پچھلے ہفتے بھارتی وزیر اعظم نریند مودی نے ٹیلی ویژن چنل’’ انڈیا ٹوڈے‘‘ کو ایک طویل انٹرویو دیا جو کہ کئی لحاظ سے خاصی نوعیت کا حامل تھا۔ بھارتی سیاست و معیشت پر تبصرہ کرنے کے علاوہ اُنہوں نے کشمیر کے ضمن میں بھی کئی سوالات کا جواب دیا جس میں ایک بار پھر انسانیت،جمہوریت اور کشمیریت کا راگ چھیڑا گیا جو ہمارے آج کے مقالے کا مرکزی عنوان ہو گا،البتہ پہلے انٹرویو کے ضمن میں کچھ اہم پہلوؤں کو سمجھنا ہو گا۔ نریندا مودی حتی الامکان پریس کے سامنے نہیں آتے، اس حد تک کہ اپنے پانچ سالہ دور حکومت میں اُنہوں نے ایک بھی پریس کانفرنس کا اہتمام نہیں کیا ہے پس جب’ انڈیا تو ڈے‘ نے یہ اعلان کیا کہ وزیر اعظم نے اُنہیں ایک خصوصی انٹرویو دیا ہے تو یہ ایک بڑی خبر بن گئی۔ اِس انٹرویو سے چند دن پہلے وہ فلم اسٹار اکشے کھنہ کے ساتھ ایک کھلی گفتگو کرتے ہوئے دیکھے گئے جس میں سوال و جواب کا رنگ ہلکا رہا۔ اِس انٹرویو کا یہ تاثر رہا کہ وزیر اعظم اپنے ذاتی زندگی کے پہلوؤں کو عوام کے سامنے لا کے اپنی شخصیت میں نئے رنگ بھرنا چاہتے ہیںمثلاََ یہ کہ وہ آم کھانے کے شوقین ہیںکچھ ذکر اُن کے ملبوسات کے بارے میں ہوا۔اکشے کھنہ کے ساتھ گفتگو کے بعد یہ تاثر اُبھرا کہ اپنی شخصیت کو نکھارنے کیلئے ہلکے انداز کی حد تک سوالات کا جواب تو دینے کے تو وہ اہل ہیں لیکن سنگین سیاسی سوالات کا جواب دینے سے کتراتے ہیں۔شاید اِسی تاثرکو زائل کرنے کیلئے اُنہوں نے انڈیا ٹو ڈے کو انٹرویو دیا۔
انڈیا ٹوڈے کی ایک ہندی چنل بھی ہے جسے ’آج تک‘ کہا جاتا ہے چناچہ یہ انٹرویو جہاں’ انڈیا تو ڈے‘ سے نشر ہوا وہی ’آج تک‘ سے بھی نشر ہوا ۔انٹرویو ہندی زباں میں تھا جسے وسیع معنوں میں ہندوستانی کہا جاتا ہے البتہ آر ایس ایس اور بھاجپا کے نیتا اکثر چن چن کے ہندی الفاظ بولتے ہیں جو عام فہم ہندوستانی سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ایسا شاید اِس لئے ہوتا ہے کہ ہندی کی پہچان ایک الگ زباں کے طور پہ ہوتاکہ اُس کی خصوصیت کو منوایا جا سکے۔خیر زباں کے ضمن میں بحث آج کا عنواں نہیںالبتہ عام فہم گنگا جمنی ہندوستانی زباں کے بجائے خالص ہندی پہ انحصار بجائے خود ایک المیہ ہے۔ ’ انڈیا ٹوڈے‘ کے ا نٹرویو کے پس منظر میں بنارس کی شام تھی اور گنگا کے بہاؤ پہ چلتی ہوئی ایک کشتی جس میں وزیر اعظم کے علاوہ ٹیلی ویژن چنل کی ٹیم شامل تھی۔اِس انٹرویو میں ایک بات عیاں رہی اور وہ یہ کہ سوالات کا لہجہ نرم رہا اور عموماََ اُن نکات پہ اصرار کم رہا جسے وزیر اعظم کی دکھتی رگ کہاجا سکتا ہے جیسے پانچ سو اور ہزار روپے کے نوٹوں کومارکٹ سے ہٹانے کا موضوع(Demonetization) اور جی ایس ٹی (GST) کا اجرا جو اقتصادی ماندگی کا سبب بن گئے۔اِس کے علاوہ کسانوں کے قرضے اور خود کشی کے واقعات جو ناقص زراعتی پالیسی کے سبب منظر عام پہ آئے۔ بے روز گاری ایک ایسی سطح پہ پہنچی جو کہا جاتا ہے پچھلے 45 سال میں دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔ فرقہ وارانہ تناؤ جو گاؤ رکھشا کی خاطر تند و تیز رویہ اپنانے کے سبب ملک بھر میں پھیلا ہوا ہے اور جو کئی افراد کی موت کا سبب بھی بن گیا ہے ایک اور سنگین مسلہ ہے جو انٹرویو میں ابھارا ہی نہیں گیا۔ کہا جا سکتا ہے کہ یہ انٹرویو نریندرا مودی بغیر کسی مشکل کے پار کر گئے بالکل اُسی انداز سے جیسے وہ کشتی گنگا پار کر گئی جس میں انٹرویو ہو رہا تھا۔
