عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی //بھارت نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یہ پیش رفت مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام، عالمی توانائی کی سلامتی اور بین الاقوامی تجارت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گی۔ برکس ممالک کے قومی سلامتی مشیروں کے 16ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کے قومی سلامتی مشیر اجیت دوول نے کہا کہ نئی دہلی اس معاہدے کو ’’محتاط امید‘‘ کے ساتھ دیکھ رہا ہے اور توقع کرتا ہے کہ اس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔اجیت دوول نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت توانائی کے شعبے کے لیے نہایت اہم ہے اور آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا عالمی معیشت کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ ان کے مطابق اس سے تیل اور گیس کی سپلائی میں استحکام آئے گا اور عالمی منڈیوں میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال میں کمی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کی بحالی سے عالمی سپلائی چین کو درپیش رکاوٹیں دور ہوں گی اور کھاد، کیمیکل اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی بہتر ہو سکے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے اور دنیا بھر کے ممالک کے لیے بحری راستوں کی آزادی اقتصادی ترقی اور خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کرے گی۔اس سے قبل وزیراعظم نریندر مودی بھی امریکہ اور ایران کے درمیان جاری امن مذاکرات کا خیر مقدم کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات کے باعث نہ صرف کئی ممالک میں انسانی جانوں کا نقصان ہوا بلکہ عالمی معیشت کو بھی شدید دھچکا پہنچا ہے۔ وزیراعظم مودی نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت امید کرتا ہے کہ اس مفاہمت پر عمل درآمد سے خطے میں امن و استحکام بحال ہوگا، بین الاقوامی تجارت کو فروغ ملے گا اور سمندری راستوں پر آزادانہ نقل و حرکت یقینی بنائی جا سکے گی۔ انہوں نے باقی ماندہ معاملات پر بھی پائیدار اور جامع معاہدے تک پہنچنے کی امید ظاہر کی۔دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے حالیہ تکنیکی مذاکرات کو ’’انتہائی نتیجہ خیز‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بحری سلامتی، علاقائی استحکام اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق نگرانی کے معاملات پر نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