ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے انسٹاگرام پر استعفیٰ دیا

تہران//ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے پیر کو اپنے انسٹاگرام پیج کے ذریعہ استعفی دینے کا اعلان کیا۔ مسٹر ظریف نے وزیر خارجہ کے عہدہ پر بنے نہ رہ سکنے کے لئے معافی بھی مانگی۔مسٹر ظریف نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں 67 ماہ تک دی گئی حمایت کے لئے ایران کا شکریہ ادا کیا۔ مہر نیوز کے مطابق مسٹر ظریف نے اپنے انسٹاگرام بلاگ پر کہا‘‘ایران انتظامیہ اور ایران کے بھادر لوگوں کا گزشتہ 67 ماہ کے لئے شکریہ۔ میں پوری ایمانداری سے خدمات جاری نہ رکھ سکنے کیلئے معافی مانگتا ہوں’’۔نائب وزیر خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوي نے بھی اسلامی جمہوریہ نیوز ایجنسی کے ساتھ ایک انٹرویو میں اس خبر کی تصدیق کی ہے ۔اس کے باوجود ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ صدر حسن روحانی نے مسٹر ظریف کااستعفی منظور کیا ہے یا نہیں۔ مسٹر طویل عرصہ تک صدر کے معتمد خاص تھے ۔ مسٹر ظریف 2013 میں ایران کے وزیر خارجہ مقرر ہوئے تھے اور سال 2015 کے عالمی طاقتوں کے ساتھ ہونے والے ایران کے جوہری معاہدے میں ان کا رول اہم تھا۔ وہ سال 2002 سے 2007 تک اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے بھی رہے تھے ۔یو این آئی
 
 

روحانی نے استعفیٰ منظور نہیں کیا

 تہران// ایران کے صدر حسن روحانی کے چیف آف اسٹاف محمد واعظی نے واضح کردیا کہ صدر نے وزیر خارجہ محمد جواید ظریف کاستعفیٰ منظور نہیں کیا ہے ۔ مسٹر واعظی نے ٹویٹ کیا‘‘صدر کی طرف سے مسٹر ظریف کا استعفیٰ منظور کرنے سے متعلق آ رہی رپورٹ بلا شبہ جھوٹی اور غلط ہے ’’ ۔ مسٹر ظریف نے پیر کو اپنے انسٹاگرام پیج کے ذریعے وزیر خارجہ کے عہدے سے استعفیٰ دینے کا علان کیا تھا۔ مسٹر ظریف نے عہدے پر نہ رہ پانے کے لئے معافی مانگی تھی ۔ اس کے بعد کچھ میڈیا رپورٹ میں کہا گیا کہ صدر روحانی نے وزیر خارجہ کے استعفی کو منظور کر لیا ہے ۔ مسٹر واعظی نے ان میڈیا رپورٹ کی تردید کرتے ہوئے انہیں جھوٹا اور غلط قرار دیا۔وزارت خارجہ کے اسسٹنٹ نے کہا کہ وزارت کے ملازمین کو مسٹر ظریف کے استعفی یا اس کے اسباب کی خبر نہیں ہے ۔ وزارت خارجہ کے اٖٖٖفیسر نے زور دے کر کہا کہ مسٹر ظریف کا انسٹاگرام اکاؤنٹ سرکاری ہے اور اسے ہیک نہیں کیا گیا۔ یو این آئی