نیویارک//اقوام متحدہ کے ایٹمی واچ ڈاگ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران اپنے مستقبل سے متعلق غیر یقینی کی صورتحال کے باوجود عالمی طاقتوں سے کیے گئے جوہری معاہدے کی پاسداری کر رہا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران تاحال 2015 کے 'مشترکہ جامع پلان آف ایکشن' کے طے شدہ نکات پر عمل کر رہا ہے۔'یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے سے مئی میں دستبردار ہونے اور ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد معاہدے کا مستقبل خطرے میں ہے۔آئی اے ای اے کی رپورٹ میں کہا گیا ایجنسی کو ایران کے ان تمام مقامات اور سائٹس تک رسائی حاصل تھی جسے وہ دیکھنا چاہتی تھی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ ایران کے کم افزودہ یورینیم اور بھاری پانی کے ذخائر میں گزشتہ رپورٹ کے مقابلے میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، لیکن یہ ذخائر معاہدے کی طے شد حد کے اندر ہیں۔گزشتہ روز ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے خبردار کیا تھا کہ اگر ان کا ملک اپنے مفادات کا تحفظ نہ کر سکا تو وہ عالمی طاقتوں کے ساتھ کیے گئے جوہری معاہدے سے دستبردار ہوسکتا ہے۔امریکا کی جانب سے ایران پر عائد کی گئی پابندیوں سے ایرانی حکومت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور غیر ملکی کمپنیاں بھی ملک سے روانہ ہونا شروع ہوگئی ہیں، جس کی وجہ سے بڑی سطح ہر سرمایہ کاری کی امید بھی دم توڑ گئی ہے۔چند روز قبل ایران کی تاریخ میں پہلی مرتبہ صدر حسن روحانی کو ملک میں جاری معاشی بحران اور اس کے سدباب کے لیے پارلیمنٹ میں طلب کیا گیا تھا۔گزشتہ ہفتے یورپی یونین نے ایران کے معاشی استحکام اور سماجی ترقی میں مدد کے لیے 1 کروڑ 80 لاکھ یورو کی منظوری دی تھی۔یاد رہے کہ رواں سال جون میں ایران نے نئے سینٹری فیوجز کی مدد سے یورینیم کی افزودگی کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے ایک منصوبہ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