بلال فرقانی
سرینگر//کشمیر پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ نے بجلی کے شعبے میں ہونے والے نقصانات کو مدنظر رکھتے ہوئے وادی بھر کے مختلف علاقوں میںکٹوتی شیڈول میں اضافہ کیا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ10روز سے صبح و شام اور دوپہر کو بجلی کے کٹوتی شیڈول میں اضافہ ہوا ہے،جس کی وجہ سے گرمیوں کے ان ایام میں شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ فیس کی ادائیگی بھی تواتر سے کر رہے ہیں اور اب بیشتر علاقوں میں سمارٹ میٹروں کی تنصیب بھی کی گئی ہے تاہم اس کے باوجود گرمیوں میں کٹوتی شیڈول میں اضافہ ہوا ہے۔محکمانہ ذرائع کا کہنا ہے کہ21جولائی کو ایگزیکٹو افسراں اور دیگر افسراں بالا کی ایک جائزہ میٹنگ کے ددران اضافی کٹوتی کا فیصلہ اْن فیڈرز کی کارکردگی کی بنیاد پر کیا گیا ہے جہاں بجلی کے بلوں کی ادائیگی کم اور ترسیلی و تقسیم نقصانات زیادہ ہیں، جن میں نان میٹرڈ علاقے بھی شامل ہیں۔محکمے کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ جن فیڈروں پر مجموعی تکنیکی اور تجارتی نقصانات 40 فیصد سے زائد ہے، وہاں روزانہ کی بنیاد پر 6 گھنٹے بجلی بند کی جائے گی۔ اس بندش کو 3 اوقات میں تقسیم کیا گیا ہے: صبح 2 گھنٹے، دن کے دوران 2 گھنٹے، اور شام کے وقت مزید 2 گھنٹے۔ افسر نے کہا کہ ’’زیادہ نقصان والے علاقوں میں لوڈ مینجمنٹ کی ضرورت ہے تاکہ نظام کو بحال رکھا جا سکے اور بجلی کی منصفانہ تقسیم ممکن ہو۔‘‘ ذرائع نے بتایا کہ اسی طرح ان فیڈروں پر جہاں بجلی نقصان 20 سے 40 فیصد کے درمیان ہے، وہاں صارفین کو روزانہ 2 گھنٹے بجلی کی کٹوتی کا سامنا کرنا پڑے گا، جس میں ایک گھنٹہ صبح اور ایک گھنٹہ شام شامل ہے۔ محکمے کے ایک افسر نے بتایا، جو علاقے بلوں کی ادائیگی میں بہتر کارکردگی دکھائیں گے، انہیں ترجیحی بنیادوں پر بجلی فراہم کی جائے گی اور کٹوتی میں ممکنہ طور پر نرمی کی جائے گی۔کشمیر پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ کے چیف انجینئر نثار احمد نے واضح کیا ہے کہ وادی میں بجلی کی کٹوتی کے حوالے سے کوئی خفیہ یا غیر اعلانیہ تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ محکمہ صرف ترسیلی لائنوں کی مرمت اور بہتری پر کام کر رہا ہے، جس کے باعث بعض علاقوں میں صارفین کو عارضی طور پر بجلی کی بندش کا احساس ہو سکتا ہے۔نثار احمد نے بتایا کہ محکمہ پچھلے برس کے لوڈ کٹوتی شیڈول پر ہی عمل پیرا ہے اور اس میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔چیف انجینئر نے مزید کہا کہ وہ فیڈر جہاں مجموعی تکنیکی و تجارتی نقصانات (ایگریگیٹ ٹیکنیکل اینڈ کمرشل) نقصانات 20 فیصد سے کم ہیں، انہیں بلا تعطل بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا’’ہم صارفین کو مناسب مقدار میں بجلی فراہم کرنے کیلئے پوری طرح پرعزم ہیں، لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ صارفین بھی اپنی ذمہ داریاں نبھائیں اور بل بروقت ادا کریں۔