بغیرویکسین لوگوں کی وجہ سے ویکسین لینے والوں کو بھی خطرہ:نئی تحقیق

نیوز ڈیسک
ٹورنٹو//سوموار کوٹورنٹو میں مشتہر ہونے والے ایک تازہ تحقیق میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ کورونا مخالف ویکسین نہ لگانے والے لوگ  ان کیلئے بڑا خطرہ ہے جنہوں نے کورونا مخالف ویکسین لگایا ہے۔ کینیڈا میں یونیورسٹی آف ٹورنٹو نے کورونا مخالف ویکسین نہ لگانے والے لوگوں کو ٹیکہ لگانے والے لوگوں کے ساتھ ملاکر کورونا وائرس کی پھیلنے کی صلاحیت کو جاننے کی کوشش کی ہے۔ تحقیق کے دوران غیر ویکسین شدہ لوگوں نے دیگر آبادی کی طرح ہی لوگوں کو متاثر کیا جب وہ  ان کے رابطے میں آئے ۔ یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے ڈالا لانا سکول آف پبلک ہیلتھ کے محقق ڈیوڈ فس مین نے بتایا ’’کورونا مخالف ٹیکہ کاری کی مخالف کرنے والوں نے ٹیکہ لینے کو انفرادی فیصلہ قرار دینے کی حمایت کی تھی‘‘۔انہوں نے کہا کہ تاہم اس کے برعکس ہم نے پایا کہ جو لوگ ویکسین نہیں لے رہے ہیں، وہ ان لوگوں کیلئے بڑا خطرہ بنے ہوئے ہیں جنہوں نے ویکسین لیا ہے‘‘۔تحقیق میں پایا گیا ہے کہ بغیر ویکسین والے لوگوں کو کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا زیادہ خطرہ رہتا ہے جب ان کو ایسی آبادی میں ڈالا جاتا ہے جہاں لوگوں نے ویکسین نہیں لیا ہو تاہم جب ویکسین نہ لینے والے لوگوں کو ویکسین لینے والے افراد کے ساتھ ملایا گیا تو  وہاں نئی کیس سامنے آنا شروع ہوگیا اور کئی جگہوں پر ویکسین لگانے والے لوگوں کی تعداد زیادہ تھی۔ تحقیق میں پایا گیا ہے کہ اگر ویکسین لینے والے لوگوں کی معدافتی قوت کمزور بھی تھی لیکن بوسٹر ڈوز نہ لینے کے بائوجود بھی  ویکسین لینے والوں کی معدافتی قوت مضبوط تھی۔ تحقیق کے مطابق مسقبل میں ممکنہ کورونا وائرس کی نئی ہیتوں سے نپٹنے میں ان سے کافی مدد ملے گی۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ  نہ لینے والوں سے نہ صرف  ٹیکہ لگانے والوں کا خطرہ ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ ویکسین کے خلاف لوگوں میں جزبات ، مخصوصی شعبہ کی جانب سے ویکسین کے بارے میں غلط جانکاری پھیلانے کی وجہ سے لوگوں نے ویکسین لینے سے انکار کیا جسکی وجہ سے وہاں نہ صرف لوگوں کو مشکلات کاسامنا کرنا پڑا بلکہ وہاں کی اقتصادیات کو بھی کافی نقصان پہنچا ہے۔ 

 

 

 

۔4اضلاع میں14کورونا سے متاثر

پرویز احمد 

 

سرینگر //جموں و کشمیر کے 16اضلاع میں کورونا وائرس سے کوئی بھی شخص متاثر نہیں ہوا ہے جبکہ دیگر 4اضلاع میں 14افراد کو مثبت قرار دیا گیا ہے۔ متاثرین کی مجموعی تعداد 4لاکھ 54ہزار کا ہندسہ پار کرکے 4لاکھ 54ہزار 4ہوگئی ہے۔ اس دوران جموں و کشمیر میں 9ویں دن بھی کورونا وائرس سے کسی کی موت نہیں ہوئی ہے۔ متوفین کی مجموعی تعداد 4751ہوگئی ہے۔ محکمہ صحت کی جانب سے فراہم کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق سوموار کو جموں و کشمیر میں کورونا وائرس کی تشخیص کیلئے 15ہزار 464ٹیسٹ کئے گئے جن میں 2مسافروں سمیت 14افراد کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں جن میںجموں صوبے میں 7جبکہ کشمیر میں7افراد کی رپورٹیں مثبت قرار دی گئی ہیں۔ کشمیر صوبے کے 7اضلاع جن میں پلوامہ، اننت ناگ ، کپوارہ ، بانڈی پورہ، گاندربل، کولگام اور شوپیان شامل ہیں جبکہ دیگر 3اضلاع میں7افراد کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں جن میں ایک بیرون ریاستوں سے سفر کرکے لوٹا ہے جبکہ دیگر 6افراد مقامی سطح پر رابطے میں آنے کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔ مثبت قرار دئے گئے 7افراد میں سرینگر میں2، بارہمولہ میں 2 جبکہ بڈگام میں3افراد کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں۔ کشمیر میں متاثرین کی مجموعی تعداد 2لاکھ 87ہزار 688ہوگئی ہے۔ اس دوران وادی میں مسلسل 50ویں دن بھی کورونا وائرس سے کسی کی موت نہیں ہوئی ہے ۔ متوفین کی مجموعی تعداد 2423بنی ہوئی ہے۔ جموں صوبے کے 9اضلاع جن میں ادھمپور، راجوری، ڈوڈہ، کٹھوعہ، سانبہ، کشتواڑ، پونچھ، رام بن اور ریاسی میں کسی کی رپورٹ مثبت نہیں آئی ہے جبکہ ضلع جموں میں7افراد کو مثبت قرار دیا گیا ہے۔ ضلع جموں میں مثبت قرار دئے گئے 7افراد میں ایک بیرون ریاستوں سے سفر کرکے لوٹا جبکہ دیگر 6مقامی سطح پر رابطے میں آنے کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔  جموں صوبے میں متاثرین کی مجموعی تعداد 1لاکھ 66ہزار 316ہوگئی ہے۔اس دوران مسلسل 9ویں دن بھی جموں و کشمیر میں کورونا وائرس سے کسی کی موت نہیں ہوئی ہے۔ متوفین کی مجموعی تعداد 2328بنی ہوئی ہے۔