بنت حوا۔۔۔مسئلوں اور حلوں کے درمیان!

 عورت معاشرے کا ایک جزء لاینفک ہے عورت کے بغیر سماج کا کوئی تصور نہیں ہے ۔اسلام نے ان دونوں کو ایک دوسرے کا لازمی جُز قرار دیا ہے ۔ اسلام نظام ِرحمت ہے ۔ اس میں جہاں اخلاقی ،سیاسی ، سماجی،تعلیمی اور معاشی رہنمائی کی گئی ہے، وہیں یہ خاندان کا نظم و نسق ،عورتوں کے حقوق اور ان کی عزت و عصمت کی حفاظت کے لیے شاہ کار نظام سے بھی آشنا کراتا ہے ۔ اسلام ہی وہ واحد دین ہے جس نے عورتوں کو صحیح مقام اور اور تمام حقوق سے نوازا ۔مرد اور عورت دونوں نسل ِ انسانی کے معمار ہیں ۔ اسلام کی نگاہ میں عورتوں کے حقوق مردوں کے مسواوی ہیں اور فطری تقاضوں کی بنیاد پر تفریق کے سوا دونوں میں کوئی امتیاز روا نہیں رکھا گیا ہے ۔اسلام نے عورت کو ہر معاملے میںعزت و تکریم سے نوازا اور عورت کو تہذیبی ، معاشی ، تعلیمی اور معاشرتی حقوق عطا کئے ہیں ۔ اس نے عورتوں پر وہ احسان کیا جس کی دنیا کے کسی بھی نظریہ ، تہذیب اور مذہب میں مثال نہیں ملتی ۔ اسلام نے عورتوںکی نہ صرف حقوق متعین کئے بلکہ ان کی تشخص کو بلندی بخشا ،ان کو ملک وملت اور قوم و معاشرے کے لئے مرد کا معاون قرار دیا ۔ آج جب کہ دنیا بھر میں حقوق نسواںکی تحریکیں چلائی جاری ہیں، اگر واقعی اہل عالم چاہتے ہیں کہ صنف نازک کو اپنا کھویا ہوا مقام ملے تو اسے اسلام کی طرف مراجعت کرنا ہوگی ۔دور حاضر میں خواتین کو طے سمار مسائل درپیش ہیں اور ان مسائل کو حل کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ انسانی معاشرہ کا یہ نصف حصہ امن و سکون اور عزت و اکرام سے زندگی گزار سکیں گی ۔دور حاضر میں مساوات مرد و زن ، نکاح،طلاق اور مسلم پرسنل لا کے تعلق سے کئی مسائل نے جنم لیا ہے۔زیر نظر مضمون میں چند ایک تزکرہ کیا جائے گا ۔ 
جنسی تفریق :   
   عصر حاضر میں خواتین کے ساتھ مختلف نظریاتی ، تہذیبی ،معاشرتی ،تعلیمی ،معاشی اور سیاسی میدانوں میں صنفی امتیازات اور عدمِ ِمساوات دکھائی دے رہا ہے ۔ سماج میں پدری نظام کی وجہ سے عورتوں کے ساتھ بیشتر معاملات میں صنفی امتیازات اور عدم ِ مساوات برتا جاتا ہے ۔جس کی وجہ سے خواتین کو نہ عزت و تکریم اور نہ ہی مطلوبہ حقوق دیا جارہا ہے ۔ جنسی یا صنفی تفریق دور جدید کا  اہم مسئلہ ہے ۔ جگہ جگہ خواتین کو صنفی تفریق کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ قوانین بننے کے باجود وہ نہ صرف عدم مساوات کی شکار ہیں بلکہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک بھی کیا جاتا ہے ۔ اسی تفریق اور امتیازی سلوک کی بنا پر ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے جاتے ہیں ۔انہیں ناقص العقل اور کمزور ذہنیت کی مالک قرار دیا جاتا ہے ۔ سماج کا ادنی حصہ کہا جاتا ہے ۔ 
