شبنم بنت رشید
فنا دنیا جب تلک نہ ہوگی جاناں
قلم میرا تجھے مرنے نہ دیگا
میری بجو کسی سے بھی کم نہیں بلکہ ہزاروں میں ایک ہے۔ بجو بڑی ملنسار، پیاری اور باصلاحیت لڑکی تھی۔ کہتے ہیں کہ بجو بچپن میں بڑی تیز بچی تھی۔ سیانے کہتے ہیں آج کا تیز بچہ کل کا زہین دماغ ضرور ہوتا ہے۔ بجو کی پیدائش پر اسکے امی ابو نے ڈھیر ساری خوشیاں منائیں۔ ویسے تو بجو کا اصلی نام پریسا ہے مگر ہم سب اسے پیار سے بجو کہہ کر پکارتے ہیں۔ خاص کر خاندان کے سارے بچے۔ بجو گھر میں سب سے چھوٹی تھی اس لئے سب کی لاڑلی بھی۔ بجو صرف ایک پیار سے دیا ہوا نام یا کنیت یا ایک لقب نہ تھا بلکہ ایک میٹھا کارواں تھا۔ اس کارواں کے اندر کئی کردار موجود تھے بجو کہیں ایک رفیق شفیق بیٹی، کہیں ایک ہمدرد بہن، کہیں مہربان خالہ تو کہیں ایک مخلص پھپھو کا کردار بخوبی نبھا رہی تھی۔ ہمیشہ تو خود خوش رہتی تھی مگر اوروں کو بھی خوش دیکھنا چاہتی تھی۔ مل جل کر رہنے کی قائل اسکے وجود کے اندر رشتوں کو ایک ہی مالہ میں پرونے کا ہنر موجود تھا۔ کسی بنت ہوا کے اندر یہ گن ہونا بڑی بات ہوتی ہے۔ خیر بجو نے بچپن سے لڑکپن پھر جوانی میں قدم رکھا۔ اسکول سے کالج پہنچی تو جوانی بھی ٹوٹ کر آئی۔ اونچا بلند قد، سیاہ گھنے لمبے لمبے بال، بڑی بڑی پرکشش مگر باحیا آنکھیں، موتی جیسے سفید چمکتے دانت کھل کھلاتی بجو سر سے لے کر ایڑیوں تک بڑی پیاری تھی۔ جب جب ننھال آجا یا کرتی تھی تو ننھال کی رونق بڑتی تھی۔ حیا دار طبیعت کی وجہ سے ہر جگہ اسے عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ ہمیشہ سے اچھے نمبرات لا کر بجو تو تعلیم کے ساتھ ساتھ عمر کے زینے طے کر تی گئی۔ تعلیم مکمل ہوتے ہی رب کائنات نے ایک بہت بڑی ذمہ داری سونپ کر صاحب روزگار بنایا۔ وہ ایک مقدس پیشے سے وابستہ ہو گئ۔ ہر طرف خوشیوں کے دیئے جلنے لگے۔ ننھال تو ننھال وہ تو دودھیال کی بھی آنکھوں کا تارہ بن گئی۔ سب کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گئ۔ خوشیوں کا موسم ابھی شروع ہی ہوا تھا کہ محبتوں کا وہ موسم شروع ہوا جس موسم میں ہر لڑکی کی آنکھوں میں ڈھیر سارے خواب مچلتے ہیں یعنی بجو کے لئے خاندان کے علاوہ باہر سے بھی رشتے آنے لگے۔ خیر بڑی چھان بین کے بعد خاندان کے زی عزت لوگوں سے صلح مشورہ کرکے بجو کا رشتہ ایک کاروباری لڑکے جواد احمد سے طے کیا گیا۔ جواد ہزاروں میں ایک تھا۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے علاوہ محنتی، باصلاحیت اور با اثر نوجوان تھا ہی اسکے اندر ڈھیر ساری خوبیاں بھی موجود تھیں۔ شکل و صورت سے بھی کوئی کم گو شہزادہ لگ رہا تھا۔ مائیکہ چھوڑنا بجو کو اچھا نہ لگ رہا تھا۔ بجو تو کیا ہر لڑکی کے لئے مائیکہ چھوڑنا کوئی آسان بات نہیں ہوتی ہے لیکن دین اور سماج کی خاطر ہر انسان کو اپنا اپنا گھر بسانا بھی بہت ضروری ہوتا ہے۔ جسکے لئے نکاح وہ پہلا بندھن ہوتا ہے جس سے دو دلوں کے علاوہ دو انجان خاندان جڑ جاتے ہیں۔ بجو نے ایک اچھی بیٹی کی طرح اپنے بڑوں کے فیصلے پر اپنا سر جھکا کر جواد کو دل کی گہرائیوں سے قبول کیا۔ دل کا تھر تھرانا کسے کہتے ہیں اور محبت کسے کہتے ہیں اسکا احساس بجو کو اپنے نکاح کے بعد ہوا۔ بجو کو تو جواد کی صورت میں ایک اچھا نیک ہمسفر ملا اور ساتھ میں سسرال کے اندر ساسو ماں کی مہربان آغوش بھی ملی۔ اب زندگی سے بجو کا پوری طرح سے تعارف ہوا۔ اسلئے بجو اس نئے ماحول میں بہت جلد گھل مل گئی۔ ورنہ تو شادی سے پہلے دودھ اور پھل بجو کے لئے سونے سے پہلے ہی کمرے میں پہنچائے جاتے تھے۔ کھانے کے لئے دسترخوان بچھا کر اور سجا کر اسے آواز دی جاتی تھی۔ چونکہ بجو کے وجود کے اندر محبت کی خمیر تھی۔ اسلئے اپنے میکے اور سسرال کے تعلق کو کبھی خراب ہونے نہ دیا بلکہ دونوں خاندانوں کو جوڑ کے رکھا۔ وہ محبت بانٹتی رہی تو الله تعالٰی نے دو ننھے ننھے پھول عطا کئے۔ اس طرح اس چھوٹے سے نام بجو کے کردار کے اندر ایک اور نام سماء گیا۔ دونوں ننھوں منوں کو چبا چبا کر لقمے کھلا رہی تھی۔ انہیں اپنے خون جگر سے پروان چڑھ رہی تھی۔ کچھ وقت کے بعد دونوں شہزادے چھوٹے چھوٹے قدموں سے اسکول جانے لگے۔ بجو محبتوں اور چاہتوں کو اپنے دامن میں سمیٹنے میں محو تھی کہ اچانک وقت تھم سا گیا۔ بجو کے ابو، امی اور بھائی جیسا ہمدرد جیجو ایک کے بعد ایک اللہ تعالی کے پاس چلے گئے۔ انکے چلے جانے سے بجو ٹوٹ سی گئی، بکھر گئی۔ بکھرنا تو ایک فطری عمل ہوتا ہے جب کوئی اپنا اچانک دنیا چھوڑ کر چلا جائے۔ کسی اپنے کو کھونا کوئی معمولی بات نہیں ہوتی ہے لیکن کسی کے بھی چلے جانے سے وقت نہیں رکتا۔ وقت کسی کا محتاج نہیں ہوتا مگر اسی وقت کے پاس ہر زخم کا مرہم بھی ہوتا ہے۔ بجو نے خود کو سنبھالا، سمجھایا۔ ایک طرف وہ ایک شریکِ حیات اور ماں تھی اور دوسری طرف اسکا پیشہ تھا۔ جسکے ساتھ وہ کبھی سمجھوتہ کرنے کے لئے تیار نہیں تھی۔ اس طرح وقت کے چلتے بجو سنبھل گئی اور اسکے مزاج میں کافی ٹھہراؤ آگیا۔ سخاوت اور سادگی آئ۔ نرم دل تو پہلے ہی سے تھی اب خدا کی عبادت میں زیادہ دھیان دینے لگی۔ دیکھتے ہی دیکھتے کل کی یہ ننھی شہزادی ایک زمہ دار عورت بن گئی۔
