جموں//پرنسپل سیکریٹری سکل ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ ڈاکٹر اصغر حسن سامون نے آئی ٹی آئی پیشوں کو صنعتی مانگوں کے تحت جائزہ لیا تاکہ جموںوکشمیر کے نوجوانوں کو صنعتی شعبے میں روزگار کے مواقع حاصل ہوسکے۔اِس موقعہ پر مشن ڈائریکٹر سکل مشن ڈاکٹر سیّد عابد رشید شاہ، ڈائریکٹر سکل ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ سجاد حسین گنائی اور جموں وکشمیرکے مختلف صنعتوں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ دورانِ میٹنگ بتایا گیا کہ فی الوقت 52 گورنمنٹ آئی ٹی آئی اور 34 نجی اداروں میں 13000نوجوانوں کو مختلف انجینئر نگ پیشوں (آرکیٹیکچر ڈرافٹسمین / ٹرنر / آلہ کار میکینک، مکینک موٹر وہیکل)اور نان انجینئرنگ پیشوں (کمپیوٹر / ڈیٹا انٹری / کمپیوٹر ہارڈویئر اینڈ نیٹ ورکنگ، ڈیسک ٹاپ پبلشنگ، ڈیجیٹل فوٹوگرافی ، لباس بنانے / فیشن ڈیزائننگ وغیرہ) میں تربیت دی جارہی ہیں۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ مختصر مدت کے کورسوں میں الیکٹریشن ، موبائل فون ہارڈ ویئر / مرمت ، ویب ڈیویلپر ، آٹوموٹو سروس ٹیکنیشن لیول 4 ، ہینڈلوم ویور (قالین بافی) ، ڈی ٹی ایچ سیٹ ٹاپ بکس اِنسٹالیشن / سی اے سٹور ٹیکنیشن ، سکواش / جوس / پکل پروسسنگ ، فروٹ کی پروسسنگ / ٹریول کنسلٹنٹ /مگس بانی / ٹریکٹر آپریٹر / ہیئر سٹائلسٹ / سولر پینل ٹیکنیشن اور فیلڈ انجینئرنگ میں 87ٹریڈ یونٹوں کیلئے 1740 زیر تربیت نوجوانوںکو تربیت فراہم کی جارہی ہیں۔ میٹنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ روزگار موافق مضامین جیسے ٹیکسٹائل ڈیزائننگ ، اکاؤنٹنسی ، نرسنگ ، میچٹرونکس ، ٹیکسٹائل ڈیزائننگ اور سبزی ڈائی پرنٹنگ بھی متعارف کئے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ سہ ماہی کورس الیکٹریشن ( گھریلو ) فیلڈ ٹیکنیشن ، آفس اسسٹنٹ ، پلمبنگ ، موبائل فون کی مرمت ، ایئرکنڈیشنر کی مرمت ، ٹیلرنگ ، فرنٹ آفس ایسوسی ایٹ ، ٹریول کنسلٹنٹ ، آٹومیٹک سروس ٹیکنیشن ، پلپ پروسیسنگ وغیرہ مضامین بھی شروع کئے جارہے ہیں جن کے لئے پی ایم کے وی وائی 3کے تحت حال ہی میں 24 آئی ٹی آئیز میں 707 طلاب کے لئے یہ تربیت فراہم کی جار ہی ہے۔جموںوکشمیر یو ٹی سے وابستہ مختلف صنعتوں کے نمائندوں نے ایل سی ، ایس کے اے ڈی اے / سٹاک کی اِنوینٹری ،سی اے ڈی /سی اے ایم / الیکٹرشن فار اِنڈکشن موٹرس، ڈی سی موٹرس، / او ایل ٹی سی مرمت و دیکھ ریکھ / مینٹننس، آٹو الیکٹریشن انڈسٹریل سیفٹی کورس / گیئر بکسوںسے متعلق اسمبلی کورس / بیئرنگ فٹرس ،لیوبرکیشن اِن میکنیکل فلٹرس ٹیلی (سیریز ایک ریلیز 6.6.6 تازہ ترین TDL 3 میں سے 3 بھری ہوئی ہے) جی ایس ٹی ریٹرنس اینڈ کلیمز/ بلنگ اکاؤنٹنٹ وغیرہ نئے کورسوں کے بارے میں اپنی تجاویز پیش کیں۔ڈاکٹر سامون نے کہا کہ گزشتہ کئی سالوں سے ٹیکنالوجی میں کافی تبدیلی آرہی ہے اور صنعتوں کے لئے پیداوار میں اضافہ اور مدد کے لئے معقول افرادی قوت لازمی ہے ۔انہوں نے کہا کہ روایتی مضامین بھی اہم ہیں اور ان سے بھی روزگار کی فراہمی یقینی بنے گی۔ اسی لئے ہم نے روایتی کوروسوں کے ساتھ ساتھ جدید صنعتی مانگ کے نئی کورس بھی متعارف کئے ہیں۔انہوں نے جموںکی صنعتوں کو 1500 آئی ٹی آئیز اور پالی تکنیک اداروں سے فارغ التحصیل طالب علموں کو گزشتہ چند ماہ کے د وران روزگار فراہم کرنے کے اقدامات کو سراہتے ہوئے اُمید ظاہر ہے کہ یہ اقدامات مستقبل میں جاری رہیں گے۔