اڑھائی سال کا عرصہ گذر گیا،نئے انتظامی یونٹوں کا حال ہی برا

سرینگر// نئے انتظامی یونٹوں کے قیام کو دو برس سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن اکثر تحصیل ،سی ڈی بلاک اور سب ڈویژن عملے اور بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔نئے یونٹوں کے قیام کے دوران سرکار نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ان کے قیام سے لوگوں کے مسائل حقیقی معنوں میں حل ہوں گے تاہم کئی جگہوں پر انتظامی یونٹ صرف فائلوں تک ہی محدود ہیں ۔معلوم رہے کہ نئے انتظامی یونٹوں کی تشکیل کا فیصلہ لیتے وقت اُس وقت کی نیشنل اور کانگریس جماعتوں نے کہا تھا کہ نئے یونٹوں پر خرچ کرنے کیلئے 1510کروڑ روپے کی بھاری رقوم درکار ہے جبکہ نئے یونٹوں کو چلانے کیلئے 358گزیٹیڈ کیڈر افسران سمیت 10,521 ملازمین کی تعیناتی کیلئے اقدامات کرنیکی ضرورت ہے۔جس میں 143.52کروڑ روپے 46سب ڈویژنوں، 507.60کروڑ35 تحاصیل، 500.91کروڑ روپے 177سی ڈی بلاک اور 358.19کروڑ روپے 301 نیابتوں کیلئے درکار ہونگے۔ لیکن وادی میں اکثر یونٹ ابھی بھی بغیر عملے اور بنیادی سہولیات ہیں ۔ جولائی 2014کو اُس وقت کی ریاستی سرکار نے 659نئے انتظامی یونٹوں کا قیام عمل میں لایا اور یہ فیصلہ اسمبلی انتخابات کے دوران ہی لیا گیا تھا ۔اس ضمن میں گنائی کمیٹی کی سفارشات پرعمل در آمد کر کے 46سب ڈویژن، 135تحاصیل، 177سی ڈی بلاک اور 301نیابتیں بنائی گئیں۔اگرچہ کئی ایک سب ڈویژنوں میں عملے کی کمی کو پورا کیا گیا  ہے تاہم اکثر علاقوں میں نہ ہی عملہ کہیں موجود ہے اور نہ ہی بنیادی سہولیات کہیں دستیاب ہیں ۔ضلع گاندربل میں نئی نیابت کا قیام گنڈ اے اور سالورہ اے میں بھی عمل میں لایا گیا جبکہ واگورہ گاندربل کو تحصیل کا درجہ دیا گیا ،تاہم یہ سب کرائے کے ایک یا دو کمروں میں ہی کام کر رہے ہیں اور وہاں عملے کی کمی کے ساتھ ساتھ بنیادی سہولیات کی کمی بھی ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے ۔ اسی طرح صفا پورہ میں نیابت کا کام پنچایت گھروں میں چل رہا ہے۔گنڈ کی صورتحال بھی ایسی ہی ہے ۔اسی طرح اننت ناگ کے نوگام شاہ آباد کو نیابت کا درجہ تو دیا گیا لیکن وہاں ابھی تک نائب تحصیلدار ہی تعینات نہیں ہے۔ہاکورہ میں دی گئی نئی نیابت کیلئے بھی ابھی تک نائب تحصیلداد نہیں ،یہی نہیں بلکہ سرحدی اور دور دراز علاقوں کا تو حال ہی برا ہے۔ سرحدی قصبہ کیرن کو اگرچہ گنائی کمیٹی نے تحصیل کا درجہ دیا ہے لیکن وہاں کے لوگوں کے مطابق یہ تحصیل برائے نام ہے۔ آج بھی وہاں کے لوگوں کو معمولی کام کے حوالے سے کپوارہ یا پھر کرالپورہ آنا پڑتا ہے مقامی لوگوں نے بتایا کہ کیرن تحصیل تو کاغذات میں ہے لیکن وہاں بلاک سطح کے کام تک نہیں ہوتے ۔انہوں نے کہا کہ ایک تحصیل میں جو ملازم یا افسر ہونے چاہئے تھے وہ یہاں نہیںہیں۔سرحدی تحصیل کرناہ کا حال تو اس سے بھی برا ہے۔ وہاں پر بھی ٹاڈ علاقے کو نیابت کا درجہ دیا گیا ،لیکن وہاں نائب تحصیلدارکے بیٹھنے کیلئے بھی جگہ نہیں ہے۔بڈگام ضلع میں بیروہ اور چاڈورہ کو سب ڈویژن، ناربل، بی کے پورہ اور ماگام کو تحصیل دینے کے علاوہ دس علاقوں کو نیابت کا درجہ دیا گیا تھا تاہم یہاں پر بھی اکثر جگہوں پر نہ ہی بنیادی سہولیات ہیں اور نہ ہی عملہ، جبکہ اکثر دفاتر کرائے کے کمروں میں چل رہے ہیں ۔ضلع کپوارہ میں لولاب اور سوگام  کو سب ڈویژن کا درجہ دیا گیا جبکہ ترہگام ، کیرن ، لنگیٹ ، لالپورہ ،زچلڈارہ ، ڈانگرپورہ ،درگمولہ ،کرالہ پورہ ،لولاب ،سوگام ،مژھل ،رامحال ،قاضی آباد ،کرالہ گنڈکو تحصیل کا درجہ دیا گیا ۔اسی طرح ضلع میں 15نیابتیں بھی بنائی گئیں ۔لیکن کہیں پر بھی بنیادی سہلولیات میسر نبہیں ہیں۔معلوم رہے کہ نئے انتظامیہ یونٹوں کے قیام کے بعد ریاست کے کئی علاقوں میں لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کئے اُن کے علاقوں کو بھی اس زمرے میں لانے کی مانگ کی جس کے بعد سرکار نے ایک اور کمیٹی بنائی اور اُس نے نئے انتظامیہ یونٹ کیلئے ایک اور لسٹ تیار کی۔ مال وباز آباد کاری کے وزیرعبدالرحمان ویری نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ پہلی کمیٹی جو بنائی گئی تھی اُس کے تحت جو انتظامی یونٹ دئے گئے ان میں عملہ کام کر رہا ہے تاہم بعد میں نئے انتظامیہ یونٹوںکا جو قیام عمل میں لایا گیا اُس میں کہیں کہیں عملے کی کمی ہے ۔