سید امجد شاہ
جموں// سابق قانون ساز اور جموں و کشمیر بی جے پی کے سینئر لیڈر دیویندر سنگھ رانا نے منگل کو کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے انہیں یقین دلایا ہے کہ حکومت نے کسی بھی زمرے میں بجلی کی فیس میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔رانا نے یہاں بی جے پی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’بجلی کے نرخوں کے حوالے سے کسی قسم میں کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا تاکہ صنعتوں، کاروباری اداروں اور عام لوگوں کو نقصان نہ پہنچے‘‘۔وہ ان لوگوں کا حوالہ دے رہے تھے جنہوں نے بی جے پی اور فیڈریشن آف انڈسٹریز کے ممبران سے رابطہ کیا جنہوں نے جموں پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کی طرف سے بجلی کے نرخوں میں مجوزہ اضافے پر ناراضگی کا اظہار کیا۔انہوں نے فیڈریشن کے ایک میمورنڈم کا حوالہ دیتے ہوئے جہاں انہوں نے بتایا تھا کہ بجلی کے محکمے نے اکتوبر 2022 میں بجلی کے استعمال کے چارجز میں پہلے ہی 25-38 فیصد اضافہ کر دیا ہے اور یہ اضافہ ہماچل پردیش سے بھی زیادہ ہے، جو پنجاب سے تھوڑا کم ہے۔انکاکہناتھا’’اگر بجلی کے نرخوں میں ایک بار پھر اضافہ کیا جاتا ہے تو اس کا جموں و کشمیر کی حکومت کی صنعت کاری کی پالیسی پر برا اثر پڑے گا۔ لہذا، ہم نے یہ مسئلہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے سامنے اٹھایا‘‘۔انہوں نے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے لوگوں کے حقیقی مطالبات کا مثبت جواب دیا جنہیں بی جے پی نے ان کے سامنے اجاگر کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ میں ایل جی منوج سنہا کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا کیونکہ انہوں نے صنعت کاروں کے تحفظات کو سمجھا اور ہمیں بتایا کہ کسی بھی زمرے میں بجلی کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا تاکہ تاجروں، صنعتوں اور عام لوگوں کو فائدہ پہنچے۔انہوں نے مزید کہا کہ ”بی جے پی جموں و کشمیر کے لوگوں کی خوشحالی اور ترقی کے لیے پرعزم ہے۔ جموں و کشمیر 5 اگست 2019 کے بعد مسلسل بنیادی ڈھانچے کی ترقی، صنعت کاری، ترقیاتی کاموں میں شفافیت کا مشاہدہ کر رہا ہے‘‘۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ جموں و کشمیر شمالی ہندوستان میں ایک اہم مقام اور منزل کے طور پر ابھرے گا۔انہوں نے کہا کہ “لوگوں کے درمیان امن اور بھائی چارے میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ معاشرے کے ہر طبقے کو اس کا حق مل رہا ہے”۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ جموں و کشمیر کے تمام لوگوں کو یکساں مواقع فراہم کریں گے۔صحافیوں کے ذریعہ اٹھائے گئے ایک سوال کے جواب میں رانا نے کہا کہ “انتخابات کا فیصلہ الیکشن کمیشن آف انڈیا ایک خودمختار ادارہ ہونے کی وجہ سے کرے گا۔ جہاں تک بی جے پی کا تعلق ہے، ہم اسمبلی انتخابات کے لیے تیار ہیں‘‘۔انہوں نے کانگریس پارٹی پر حملہ کرتے ہوئے اسے جموں و کشمیر کے نامساعد حالات میں تین دہائیوں سے زیادہ عرصے نامساعد حالات کیلئے ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا “کانگریس پارٹی جموں و کشمیر کے حالات کے لئے ذمہ دار ہے”۔ انہوں نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے خوشحالی اور امن واپس لانے کے لئے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے کام کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی ہمیشہ جموں و کشمیر کے عوام کے مفاد کے لئے کھڑی رہے گی۔
ایل جی نے کسی بھی زمرے میں بجلی فیس میں کوئی اضافہ نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی