نئی دہلی’//بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپوزیشن کے لوک سبھا انتخابات کے نتائج حسب خواہ نہیں آنے پر ‘ہتھیار اٹھانے ’ اور ‘خون کی ندیاں بہانے ’ جیسے بیان دینے پر آج سوال کیا اور کہا کہ ایسے پرتشدد اور غیر جمہوری بیان سے کسے چیلنج کیا جارہا ہے ۔ بی جے پی صدر امت شاہ نے بدھ کو ٹوئٹ کیا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی مخالفت ملک کے عوام کے حق رائے دہی کی توہین ہے ۔ شکست سے بوکھلائی 22اپوزیشن پارٹیاں ملک کے جمہوری عمل پر سوالیہ نشان لگاکر دنیا میں ملک اور جمہوریت کا امیج خراب کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ای وی ایم پر اپوزیشن کے ذریعہ اٹھائے جانے والے سوال صرف گمراہ کرنے کی کوشش ہے ۔ جس سے متاثر ہوئے بغیر ہم سبھی کو جمہوری اداروں کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ ای وی ایم میں گڑبڑی کے معاملے پر ‘پروایکٹیو’ قدم اٹھاتے ہوئے الیکشن کمیشن نے عوامی طور پر ایسا کرنے کی دعوت دی تھی لیکن اس چیلنج کو کسی بھی اپوزیشن جماعت نے تسلیم نہیں کیا تھا۔ بی جے پی صدر نے کہا کہ اپوزیشن نے ای وی ایم پر ہنگامہ لوک سبھا الیکشن کے چھ مرحلوں کی پولنگ ختم ہونے کے بعد شروع کیا۔ ایگزٹ پول کے بعد یہ اور بھی تیز ہوگیا ہے ۔ ایگزٹ پول ای وی ایم کی بنیاد پر نہیں بلکہ پولنگ میں ووٹروں سے پوچھے گئے سوالات کی بنیاد پر کئے جاتے ہیں۔ اس لئے ایگزٹ پول کی بنیاد پر ای وی ایم کی معتبریت پر کیسے سوال اٹھایا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ووٹوں کی گنتی کے صرف دو دن پہلے اپوزیشن جماعتوں کے ذریعہ انتخابی عمل میں تبدیلی کا مطالبہ غیر آئینی ہے کیوں کہ اس طرح کا کوئی بھی فیصلہ تمام جماعتوں کے اتفاق رائے کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔ ملک کی عدالت عظمی نے تین سے زیادہ مفاد عامہ کی عرضیوں کا نوٹس لینے کے بعد انتخابی عمل کو آخری شکل دی ہے جس میں ہر اسمبلی حلقہ میں پانچ پولنگ مراکز کے وی وی پیٹ کی پرچیوں کو ای وی ایم سے ملانے کا حکم دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ای وی ایم کی معتبریت پر سوال اٹھانے والی بیشتر اپوزیشن پارٹیوں نے کبھی نہ کبھی ای وی ایم سے ہوئے انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے ۔ انہیں اگر ای وی ایم پر اعتماد نہیں ہے تو انہوں نے الیکشن جیتنے کے بعد اقتدار کیوں سنبھالا۔