بانہال //نیشنل ہائے وے اتھارٹی آف انڈیا نے ساڑھے آٹھ کلومیٹر لمبے بانہال قاضی گنڈ فور لین ٹنل پر ٹول ٹیکس لینے کا سلسلہ ہفتے کے روز سے شروع کیا گیا ہے اور اس کیلئے ٹول ٹیکس وصولنے والی ایک کمپنی نے اپنا کام کاج سنبھال لیا ہے ۔سنیچر کو ٹنل کے پار جانے والی گاڑیوں کو ٹول ٹیکس کی ادائیگی کے بعد ہی جانے کی اجازت تھی ۔ اس طرح پچھلے قریب ایک مہینے سے فورلین ٹنل کے اندر جاری مفت ٹرائیل کا سلسلہ بھی اپنے اختتام کو پہنچا ہے۔ اس سلسلے میں مرکزی وزارت برائے زمینی ٹرانسپورٹ کے ادارے نیشنل ہائے وے اتھارٹی آف انڈیا نے حال ہی میں ایک نوٹیفکیشن جاری کی ہے۔ جاری نوٹیفکیشن کے مطابق چھوٹی نجی گاڑیوں کا یکطرفہ ٹول ٹیکس 130روپے جبکہ دوطرفہ195روپے مقرر کیا گیا ہے۔ منی بسوں، ٹاٹا سومو اور ٹاٹا موبائل، لوڈ کیریر کے علاوہ دیگرچھوٹی مال بردار گاڑیوں کیلئے یکفرطہ ٹول ٹیکس 210اور دوطرفہ 315روپئے مقرر کیا گیا یے۔ بڑی مسافر گاڑیوں اور بڑی مال بردار گاڑیوں کیلئے ٹول ٹیکس کی یکطرفہ شرح 440روپئے رل اور دوطرفہ 660روپے مقرر کیا گیا ہے۔12پہیوں والی مال بردار گاڑیوں کیلئے 480اور 720روپئے ٹول ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔16پہیوں والی مال بردار گاڑیوں کا ٹول ٹیکس 690اور 1035روپئے مقرر کیا گیا ہے۔ ٹرالروں کا ٹول ٹیکس 840یکطرفہ طور پر اور دو طرفہ 1260روپئے مقرر کیا گیا ہے۔ جبکہ ضلع رامبن کی رجسٹریشن والی چھوٹی گاڑیوں کو ایک طرف سے 65روپئے کا ٹول ادا کرنا ہوگا ۔ٹول ٹیکس کی ادائیگی کیلئے فاسٹیگ کی سہولیات بھی رکھی گئی ہیں جو ماہانہ کی بنیاد پر ہوگا۔بانہال کے مقامی لوگوں نے بانہال کی چھوٹی نجی اور مسافر گاڑیوں کیلئے ٹول ٹیکس معاف کرنے کی حکام سے مانگ کی ہے۔ ہرمن سنگھ منیجر ٹول پلازہ بانہال نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا نیشنل ہائے وے اتھارٹی آف انڈیا کی گائیڈ لائین کی روشنی میں کسی کیلئے بھی مفت ٹول نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹول پلازہ کے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں آنے والی نجی گاڑیوں کیلئے 285روپئے ماہانہ ادا کرنا ہوگا اور اس مہینے میں کے ریچارج میںوہ پچاس بار ٹول ادا نہ کرنے کے حقدار ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ فاسٹیگ کے بغیر کوئی بھی شخص اس سہولیات سے فائیدہ نہیں اٹھا سکے گا اور فاسٹیگ کے بعد ہی وہ پاس بنانے کے حقدار ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹول پلازہ ک شروع کرنے کے پہلے ہی دن تمام نظام بہتر طریقے سے چلتا رہا اور کسی بھی قسم کی کوئی دقت پیش نہیں آئی ۔