برف‬ افسانچہ

ناصر منصور بٹ

دلاور خان کئی دنوں سے نظر نہیں آرہے ہیں۔ کیا پتہ خیریت سے ہیں بھی کہ نہیں۔ ویسے تو پچھلے ہفتہ سُننے میں آیا تھا کہ ان کی صحت کچھ ناساز سننے ہے۔ کھانسی نزلے اور زکام نے اُسے سختی سے گھیرا تھا اور شدت بخار کی وجہ سے بدن کپ کپارہا تھا۔ اچھا تو پھر جانا ہی پڑے گا ۔ ابا جی آپ کہاں جانے کی تیاری کررہے ہو ۔ آپ کو کیا پتہ نہیں باہر موسلادھار بارش کے بعد برف باری ہورہی ہے ۔ اچھااا۔۔۔ گویا اللہ تعالی نے گناہ گاروں کے دعائوں کی لاج رکھی ۔۔ اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکرانہ تو بنتا ہی ہے۔ لیکن بیٹا مجھے جانا ہوگا، میں نکلتا ہوں اللہ حافظ۔ آج گاڑیوں کی آمد رفت کچھ زیادہ نہیں ہے لوگ پیدل ہی مارچ کررہے ہیں۔ چلو میں بھی آج چلے چلو کی ہی چال چلتا ہوں۔ اچھا تو یہ مجھے چھوٹے چھوٹے بچے نظر آرہے ہیں برف کے ساتھ موج مستی ۔۔۔۔ ہاہاہا ۔۔۔۔ اپنا بچپن یاد آرہا ہے، وہ چلہ کلان کی شدید سردی جس میں پانی کا منجمد ہونا ۔۔۔ وہ شدید برفباری کہ کوہ بیابان کو جیسے برف کی چادر نے اپنے آغوش میں لیا ہو۔ وہ مہینوں بھر گھروں میں مانند اسیر ہونا ۔۔۔ وہ برف کے وسیلہ مختلف اصناف کی دل جویوں کے سامان ۔۔۔۔۔ اور آج ۔۔۔۔۔ چلو میں بھی پہنچ ہی گیا ۔ السلام علیکم دلاور خان ۔۔۔ وعلیکم واہ واہ ۔۔۔ دلاور خان حیران گی کی کیا بات ہے ۔۔ کیا یاد ہے نا وہ چھ چھ فٹ کی برف میں لمبی لمبی راہیں ہموار کرنا۔ ہم تو ماضی کے جوان ہیں ۔۔۔۔ خیر اپنا تو بتائو کیا حال ہے ۔۔۔۔ کیا بتائوں خود کی بے حالی کے ساتھ ساتھ اہل خانہ کو بھی برے احوال سے گزر نا پڑا ۔۔۔ ایک مہینے سے تا ہنوز ہزاوں روپے کی دوائیاں کچھ زیادہ فائد مند ثابت نہ ہوسکیں۔ ڈاکٹروں کے پاس پے در پے حفظان صحت کے خاطر آنا جانا ہوا ۔ آخر کار مرض کی بنیاد خشک آلود موسم حفظان صحت کے خلاف پایا ۔ بہر کیف اللہ کا لاکھ لاکھ شکر کہ اب چین کی سانس لے سکے۔

ہائوسنگ کالونی بڈگام ،موبائل نمبر؛9906971488