عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی//وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو 1975 میں نافذ کی گئی ایمرجنسی کو آئین پر “براہِ راست حملہ” قرار دیتے ہوئے اس دور میں جمہوری اقدار کے دفاع کے لیے جدوجہد کرنے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ایمرجنسی کے نفاذ کی 51ویں برسی کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیر اعظم مودی نے شہری آزادیوں کی معطلی اور سخت مینٹیننس آف انٹرنل سکیورٹی ایکٹ (میسا) کے تحت سیاسی رہنماؤں کی گرفتاریوں کو یاد کیا۔وزیر اعظم نے آئینی اقدار کے تحفظ کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم سب کے لیے ہمارا آئین 140 کروڑ ہندوستانیوں کی امنگوں، حقوق اور فرائض کا مظہر ہے۔ ہم آئینی اقدار کے تحفظ کے اپنے اجتماعی عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔ اپنے آئین کی روح کی رہنمائی میں ہم ایک ایسے ہندوستان کی تعمیر کریں گے جو انصاف، آزادی، مساوات اور اخوت کے اصولوں کے لیے ہمیشہ پُرعزم رہے گا۔ادھربھارت میں ایمرجنسی نافذ ہونے کے تقریباً پانچ دہائیوں بعد، نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) نے پہلی بار اس موضوع کو کلاس 9 کی نصابی کتاب میں شامل کیا ہے۔ اس باب میں ایمرجنسی کو ‘بڑے چیلنجوں میں سے ایک’ کے طور پر بیان کیا گیا ہے، کیونکہ اس عرصے کے دوران زیادہ تر بنیادی حقوق معطل کر دیے گئے تھے۔ایمرجنسی کا ذکر حال ہی میں جاری ہونے والی سماجی سائنس کی نصابی کتاب ‘انڈرسٹینڈنگ سوسائٹی: انڈیا اینڈ بیونڈ’ میں ملتا ہے، جس میں بھارتی جمہوریت کی خوبیوں اور چیلنجوں کا تجزیہ کرنے والے ایک باب میں ایمرجنسی کو شامل کیا گیا ہے۔این سی ای آر ٹی کے ایک اہلکار نے تصدیق کی کہ یہ پہلا موقع ہے جب کلاس 9 کی نصابی کتاب میں ‘ایمرجنسی’ پر کوئی سیکشن شامل کیا گیا ہے۔ یہ اسکول کے نصاب میں ایک اہم تبدیلی ہے، خاص طور پر جب کہ ملک نے حال ہی میں سال 1975 میں نافذ ایمرجنسی کی 50 ویں سالگرہ منائی۔اس حصے میں بتایا گیا ہے کہ “بھارت میں جمہوریت کو ایک بڑے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا جب سال 77-1975 میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ سال 1970 کی دہائی کے اوائل میں اندرا گاندھی کی زیرقیادت حکومت کے خلاف عوامی عدم اطمینان بڑھ رہا تھا۔ اس دوران بڑھتی ہوئی بے روزگاری، مہنگائی، اور غلط حکمرانی کے الزامات کے باعث بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے۔””ایمرجنسی” سے متعلق سیکشن جمہوری نظاموں کو درپیش چیلنجز پر ایک وسیع بحث کا حصہ ہے۔ ایمرجنسی کے علاوہ، نصابی کتاب میں جعلی خبروں، غلط معلومات، عوامی املاک کو نقصان، عوامی قوانین کی خلاف ورزی، غربت، علاقائیت، سماجی امتیاز، اور صنفی عدم مساوات جیسے مسائل پر بھی بحث کی گئی ہے جو جمہوریت کے لیے چیلنج ہیں۔اس باب میں “جمہوریت اور آپ” کے عنوان سے ایک نیا حصہ بھی شامل کیا گیا ہے۔ این سی ای آر ٹی کا کہنا ہے کہ اسے پہلی بار شامل کیا گیا ہے تاکہ طلبہ کلاس روم میں جو کچھ سیکھتے ہیں اسے شہری اور جمہوری عمل میں شریک ہونے کے طور پر اپنے کردار سے جوڑ سکیں۔