست نہیں۔ وارن بفٹ کا مشورہ ہے کہ عملی زندگی میں داخل ہوتے ہی یہ فیصلہ کرلیں کہ آپ اپنی آمدن کا ایک خاص حصہ بچائیں گے۔ آپ کے ہاتھ میں جوں ہی رقم آئے، سب سے پہلے اس میں سے بچت الگ کرلیں اور اس کے بعد باقی بچ جانے والی رقم خرچ کریں۔

بچت کا ایک اور بھی اصول ہے۔ ’’بے شک اپنی سوچ کو بڑا رکھیں لیکن اس پر عمل درآمد کا آغاز چھوٹے چھوٹے کاموں سے کریں‘‘۔ آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ چھوٹے چھوٹے خرچے کم کرکے کتنی زیادہ بچت کی جاسکتی ہے ۔ ایک دن جَنک فوڈنہ کھائیں تو بچت شروع ہوجائے گی، تاہم یہ بات مدنظر رہے کہ سرمایہ کاری پر قلیل مدتی فائدہ کم ملتا ہے یعنی اگر کوئی شخص 25 سال کی عمر سے میوچل فنڈز، اسٹاکس یا ریئل اسٹیٹ میں کم سرمایہ کاری سے آغاز کرے تو وہ 20 سے 25سال میں خطیر رقم کا مالک بن سکتا ہے۔ لوگ عام طور پر مستقبل میں بچوں کی اعلیٰ تعلیم، شادیوں اور ریٹائرڈ زندگی گزارنے جیسے کاموں کےلیے بچت کے ذریعے طویل المیعاد بنیادوں پر سرمایہ کاری کرتے ہیں۔

آمدنی اور اخراجات :یہ سچ ہے کہ آج کے زمانے میں بچت کرناآسان نہیں رہا لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پیسے کی بچت کرنے اور اسے سمجھداری سے خرچ کرنے کے طریقوں پر غور کرنے سے آپ کو بڑا فائدہ ہوگا۔

بچت کی ابتدا :کئی لوگوں کے ذہن میں سوالات ہوتے ہیں کہ کم از کم کتنے پیسوں سے سرمایہ کاری کی جائے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ آپ500 روپے سے بھی میوچوئل فنڈ کے یونٹ خرید سکتے ہیں۔ لوگ سوچتے ہیں کہ چھوٹی بچت سے کیا ملے گا۔ ہر مہینے کے آغاز میں چھوٹی سی رقم نکال کر منظم سرمایہ کارانہ پلان میں لگائیے اور پھر باقاعدہ بچت کا کمال دیکھیے۔ پیسے بڑھتے ہی رہیں گے۔ بچت چاہے روزانہ ہو یا ماہانہ بنیادوں پر، رقم چھوٹی بڑی ہونے کی پروا کیے بغیر آج ہی سے بچت کا آغاز کردیجیے۔

منصوبہ بندی :  سُننے میں شاید آسان لگتا ہو مگر بجٹ کی منصوبہ بندی اور اس پر قائم رہنا تناؤ سے خالی نہیں ہوتا۔ اگر آپ اکیلے ہیں تو ایک مالیاتی منصوبے پر عمل کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے مگر جب آپ کا خاندان ہو تو ہر ماہ غیرمتوقع اخراجات کا سامنا ضرور ہوتا ہے۔ مگر کچھ اخراجات ایسے ہیں جو ہر ماہ ہوتے ہیں۔ بجلی، پانی اور گیس کے بل، گراسری، بچوں کی تعلیم کے اخراجات، ٹرانسپورٹ اخراجات وغیرہ وغیرہ۔

ایک اوسط رقم لیں، جس کا تعین آپ نے خود کرنا ہے اور اسے اوپر بیان کردہ بنیادی اخراجات کے لیے ایک طرف رکھ دیں۔ شروع کے کچھ ماہ کے دوران اس اوسط رقم پر جمے رہنے کی کوشش کریں، اگر آپ ایسا نہیں کرپاتے تو ایک قدم اور آگے جاکر دیکھیں کہ آپ کن اخراجات میں مزید کمی لا سکتے ہیں۔

بلوں کی بروقت ادائیگی :    یہ ایک اہم ٹاسک ہوتا ہے مگر پھر بھی یہ کسی کے بھی ذہن سے آسانی سے فراموش ہوسکتا ہے۔ زندگی کی گہماگہمی میں بلوں کی مقررہ تاریخ بھول جانا قدرتی امر ہے، خاص طور پر اگر وہ وسط مہینے کے بعد آئیں۔ تاہم اس صورتِ حال سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس ذمہ داری کو خاندان کے کسی ایک فرد کے ذمے لگا دیا جائے۔

آمدنی اٹھنی خرچہ روپیہ :  امریکا کی مشہور ذاتی اخراجات امور کی ماہر سوز اورمان امریکیوں کو جو مشورہ دیتی ہیں، وہ یہ ہے کہ کریڈٹ کارڈز پر انحصار ختم کر دیں۔ اپنا پیسہ محفوظ بنانے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ کو کبھی بھی کسی کا قرض دار نہیں ہونا چاہیے۔ اور اگر آپ نے کسی سے پیسے لے ہی لیے ہیں تو کوئی نئی چیز خریدنے کے بجائے پہلے وہ قرض اُتارنا چاہیے۔

حساب کتاب  : اپنی ترجیحات درست کرنے کا ایک اچھا طریقہ اپنے تمام ماہانہ اخراجات کو لکھ لینا ہے۔ اس طرح آپ یہ جان سکیں گے کہ آپ کی ترجیحات کیا ہیں اور کس جگہ پیسے بچائے جا سکتے ہیں۔

فہرست بنائیں  :  آپ جب کبھی مارکیٹ جاتے ہیں تو آپ کا دل بہت ساری چیزیں خریدنے کو کرتا ہے۔ بھلے ہی آپ کو ان کی ضرورت ہو نہ ہو۔ اس لیے سپر مارکیٹ جانے سے قبل فہرست ضرور بنا لینی چاہیے، کیونکہ اس طرح سپر مارکیٹ جانے پر غیر ضروری اشیا سے دھیان ہٹ ہی جاتا ہے۔

ہنگامی صورتِ حال :  کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے پیسے بچانا مت بھولیں۔ میڈیکل ایمرجنسی، بہت زیادہ یوٹیلیٹی بلز اور مہنگی خریداری کی ضرورت کسی بھی وقت پیش آسکتی ہے۔بچت کرنا ایک، دو روز کا کام نہیں ، زندگی بھر کی عادت ہے، جو آپ کو متعدد طریقوں سے فائدہ پہنچاتی ہے۔