 مساوات مردد زن : 
  مساوات مرد و زن کا نعرہ مغرب کا ہے ۔مغربی دنیا میں تحریک نسواں کے علمبرداروں نے اس نعرہ کو جگہ جگہ پھیلایا ہے ۔وہ عورت کو خاندانی اور نسوانی ذمہ داریوں سے آزاد کرانا چاہتے ہیں اور اس کو مرد کے شانہ بہ شانہ لے کرکام کرنے کی دعوت دیتے ہیں ۔ حقوق نسواں کی تحریکیں  عورت کو بازار کی زینت بنانا چاہتے ہیں جس میں وہ پوری طرح کامیاب ہوگئے ۔ حقوق نسواں کی تحریکوں کے نزدیک مرد اور عورت میں فطری اور طبعی طور پر کوئی فرق نہیں ہے ۔ان کا ماننا ہے کہ جو کام مرد کرے وہی کام عورت بھی کرے اور اس میں تفریق کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ اسی کی وجہ سے مغرب میں خاندانی نظم و نسق بری طرح متاثر ہے ۔ اسلام اس طرح کی مساوات کا قائل نہیں ہے کہ جہاں ایک عورت کا اپنا تشخص خطرے میں ہو ۔ اسلام نے اس جاہلانہ تصورکی بیخ کنی کی ہے جو نام نہاد حقوق نسواں کی تحریکوں نے پیش کیا ہے ۔اسلام نے عورت کی شخصیت کو ایک مستقل شخصیت قرار دیا ہے ۔اس نے مرد و عورت دونوں کے وجود اور ان کے رول کو سراہا۔ مرد و خواتین کے درمیان جسمانی ، نفسیاتی اور طبعی ساخت کی وجہ سے چند فطری عوامل کی تقسیم ضرور ہے البتہ دونوںپر یکساں حقوق و اختیارات ہیں ۔جس طرح سے مردوں کو اللہ کی بارگاہ میں روبرو پیش ہونا ہے اسی طرح عورتوں کو اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے اور اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا اور جس نے جو رول ادا کیا ہوگا ا س کو اس کا صلہ ضرور ملے گا ۔دونوں کے رول کے بارے میں قرآن مجید میں یہ ارشاد وارد ہے : 
 ’’جو شخص نیک عمل کرے گا مرد ہو عورت اور وہ مومن بھی ہوگا تو اس کو دنیا میں پاک زندگی بسر کروائیں گے اور آخرت میں ان کے اعمال کا نہایت اچھا صلہ دیں گے ۔‘‘ (النحل : ۹۷) 
خواتین کا تحفظ :
  عصر حاضر میں خواتین کا تحفظ ایک بڑا مسئلہ ہے ۔ اس مسئلہ نے کئی مسائل کو جنم دیا ہے ۔ خواتین کی عزت و عصمت کی حفاظت کے بارے میں اگر چہ آوازیں اٹھ رہی ہیں لیکن وہ صدا بصحرا ثابت ہورہی ہیں ۔ آج خواتین کسی بھی جگہ محفوظ نہیں ہیں ۔ درندہ صفات انسان ان کی عزت و عصمت پر حملہ کرنے کے درپے رہتے ہیں ۔دن میں کوئی ایسا لمحہ نہیں گزرتا ہے جس میں کسی عورت کی عصمت کو تار تار نہ کیا جاتا ہو ۔ عزت و عصمت ہر عورت کے لئے نہایت قیمتی چیز ہوتی ہے ،اس پر حملہ کرنے کی اجازت کسی کو نہیںہے۔
تعلیم وتدریس : 