بجو کبھی اپنے ادارے کی ہیڈ رہی تو کبھی کسی کے ماتحت بھی کام کیا۔ کبھی انگاروں پر بھی چلنا پڑا۔ زندگی میں کئ اتار چڑھاؤ آئے۔ زندگی نے کئ روپ بھی دکھائی مگر نہ کبھی زبان سے کوئی شکوہ کیا اور نا ہی اسکے ماتھے پر کبھی کوئی شکن آئی۔ وہ غریبوں اور غریب بچوں کی مدد کرتی رہی۔ بچوں کو تعلیم کے نور سے منور ہونے کی تلقین کرنا اسکا مشن بن گیا۔ بالکل ایک باغبان کی طرح گھر اور اپنے پیشے کو خون جگر سے سینچتی رہی۔ کبھی گھر کے کسی کام کو ڈیوٹی پر فوقیت نہ دی اور نا کبھی ڈیوٹی کو گھر کے کاموں کے آڈے آنے دیا۔ گھر پر ایک مخلص شریک حیات اور ایک باہوش اور ہوشیار ماں اور ڈیوٹی پر ایک سپہ سالار کی طرح اپنا رول نبھاتی رہی۔ زندگی بھر ٹف روٹین (Tough Routine)رہی۔ جانتی تھی کہ آج آرام کی قربانی دوں گی تو کل میٹھا پھل ضرور ملے گا۔ جہاں جہاں بھی ڈیوٹی کے فرائض انجام دیکر ٹرانسفر ہو کر لوٹی تو ایک عمدہ اور لاجواب مثال قائم کر کے لوٹی۔ جب بھی ڈپارٹمنٹ کا عملہ چیکنگ کے لیے آتا تو بجو کو اپنی ڈیوٹی پر چٹان کی طرح کھڑا پاتا۔ اپنی ایمانداری اور محنت کے بدلے لوگوں سے ڈھیر سارا پیار ملا، عزت ملی۔ عزت اور محبت کا نام ہی تو زندگی ہے۔ اس طرح بجو اپنے سایہ تلے اپنے بچوں کو رزق حلال کھلاتی رہی۔ رزق حلال سے ہی تو زندگی میں برکت اور سکون ملتا ہے اور اولاد اولاد صالح بن جاتے ہیں۔ ورنہ تو لوگ صرف چند سکوں کی خاطر بے ایمانی کرکے اپنے گھروں کا سکون برباد کرکے اپنے بچوں کے مستقبل کو ضائع ہی کرتے ہیں۔ بجو ترقی کی سیڑیاں چڑھتی رہی۔ نہ دھن کا لالچ نہ دانے کی فکر کبھی ادھر تو کبھی ادھر حکم اور تہذیب کے دائیرے کے اندر گھومتی رہی۔ کبھی خود کو لے کر خود غرضی نہ کی۔ کبھی بے ایمانی بھی نہ کی۔ وقت کا پہیہ بھی اپنی رفتار سے گھومتا رہا کہ بجو کب ریٹائر منٹ کے قریب پہنچی اسے پتہ نہ چلا۔ وقت ایک بار پھر سے تھم سا گیا۔ ابھی بجو کو بہت کچھ کرنا باقی تھا۔ اسے اپنے پیشے کو خون جگر سے سینچنا تھا۔ خیر یہ تو ہونا ہی تھا کیونکہ سرکار تو اپنے ملازم کے لئے ایک مدت مقرر کرتی ہے اور اس مقررہ وقت پر اس حکم کو نا چاہتے ہوئے بھی ملازم کو قبول کرنا پڑتا ہے۔
یہ سال بجو کی نوکری کا آخری سال تھا۔ اس نے پورا سال دن گن گن کر گزارا۔ پھر آخری مہینہ شروع ہوا۔ آخر کار ڈیوٹی دینے کا آخری دن بھی آن پہنچا۔ بجو کے دل کے اندر عجیب احساسات مچلنے لگے۔ خیر بجو خوش بھی بہت تھی۔ اسے تو ڈیوٹی کے درمیان کافی نیکیاں کمانے کا موقع ملا۔ اللہ تعالی نے ساتھ دیا اسلئے عزت آبرو کے ساتھ پورا کیریر بے داغ گزر گیا۔ کردار پر بھی کوئی آنچ نہیں آئی۔ کبھی کوئی غفلت نہ ہوئی۔ سچائی کی راہ پر چلنا تو بجو کی زندگی کا مقصد تھا۔ زندگی کے نیک مقاصد پورے ہو جائیں تو پھر بندے کو اللہ کے سوا کسی سے بھی ڈرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایک آخری دن ابھی باقی تھا لیکن آج بجو پوری رات سو نہ سکی۔ طویل تھکا دینے والے سفر کا اختتام خوشی پر ہونے والا تھا۔ تلخ اور شیریں واقعات بجو کی آنکھوں کے سامنے فلم کی طرح چلنے لگے۔ کروٹ بدل بدل کر نہ جانے رات کے کس پہر آسکی آنکھ لگی مگر حسبِ معمول فجر کے وقت وہ بیدار ہوئی۔ فجر کے بعد شکرانے کے نفل ادا کئے۔
وقت کی پابند بجو آج وقت سے پہلے نہا دھو کر تیار ہوئی۔ اپنا پسندیدہ ہلکے کلر کا سوٹ، میچنگ پرس اور میچنگ چپل پہنی۔ اس کے وجود پر ٹوٹ کر نکھار آیا۔ آج اسکی شخصیت میں اعتماد جھلک رہا تھا۔ اسکی آنکھوں میں سچائی اور ایمانداری کا وقار صاف صاف دکھائی دے رہا تھا۔ بجو جانتی تھی سب کا وقت قیمتی ہوتا ہے۔ اسلئے وقت کی پابند بجو وقت پر اپنی ڈیوٹی پر پہنچی۔ سب سے پہلے اپنا فرض نبھا کر آئی۔ پھر اپنی سبکدوشی کی تقریب میں پہنچی۔ اسکا والحانہ استقبال کیا گیا۔ سکول کا پورا صحن بھرا تھا۔ اسے کئ تحفوں اور اعزازات سے نوازا گیا۔ پھولوں اور نوٹوں کے ہار پہنائے گئے۔ سٹاف ممبران نے بجو کے اعزاز میں انمول جملے ادا کئے۔ اسے محسوس ہورہا تھا کہ آج اسے خاموش ریاضت کا پھل ملا۔ اسے آگے کی زندگی گزارنے کا بھی حوصلہ ملا۔ آج سکول کے تمام بچوں نے بجو کو عزت اور محبت سے گلے لگا یا۔ بدلے میں بجو انہیں دعائیں دیتی رہی۔ تعلیم کو اپنا مقصد بنانے کی تلقین کرتی رہی۔
آخر کار بجو کو نم آنکھوں اور تالیوں کی گونج کے درمیان اسکول سے رخصت کرکے سبکدوشی کے اس دن کو عزت بخش کر اتنا یادگار بنایا جس کو بجو عمر بھر بھلا نہ سکے گی۔ بجو نے سب کا شکریہ ادا کرکے خوشی اور نم آنکھوں سے اپنے اسکول کو خدا حافظ اور الوداع کہا۔ مبارک باد کے لئے گھر پر بہت سارے مہمان آئے تھے۔ یہ دوسرے دن کا ذکر ہے آج بجو کا وہ پہلا دن تھا جب اسکول نہیں جانا تھا اسلئے سورج کی کرنیں بھی بڑی فرصت سے بجو کے آنگن میں اتر آئی۔ نئی زندگی کا آغاز ہوچکا تھا۔ گھر کے اندر بھی بہت ساری ذمہ داریاں انتظار کر رہی تھیں جن کو نبھا کر بجو کو اپنے کردار کو آسمان کی بلندیوں تک پہنچانا ہے۔ اسلئے بجو گھر کے کاموں میں جٹ گئی۔
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں
تو شاہین ہے پرواز ہے کام تیرا
تیرے سامنے آسمان اور بھی ہیں
���
پہلگام اننت ناگ،کشمیر
موبائل نمبر؛9419038028