افسانہ
خالد بشیر تلگامی
ندا خلافِ معمول خاموش تھی۔
کمرے میں کتابیں بکھری تھیں اور وہ کرسی سے ٹیک لگائے خاموشی سے پڑھ رہی تھی۔
کچن سے امی کی آواز آئی:
“ندا بیٹا… کھانا ٹھنڈا ہو جائے گا۔”
ندا نے سر نہ اٹھایا۔
دوسری بار آواز آئی، اس بار تھکی ہوئی، جیسے امید بھی ساتھ چھوڑ رہی ہو۔
تیسری بار بھی جواب نہ ملا تو ابو نے اخبار تہہ کیا، عینک اتاری اور آہستہ آہستہ ندا کے کمرے کی طرف بڑھے۔
دروازہ آہستہ سے کھولا تو ندا چونک گئی۔
چہرے پر نیند کی پرچھائیں، آنکھوں میں نمی اور لبوں پر ایک بےصدا سوال لرز رہا تھا۔
’’اتنا غرور آ گیا ہے؟ ماں پکار رہی ہے اور تم ہو کہ…‘‘
ابو کی آواز بلند نہ تھی، مگر لفظ چبھتے ہوئے لگے۔
ندا خاموش رہی، پلکیں بھیگ گئیں۔
ابو پلٹے، دروازہ بند کیا اور دفتر چلے گئے۔
ماں نے آ کر نرمی سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
ندا کی نظریں دروازے پر جمی تھیں، جیسے کوئی بات وہیں ٹھہر گئی ہو۔
دفتر میں ابو کا ہاتھ فائیل پر تھا،
مگر دل الجھا ہوا۔
’’نرمی سے بھی تو بات کر سکتا تھا… وہ کچھ بول ہی دیتی! نوجوانی ہے… شاید امتحان کا دباؤ ہو۔‘‘
اسی کشمکش میں فون بجا۔
اسکرین پر گھر کا نمبر تھا۔
دل تیزی سے دھڑکنے لگا… ’’ندا؟‘‘
فون اٹھایا تو دوسری طرف سے ہلکی سی ہنسی ابھری،
پھر وہ مانوس آواز سنائی دی جو بچپن میں زخم پر پھونک مار کر درد کم کر دیا کرتی تھی-
’’پاپا… سوری…مجھے جواب دینا چاہیے تھا، لیکن شاید آپ کی ناراضی سے ڈر گئی تھی… پاپا، آپ ناراض مت ہونا… آپ تو میرے سُپر ہیرو ہیں نا؟‘‘
ابو نے آنکھیں موند لیں۔
دل میں کچھ نرم سا پگھل گیا-
جیسے رشتے کا آئینہ جو دھندلا گیا تھا، پھر سے صاف ہو کر اپنا عکس دکھانے لگا ہو۔
���
تلگام پٹن، بارہمولہ کشمیر
موبائل نمبر9797711122