اَمن کے لئے باہمی اِتحاد لازمی

عبدالرشید مجددی
مسلمانانِ ہند اور خصوصاً اہلیانِ شہر کی باشعور عوام اپنی صفوں میں اتحاد کو مدنظر رکھتے ہوئے امن کی بقا کو قائم رکھنے کے لیے آپسی اتحادمضبوط کریں۔موجودہ حالات میں باہمی اتحاد کی مضبوطی انتہائی لازمی بن چکی ہےاور وقت بھی اسی بات کا متقاضی ہے۔ یا د رکھئے! اللہ کے نزدیک محبوب بندے وہی ہیں جو اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس لئے ہمیںتنگ نظری اور منافرت اور وہ باتیں،جن سے انتشار پیدا ہو، اُن سے دوری اختیار کرنا بے حد ضروری ہے۔  چنانچہ اپنےمُلکِ عزیز میں گذشتہ کئی برسوں سےوقفہ وقفہ کے بعد  بے جا طریقے سےجس طرح کے ناروا،تکلیف دہ ،اذیت ناک حالات پیدا کئے جارہے ہیں،وہ بہر صورت افسوسناک و تشویشناک ہیں۔اس وقت بھی ملک کے کئی حصوں میں پیدا شدہ  صورت حال کے جو منظر نامے سامنے آرہے ہیں،وہ بھی ہر صورت میں ملک کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔لہٰذا اس وقت ہمیں آپس میں اتحاد و اتفاق اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بڑھاوا دینے کی زیادہ ضرورت ہے، امن و اماں قائم رکھنے کی ہماری اولین ذمہ داری بنتی ہے ۔ بے جاکسی کو کچھ کہنے اور بے وجہ کسی کو تکلیف دینے سے سماج اور معاشرہ  کا بھَلا نہیں ہوتا ۔بلکہ اس سے دوسروں کو فائدہ اُٹھانے اور ہم پرانگلیاں اُٹھانے نیز مسلمانوں کا نام بدنام کرنے کا موقعہ ملتا ہے اور پھران لوگوں کی وجہ سے ہمارے شہری امن کو خراب ہونے کا خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔اس لئے بس سے پہلے ہمیں اپنا محاسبہ کرلینا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ نے اتحاد و اتفاق میں برکت رکھی ہے اور اتحاد ہی ہماری طاقت ہے۔ ازراہِ کرم اپنا وقت اللہ کی رضا اور اُس کی عبادت کی طرف خصوصی توجہ دیں۔ رہی بات قومی یکجہتی کی ،تو یہ اُس وقت قائم ہوگی جب ہم ہر کسی فرد کو یکساں نگاہوں سے دیکھنے اور انصاف پسندی کا مظاہرہ کریں۔گویا انسان ہونے کے ناطے ، انسانیت کی بقا کے لئے ہمیں متحد ہونا پڑے گا اور ہمارے دیگر طبقہ اور دیگر سماج کے لوگوں کے درمیان محبت و خلوص کو عام کرنا اور برادرانِ طن کے ساتھ باہمی میل ملاپ کے چراغ روشن کرکے نفرتوں کا خاتمہ کرنا ہو گا لیکن یہ سب کچھ اُس وقت ہوگا،جب ہمارے اندر انسانیت نوازی کا جذبہ اورہمارے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے درد و احساس پیدا ہوگا۔ ہمیں ایسے کا م کرنا ہوگا کہ جن سے کسی بھی شر پسندعناصرناجائز فائدہ اٹھانے کا موقعہ فراہم نہ ہوگا، ہاں !  

ہمارے ملک اور ہمارے شہروں میں بلا مذہب و ملت و رنگ و نسل انسانیت نوازوں اور زندہ دلوں کی بھی کوئی کمی نہیںہے ، مگر افسوس !جو حق بات کہنے کے علمبردار ہوتے ہیں، اکثر ان کی آوازکو یاتو فراموش کیا جاتا ہے اور انہیں دبانے کی کوشش ہوتی ہے۔اس لئے ہم سبھوں کو چاہئے کہ مثبت حکمت عملی اور صبر کے ساتھ حالات کا  مقابلہ کریں،اور باہمی سمجھوتہ کے تحت مل جُل کر امن و اماں کی فضا قائم کو قائم کرنا ہوگا۔کسی بھی معاملے کو تنازعہ و فتنہ فساد کی نذر نہ ہونے دیا جائے اور جمہوری طرز پر عوام کو جوڑ کر ہمیںآگے بڑھنا ہوگا ،اسی سے ہماری قومی یکجہتی کی مثال پھر سے تازہ ہوگی۔ اللہ پاک ہماری حفاظت فرمائے اور عقل سلیم عطا فرمائے۔ آمین