عورتوں کے مسائل میں سے ایک بڑا مسئلہ حصول تعلیم بھی ہے ۔ اس حق سے اس کو کسی وجہ سے محروم نہیں کیا جاسکتا ہے ۔کہا جاتا ہے کہ مرد کی تعلیم ایک مرد تک محدود ہے اور عورت کی تعلیم گویا پورے خاندان کو تعلیم یافتہ بنانے کے مترادف ہے ۔ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عورت کی تعلیم کتنی اہم ہے ۔ تعلیم کا جتنا حق مرد پر ہے اتنا ہی عورت پر بھی ہے۔ عورت کو چار دیواری میں مقید کر کے تعلیم جیسے بنیادی حق سے اس کو محروم نہیں کیا سکتا ہے ۔اسلام نے تعلیم کو مرد وعورت دونوں پر فرض قرارر دیا ہے اور جس طرح تعلیم کے حصول کے لئے مردوں کو ابھارا اسی طرح عورتوں کو بھی تعلیم کے حصول کے لئے تحریک دی ۔اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا : طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم ۔(ابن ماجہ،کتاب العلم )یعنی ہر مسلمان مرد و عورت پر علم حاصل کرنا فرض ہے ۔اسلام نے حصول علم کا دروازہ دونوں کے لئے کھول دیا اور حصول علم میں مرد و عورت میں کوئی تفریق نہیں کی ۔حصول ِعلم جس طرح مردوں کے لئے لازمی ہے اسی طرح عورتوں کے لئے بھی اتنا ہی ضروری ہے ۔ حصول ِ علم جس طرح مردوں کا حق ہے اسی طرح عورت بھی اس کا پورا حق رکھتی ہے ۔ لڑکیوں کا یہ بنیادی حق ہے کہ ان کی تعلیم وتر بیت کا خاص بندوبست کیا جائے اور اس کے لئے ان کے والدین کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔اس تعلق سے اللہ کے رسول کا ارشاد مبارک کافی اہمیت کا حامل ہے : 
جس نے تین لڑکیوں کی پرورش کی ،ان کو تعلیم تربیت کی ، ان کی شادی کرائی اور اے ساتھ حسن سلوک کیا تو اس کے لئے جنت ہے ۔(ابوداؤد ،کتاب الادب )
علوم و فنون میں نمائندگی جس طرح مردوں نے کی ہے اسی طرح عورتوں نے بھی اس میںنہایت اہم رول ادا کیا ہے۔دور رسالت اور خلفائے راشدین کے دور میں خواتین کو علم و تعلم سے بے حد شغف اور محبت تھا ۔انہیں دقیق سے دقیق مسائل میں زبر دست مہارت ہو اکرتی تھیں ۔اس کا اندزہ اس مثال سے بخوبی سمجھا جاسکتا ہے کہ ک مرتبہ حضرت عمر نے کہا تھا کہ’’ عورتوں کو زیادہ مہر نہ دو ‘‘خلیفہ دوم کی بات سن کر ایک خاتون نے اس کا اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید کی ایک کو بطور دلیل پیش کیا ۔ وہ آیت یہ ہے:
’’اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لے آنے کا ارادہ ہی کر لو تو خواہ تم نے اسے ڈھیر سا مال کیوـں نہ دیا ہو ،اس میں سے کچھ وآپس نہ لینا کیا تم اسے بہتان لگا کر اور صریح ظلم کر کے واپس لوگے؟۔(النساء : ۲۰)
اس آیت کریمہ کا حوالہ دی ہوئے اس خاتون نے خلیفہ دوم سے کہا کہ اس معاملہ میں آپ کو دخل دینے کا کوئی حق نہیں کہ اللہ تعا لی ٰکا یہ ارشاد کہ اگر تم نے عورتوں کو زیادہ مال دیا ہو تو اس میں سے کچھ بھی نہ لو ۔ اس خاتون کی یہ بات سن کر حضرت عمر نے بات واپس لے لی اور فرمایاکہ اس خاتون نے درست کیا اور میں نے ہی غلط کہا اس کے بعد خلیفہ دوم نے اس خاتون کو مخاطب ہوکر فرمایاکہ’’ تم سے سے ہر ایک عمر سے زیادہ عالم ہے ۔ ‘‘اس سے پتہ چلتا ہے کہ دور خلافت میں کس طرح سے خواتین مردوں کی طرح مختلف علوم میں مہارت حاصل کرتی تھیں ۔علوم و فنون میں مہارت حاصل کرنا جس طرح مردوں کا حق ہے اسی طرح خواتین کا بھی حق ہے اس کے حصول میں کسی کو کسی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ہے۔علوم و فنون میں نمائندگی جس طرح مردوں کے لئے ضروری ہے اسی طرح عورتوں کو بھی اس میںاپنا رول ادا کرنا چائیے ،کیوں کہ سماج کو دونوں طبقوں کی ضرورت ہے ۔
   طلاق اور طلاق ثلاثہ :
  طلاق ایک ناپسندیدہ عمل ہے اور تین طلاق اور بھی ناجائز اور گناہ ہے ، دور حاضر میں اس کابھی رجحان بڑھتا ہی جارہا ہے ۔آج ہمارے معاشرے میں مطلقہ خواتین کی ایک بری تعدا د موجود ہے جو کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہی ہیں ۔ ان مسائل سے صرف مسلم خواتین ہی دوچار نہیں بلکہ ہندو خواتین کو بھی ان مسائل کا سامنا ہے اور وہ بھی طلاق اور اس کے متعلقہ مسائل سے بے حد پریشان ہیں ۔طلاق اگر چہ ایک ضرورت کے مطابق دی جاتی ہے لیکن شریعت نے اس کو پسندیدگی سے نہیں دیکھا ہے ۔ اسی طرح تین طلاق بھی ایک مبغوض فعل ہے ۔اکٹھی تین طلاقیں دے دینا ایک خاتون کے خلاف سراسر ناانصافی ہے ۔ دور نبوت ﷺمیں ایک شخص نے ایک ساتھ تین طلاقیں دیں تو اللہ کے رسوﷺ اس شخص پر ناراض ہوگئے اور ارشاد فرمایاکہ میری موجود گی میں اللہ کی کتاب کے ساتھ کھیلا جارہا ہے ؟یہ مسئلہ بھی بہت پیچیدہ ہے ۔اس مسئلے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔پہلے یہ کہ طلاق دینے سے حتی الامکان بچنے کی کوشش کی جائے اور آپس میں صلح  و صفائی کرنے کی آخری حد تک کوشش کی جائے ۔دوسری بات یہ ہے کہ معاشرے میں جو مطلقہ یا بیوہ خواتین ہیں، ان کے ساتھ حسن سلوک کا بھر پور مظاہرہ کیا جائے اور اور ان کی مالی معاونت اور رہنے سہنے کا بھی بندوبست کیا جائے ۔نیز ان کے نکاح کا انتظام بھی کیا جائے ۔ 
خواتین کے ملازمت :
  دور جدید عورت کی ملازمت بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے ۔ ملازمت اور ایمپاورمنٹ کے حصول کے لئے آج عورت جنگ لڑ رہی ہے ۔اسلام نے عورت کے نان و نفقہ اور دوسرے اخراجات کی ذمہ داری مرد پر ڈالی ہے اور اسی کو عورت کا مکلف ٹھہرایا ۔اتنا ہی نہیں بلکہ اس کو مالی طور سے ایمپاور بھی کیا ہے ۔ اس کے علاوہ اگر ایک عورت گھریلو زمہ داریاں ادا کرنے کے ساتھ ساتھ مالی حالت کو بہتر اور مستحکم بنانے کے لئے ملازمت کرنا چائیے گی تو چند شرائط کے ساتھ کر سکتی ہے، مثلاََ:
    ۱؎    عورت کی ملازمت سے گھریلو نظم و نسق اور سکون غارت نہ ہوجائے ۔
   ۲؎    حجاب اور پردے کی پوری پابندی کرے ۔
