بانہال// جموں سرینگر شاہراہ پر واقع بانہال کے میر پورہ کھارپورہ علاقے کے لوگوں نے پینے کے پانی کی عدم دستیابی کے خلاف شاہراہ پر احتجاجی مظاہرہ کیا ،جس کی وجہ سے شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت کم از کم آدھے گھنٹے تک معطل ہو کر رہ گئی۔ بانہال قصبہ سے ایک کلومیٹر کی مسافت کے اندر شاہرہ پر واقع میر پورہ کی بستی کے مرد و خواتین نے جمعہ کے روز شاہراہ پر دھرنا دیا اور محکمہ جل شکتی کے خلاف زوردار احتجاج کیا۔ احتجاجی مظاہرے کی وجہ سے ٹریفک میں بھی کچھ وقت کیلئے خلل پڑا تاہم ایس ایچ او بانہال کی مداخلت اور احتجاجیوں سے بات چیت کے بعد شاہراہ پر ٹریفک کی نقل وحرکت بحال کی۔ محمد اشرف میر نامی مقامی شہری نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ان کا علاقہ میر پورہ پچھلے بیس روز سے پینے کے پانی کے بغیر ہے جس کی وجہ سے پوری بستی سخت مشکلات سے دوچار ہے اور پانی کیلئے نیچے نالہ بشلڑی کے کناروں کا رخ کرنے پر مجبور ہے۔ انہوں نے کہا کہ شابن باس کے واٹر ریزرور سے شاہراہ پر واقع میر پورہ کی بستی تک بچھائی گئی دہائیوں پرانی پائپ لائین تباہ حال ہے اور جگہ جگہ ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے پینے کا پانی ضائع ہورہا ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ محکمہ جل شکتی کے لائین مین ڈیوٹی پر آتے ہی نہیں ہیں بلکہ پانی کو تعمیراتی کام کرنے والے گھروں کو مبینہ طور بیچ دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے میر پورہ کی بستی پینے کے پانی کے مسائل سے دوچار ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ جل شکتی کے ملازمین انہیں کہتے ہیں کہ ان کے پاس نہ نلکے ہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا سامان موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ جل شکتی کے ملازمین نے مقامی لوگوں سے کہا ہے کہ وہ ہلہ شیری کرکے رقم جمع کریں تاکہ اس سے پائپ لائین ٹھیک کرنے کیلئے ساکٹ اور یونین وغیرہ خریدے جا سکیں تاکہ پانی کی بحالی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کا کہنا ہے کہ ٹینڈروں کے بغیر وہ ایک پائپ بھی استعمال کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔ بعد میں ایس ایچ اور بانہال نعیم الحق نے موقع پر پہنچ کر لوگوں کو یقین دلایا کہ معاملہ اعلی حکام اور جل شکتی محکمہ کی نوٹس میں لاکر حل کرایا جائیگا تب جاکر لوگوں نے شاہراہ سے ہٹ کر اپنا احتجاج ختم کیا اور شاہراہ پر ٹریفک کو بحال کرنے کی اجازت دی۔احتجاج کرنے والے مقامی لوگوں نے بتایا کہ احتجاجی مظاہرے اور ایس ایچ او بانہال کی یقین دہانی کے بعد محکمہ جل شکتی کا ایک جونئر انجینئر اور ملازمین بھی موقع پر پہنچے اور بیس روز بعد پانی کی سپلائی کچھ ہی وقت کیلئے بحال کی گئی اور قریب بیس روز بعد لوگوں کو نلکوں سے تیس تیس لیٹر پانی نصیب ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہاں بستی کیلئے شاہراہ پر ایک ہینڈ پمپ لگا تھا جو فورلین تعمیراتی کمپنی نے اُکھاڑ دیا اور اس کی بحالی کیلئے ہماری فریاد ان سنی کی جاری ہے۔ ایس ایچ او بانہال نعیم الحق نے کشمیر عظمی ٰکو بتایا کہ انہوں نے معاملہ ایس ڈی ایم بانہال کی نوٹس میں لایا اور محکمہ جل شکتی کے ملازمین کو موقع پر بھیج دیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے وہاں کام کر رہی فورلین شاہراہ تعمیراتی کمپنی کو میر پورہ بستی بانہال کیلئے پینے کا پانی بحال ہونے تک ٹینکر سے پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