ایجنسیز
تہران// ایران میں ہفتہ کے روز مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی کئی روز تک جاری رہنے والی تدفینی تقریبات کا آغاز ہوگیا۔ وہ چند ماہ قبل جنگ کے آغاز میں ہونے والے ایک فضائی حملے میں جاں بحق ہوئے تھے۔ وفات کے وقت ان کی عمر 86 برس تھی۔حکام نے تہران کے گرینڈ مصلیٰ میں شیشے کے تابوت میں رکھے گئے آیت اللہ خامنہ ای کے جسدِ خاکی کی عوام کو زیارت کرائی۔ تابوت دیکھ کر سوگوار آبدیدہ ہوگئے جبکہ بعض افراد “ہمارا نعرہ ایک ہے، انتقام! انتقام!” کے نعرے لگا رہے تھے۔سوگواروں کے ہاتھوں میں بینرز اور پرچم تھے، جبکہ شہر بھر میں نصب بڑے بڑے بورڈز پر آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر آویزاں کی گئی تھیں۔ مردوں کی بڑی تعداد شیعہ روایات کے مطابق سینہ کوبی کرتی ہوئی غم کا اظہار کر رہی تھی۔27 سالہ حنانہ موسوی، جو اپنی والدہ کے ہمراہ جنازے میں شریک تھیں، روتے ہوئے بولیں،’’میں اپنے محبوب رہنما علی خامنہ ای کو آخری الوداع کہنے آئی ہوں۔ میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ ایسا دن دیکھنا پڑے گا۔ میری خواہش تھی کہ اس سانحے سے پہلے ہی میری موت آجاتی۔‘‘گرینڈ مصلیٰ میں قائم کیے گئے اسٹیج کو اس انداز میں تیار کیا گیا تھا کہ وہ اسی مقام سے مشابہت رکھتا تھا جہاں آیت اللہ خامنہ ای تہران کے وسط میں واقع اپنے حسینیہ میں خطابات کیا کرتے تھے۔ یہ مقام 28 فروری کو ایران پر اسرائیلی فضائی حملے میں تباہ ہوگیا تھا، جس میں آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے خاندان کے بعض افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ان کے خاندان کے جاں بحق افراد کے تابوت ان کے تابوت کے نیچے رکھے گئے تھے، جبکہ آیت اللہ خامنہ ای کے تابوت پر سیاہ عمامہ رکھا گیا تھا، جو ان کے رسول اکرمؐ کی نسل سے تعلق کی علامت ہے۔ایرانی حکومت کو توقع ہے کہ لاکھوں افراد دارالحکومت کی سڑکوں پر نکلیں گے، جیسا کہ 1989 میں مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ روح اللہ خمینی کی تدفین کے موقع پر دیکھا گیا تھا۔ شدید گرمی کے پیش نظر منتظمین نے شرکاء پر پانی کا چھڑکاؤ کیا اور ٹھنڈے مشروبات بھی تقسیم کیے۔شمال مغربی شہر تبریز سے تقریباً 530 کلومیٹر کا سفر طے کرکے آنے والے علی کاظمی نے کہا،’’ہم جنازے میں اس لیے شریک ہوئے ہیں تاکہ یہ ظاہر کر سکیں کہ ہم سب اپنے ملک اور اپنے دین کے دفاع کے لیے متحد ہیں۔‘‘تجزیہ کاروں کے مطابق جنازے میں عوام کی بڑی تعداد کی شرکت ایرانی حکومت کے لیے سیاسی طور پر فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب وہ جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں آبنائے ہرمز پر اپنی پوزیشن کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ اسرائیل کی جانب سے دوبارہ حملے کے خدشات بھی برقرار ہیں۔ایران نے تدفینی تقریبات کا آغاز 4 جولائی کو کیا، جو امریکہ کے قیام کی 250ویں سالگرہ بھی ہے۔ اگرچہ ایرانی حکام نے اس تاریخ کے انتخاب پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم تہران میں موجود ہجوم “امریکہ مردہ باد” کے نعرے لگا رہا تھا، جو 1979 کے اسلامی انقلاب اور تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضے کے بعد سے ایران میں ایک عام نعرہ رہا ہے۔اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست ساؤتھ ڈکوٹا میں ماؤنٹ رشمور کے سامنے خطاب کرتے ہوئے کہا،’’ہم نے ایران کو بری طرح شکست دی۔ وہ اب بے حد سمجھوتہ کرنا چاہتے ہیں۔ ہم نے انہیں جنازے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دی۔‘‘تہران میں بھی صدر ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ گرینڈ مصلیٰ میں بعض سوگوار ایک بڑا پرچم اٹھائے ہوئے تھے، جس پر’ٹرمپ کی موت‘ درج تھا۔آیت اللہ خامنہ ای کے جسدِ خاکی کو ایران اور پڑوسی ملک عراق کے مختلف شہروں میں بھی لے جایا جائے گا۔ سوگ کے باعث تہران میں متعدد سڑکیں بند کر دی گئی ہیں، فضائی حدود محدود کر دی گئی ہیں اور معمولاتِ زندگی بھی متاثر ہوئے ہیں۔ابھی یہ واضح نہیں کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کے جنازے میں شرکت کریں گے یا نہیں۔ 1989 میں آیت اللہ روح اللہ خمینی کے جنازے کے موقع پر علی خامنہ ای خود بھی اشک بار نظر آئے تھے، جس کے بعد انہوں نے کئی دہائیوں تک ایران کی قیادت کی۔ گرینڈ مصلیٰ میں ان کی مرحوم اہلیہ کا تابوت بھی دیگر جاں بحق افراد کے ساتھ رکھا گیا تھا۔دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے مجتبیٰ خامنہ ای کو ہدف بنانے کی دھمکیوں کے بعد ایران کی مشترکہ فوجی کمان نے جمعرات کو اسرائیل اور امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ چند روز کے دوران “کسی بھی غلط اندازے یا مہم جوئی سے گریز کیا جائے۔”