   ۳؎    ایسی ملازت اختیار نہ کرنے سے گریز کیا جائے جہاں اختلاط مرد و زن کا خطرہ ہو اور اس اختلاط میں بے حیائی کا ماحول عام ہو ۔
   ۴؎    عورت ملازمت شوہر کی اجازت اور باہمی مشورے سے کرے۔ 
     عورت شرعی حدود کی پابندی کرتے ہوئے ملازمت یا تجارت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور اسلام اس سے نہیں روکتا ہے ۔ عورت اپنی مالی پوزیشن کو مستحکم کرسکتی ہے ۔کسی بندے کو اس بات کا اختیار نہیں ہے کہ عورت کو اس حق سے محروم کرے ۔  
  وراثت :
   ہر قوم میں عورت کو ثانوی حیثیت کا درجہ دیا گیا ہے اور صرف عورت ہونے کی وجہ سے اس کو بنیادی حقوق سے محروم کیا جارہا ہے۔ اس کے ساتھ ہر زمانہ میںمتعصبانہ اور عدم ِمساوات کا رویہ برتا گیا ہے ۔وراثت عورت کا بنیادی حق ہے ۔ اس بنیادی حق سے اس کو محروم نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ موجودہ دور میں بھی عورت کو ہر جگہ وراثت جیسے بنیادی حق سے محروم کیا جارہا ہے ۔ حقوق نسواں کی تحریکیں آج تک عورت کو یہ بنیادی حق نہیں دلا سکیں ۔ اسلام نے وراثت کے تعلق سے ایک منظم قانون فراہم کیا اور عورت کو اس ناانصافی سے نجات دلا دیا ۔ اسلام کا وراثتی قانون بڑا منفرد ہے اس نے تقسیمِ وراثت کی مختلف صورتیں رکھی ہیں ۔عورت کو بعض اوقات مرد کے برابر بھی ملتا ہے اور بعض اوقات مرد سے نصف بھی ملتا ہے ۔ بعض صورتیں ایسی بھی ہیں جب اس کو مرد سے بھی زیادہ مل جاتا ہے ۔ اسلام نے عورت پر ایک احسان یہ بھی کیا کہ اس کو وراثت کا حق دار ٹھہرایا ۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
مردوں کے لئے اس مال میں حصہ ہے جو ماںباب اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو ،اور عورتوں کے لئے بھی اس مال میں حصہ ہے جو ماں باب اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ،خواہ تھوڑا ہو یا بہت اور یہ حصہ اللہ کی طرف سے مقرر ہے ۔ (النساء:۷)
   تشدد وزیادتیاں : 
 دنیا میں تقریباََہر جگہ خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور طرح طرح کی زیادتیوں کی شکار ہو رہی ہیں ۔ یہ تشدد اور زیادتیاں گھرو ںمیں بھی ہوتا ہے ،دفاتر میں بھی ، بازاروں میں بھی اور کاروباری اداروں میں بھی ہوتا ہے ۔ایک سروے کے مطابق دنیا میں دس فیصد ی سے لے کر پچاس فیصدی تک خواتین کو اپنی گھریلو زندگی میں سب سے زیادہ تشدد اور زیادتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اس تشدد میں مرنے والوں کی تعداد کینسر اور دوسرے مہلک امراض سے مرنے والوں کی تعداد سے کہیں زیادہ بتایا جاتا ہے ۔ عورتوں کے تشدد میں زیادہ تر مار پیٹ ، گالیاں ،ذہنی طور پر ہراساں کرنا ،زبردستی شادی کرنا اور طلاق دینا وغیرہ شامل ہیں ۔