آگ کی روز افزوں وارداتیں

 دنیا بھر میں آجکل آگ کی ہولناک وارداتوں کی اطلاعات نہایت ہی فکر و تشویش اور پریشانیوں کا باعث بن رہی ہیں۔ ان کی بنیادی وجوہات میں جہاںبرقی سپلائی کے کنٹرول اور اسکی تاثیر میں ایزاد و تخفیف کرنے والے آلات میں نقائص و پریشانیاں ذمہ دار ہیں وہیں دہی اور جنگلاتی علاقوں میں خشک سالی سے ہوا میں کم ہورہی نمی اور رطوبت بھی ایک اہم وجہ گردانی جاتی ہے۔ یہ صورتحال کم و بیش سبھی چھوٹے بڑے اور ترقی یافتہ و ترقی پذیر ممالک میں دیکھنے کو مل رہی ہے۔ دو دن پہلے ہی بات ہے جب روس میں ایک عمارت کے اندر ہولناک آگ سے41بچے جاں بحق ہوئے۔ ایسا ہی کچھ ہفتے قبل امریکہ اور کنیڈا میں بھی دیکھنے کو ملا تھا۔ یہ حال انتہائی ترقی یافتہ ممالک کا ہے جن کے پاس ایسی آفات کو کنٹرول کرنے کا جدید ترین نظام موجود ہے۔ جہاں تک ہماری ریاست کا تعلق ہے تو ہم اُ س نظام کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے ہیں لیکن اس کے باوجود ریاست کےفائر اینڈ ایمر جنسی سروسز محکمہ کی کارکردگی اپنے قلیل ذرائع کے باوجود قابل سراہنا ہے حالانکہ یہ محکمہ کافی عرصہ سے بنیادی ڈھانچے میں فروغ اور آگ بجھانے والے عملے کی قلت کا شدت کے ساتھ شکار ہے۔ صرف وادی کشمیر ماہانہ کم و بیش آتش زدگی کی تین سو سے چار سو وارداتیں رونما ہوتی ہیں، جن کی وجہ سے لوگوں کو کروڑوں روپے کا نقصان اُٹھانا پڑتا ہے لیکن اگر اس صورتحال میں محکمہ کی تحرک پذیری شامل حال نہ ہو تو یہ نقصان کافی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ نومبر سے جنوری تک تین ماہ کے دوران1100سے زائید آگ کی وارداتیں رونما ہوئیں، جن میں تقریباً 250کروڑ روپے کی جائیدادیں زد میں آگئیں مگرمحکمہ کے مستعد عملے نے اپنی جانوں پر کھیل کر 225کروڑ روپے مالیت کی جائیدادیں بچانے میں کامیابی حاصل کرلی۔ اس کاروائی کے دوران محکمہ کے عملہ کا ایک جانفشان اہلکار جان بحق بھی ہوا جبکہ کئی ایک زخمی ہوگئے۔ کہنے کی بات یہ ہے کہ محکمہ کے پاس عملہ کی شدید قلت ہے لیکن اس کے باجوود وہ اپنے فرائض نبھانے کےلئے کوشاں رہتے ہیں۔ یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کہ 6ہزار افراد پر مشتمل منظور شدہ افرادی قوت کے مقابلہ میں محکمہ کے پاس فی الوقت صرف2200افراد اپنی ذمہ داریاںنبھانے میں مصروف ہیں۔ حالانکہ اس اہم محکمہ اور اس محکمہ کی ذمہ داریوں کے حوالہ سے ریاستی حکومت کو نہایت ہی حساس اور سنجیدہ ہونا چاہئے۔ آج بھی ریاست کے طول و عرض سے تواتر کے ساتھ آگ کی وارداتوں کی خبریں موصول ہوتی رہتی ہیں۔ جن میں نجی اور تجارتی اہمیت کی حامل جائیدادوں اور ساز و  سامان کو بھاری نقصانات ہوتے ہیں، وہیں دہی اور دور دراز علاقوں میں مویشیوں کی ہلاکتوں کے واقعات بھی درج ہوتے رہتے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ ایک غریب ریاست میں اس نوعیت کے نقصانات کم آمدن والے طبقہ کےلئے نہایت ہی منفی اثرات کے حامل ہوتے ہیں اور وہ مدتوں اس کی بھر پائی کرنے کے قابل نہیں رہتے۔ ایسے حالات میں حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ محکمہ میں افرادی قلت کے مسئلے کا حل تلاش کرے۔ محکمہ کے پاس فی الوقت آگ بجھانے والی188گاڑیاں موجود ہیں جنہیں دن رات چلانے کےلئے 376ڈرائیوروں کی ضرورت ہے لیکن محکمہ کے پاس صرف173کی خدمات میسر ہیں۔ دیگر عملہ میں صرف2261افراد موجود ہیں حالانکہ کل ملا کر یہ تعداد6ہزار پر مشتمل ہونی چاہئے تھی۔ اس نوعیت کے عدم تناسب کے بہ سبب محکمہ کی کارکردگی یقینی طور پر منفی انداز سے متاثر ہو رہی ہے۔ حالانکہ یہ محکمہ بنی نوع انسان کےلئے موت و حیات کی حیثیت رکھتا ہے، جسکے ساتھ کسی قسم کی کوتاہی آنے والے ایام میں نہایت ہی نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