جنسی تشدد اور دست درازی بھی اس میں ایک مسئلہ ہے اور آئے دن یہ وبا پھیلتا جارہا ہے ۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہندوستان میں ہر ۲۰ منٹ میں ایک عورت عصمت دری کی شکارہوتی ہے ۔ حالیہ چند برسوں میںخواتین کے خلاف تشدد بڑھنے کا رجحان بڑھتا ہی جا رہا ہے ۔ اس تشدد کے خلاف قوانین بھی بن رہے ہیں لیکن ان کا نہ کوئی اثر دکھا ئی دے رہا ہے اور نہ ہی ان کا کوئی عملی وجود ۔ اس کی بیداری کے لئے کئی مہمیں چلائی گئیں لیکن یہ سب صدا بصحرا ثابت ہورہی ہیں ۔ہر سال ۲۵نومبر کو خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمہ کے لئے عالمی دن بھی منایا جاتا ہے ۔ لیکن جب تک مذہب کی طرف رجوع نہ کیا جائے اس وقت تک بنت حوا تشددکی شکار ہوتی رہی گی ۔ 
 حجاب وبے حجابی: 
  مغر بی اور یو رپی ممالک مسلسل نہ صر ف اسلام اور پیغمبر اسلام بلکہ مساجد ،اسلامی مراکز، لباس اور حجاب کو نشانہ بنا رہے ہیں۔مغر ب اور یورپ میں آسٹر یلیا سے لے کر آر جنٹا ئن تک اور فر انس سے لیکر سویزر لینڈ تک مسلمانوں کو کئی مسائل کا سامنا ہے ، انہیں راہ چلتے نہ صرف طنز کا نشانہ بننا پڑتا ہے بلکہ ہر طر ح کی مشکلات کا سامنا کر نا پڑتا ہے نیز روز مرہ کے کاموں ،سفر کے دوران اور آ فسوںمیں ان کے ساتھ حقارت آمیز سلوک ہوتا ہے زیادہ تر مسلم خواتین حجاب اور بر قعہ پہننے کی وجہ سے اسلامو فوبیا کی شکار ہو تی ہیں۔یورپ اور مغرب میں ہر جگہ حجاب کو تہذیب دشمن عناصر کے طور پر جانا جاتا ہے ۔ وہاں حجاب کو دقیا نوسی  اور زمانہ جہالیت  اور تنگ نظری کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے لیکن بات اتنی ہی نہیں ہے بلکہ وہ آگے بڑھ کر مسلم خواتین کو کھلے عام سڑکو اور چوراہوں اور اسٹیشنوں پر تذلیل کرتے ہیں ۔اس کے مسلم خواتین کو ظلم و تشد کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے ۔حجاب پر طنز کرنے کا یہ سلسلہ اب ہندوستان میں بھی شروع ہوا ہے کہ گزشتہ بر سوں ایسے کئی واقعات رونماء ہوئے ہیں جن میں حجابی خواتین کو پریشان کیا جاتا ہے ۔ حجاب کوئی فیشن یا رسمی چیز نہیں ہے اور نہ ہی یہ کسی تہذیب کے خلاف اعلان ِجنگ کی علامت ہے ۔حجاب ایک عورت کو اس کا صحیح تشخص فراہم کرتا ہے ۔ اس کا اصل مقصد صرف عورت کی اندرونی ساخت اور اس کی پوشیدہ اعضاء کو ڈھانپنا ہی مطلوب نہیں ہے اوربلکہ مریض ذہنیت والے مردوں کی بد نگاہی اور چھیڑ چھاڑ سے محفوظ ہی رکھنا بھی ہے ۔ حجاب عورت کے لئے ایک نعمت ہے جس میں فخر و اعتماد اور حقیقی خوبصورتی کا اظہار ہوتا ہے ۔حجاب عورت کو تمام فاسد عناصر محفوظ رکھتا ہے ۔ اس کے برعکس ننگا پن اور بے حجابی کو عزت یا ترقی کی علامت نہیں ہے ۔
فون نمبر    6397700258   