کشمیر کے ضمن میں نریندرا مودی کا یہی ماننا تھا کہ واجپائی کی مانند وہ بھی یہی سمجھتے ہیں کہ کشمیر کے مسائل کا حل انسانیت،جمہوریت اور کشمیریت میں مضمر ہے۔ انسانیت کا کلمہ ایک خاص سیاسی صورت حال میں مطرح ہوا۔ اتل بہاری واجپائی کے دور حکومت میں بھارت سرکار نے کشمیری علحیدگی پسند احزاب سے گفت و شنید کا عندیہ دیا۔ پہلے یہ کہا گیا کہ بات چیت بھارتی آئین کے دائرے میں ہوگی جو مزاحمتی جماعتوں کیلئے نا قابل قبول رہا۔ جب یہ عیاں ہونے لگا کہ کشمیر کی مزاحمتی رہبری بھارتی آئین کے دائرے میں گفت و شنید کے لئے تیار نہیں تو واجپائی کے شاعرانہ تخیل نے انسانیت کی طرح کو منظر عام پہ لاتے ہوئے یہ کہہ کہا کہ بات چیت انسانیت کے دائرے میں ہو گی۔ اتل بہاری واجپائی ایک سیاستداں ہونے کے علاوہ شاعرانہ شعور بھی رکھتے تھے اور سیاسی امور میں بھی اپنی بات کو عوام الناس کے سامنے رکھنے کی خاطر طبع آزمائی کرتے تھے ۔اپنی بات کو شاعرانہ روش میں بیاں کرنے سے وہ سیاسی احداف کے حصول کی تلاش میں رہتے تھے ۔
انسانیت کے بعد جمہوریت اور کشمیریت پہ آنے سے پہلے واجپائی کے انداز اور مودی کے روش میں نمایاں فرق کو جانچنا ہو گا۔ واجپائی نے انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت کا ذکر ایک خاص پس منظر میں کیا تھا۔ وہ ایک پولٹیکل پروسیس (Political Process) کے حامی تھے یعنی ایک ایسی سیاسی روش کے حامی جس میں کشمیر کے مسلے کا حل بات چیت سے ڈھونڈاجا سکے۔واجپائی کی ذاتی چاہت و کوشش کے باوجود مسلہ کشمیر کے حل میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی کیونکہ بھاجپا کے حلقوں میں کشمیر کے ضمن میں رائے متضاد تھی۔ بہر حال کہا جا سکتا ہے کہ بعد میں جو کچھ بھی ہوا جو مشکلات بھی حائل ہوئیں واجپائی ایک پروسیس یعنی بات چیت کا ایک سلسلہ شروع کرنا چاہتے تھے تاکہ مسلے کے ممکنہ حل کی تلاش جاری رہے جبکہ نریندرا مودی کے بارے میں یہی بات نہیں کی جا سکتی ہے۔ نریندرا مودی کے پانچ سالہ دور اقتدار میں مسائل کو بات چیت سے حل کرنے کے ضمن میں سنجیدہ کوششوں کا فقدان رہا بنابریں کشمیر کے ضمن میں واجپائی اور مودی کی روش کو ایک ہی ترازو میں نہیں تولا جا سکتا ۔اِس واضح فرق کے باوجود نریندرا مودی کا یہ کہنا کہ واجپائی کی مانند وہ بھی یہی سمجھتے ہیں کہ کشمیر کا حل انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت میں مضمر ہے دور کی کوڑی لانے کے متراوف ہے۔ کشمیر میں پچھلے پانچ سال میں جو کچھ بھی ہوا جو بھی گذری اُسے انسانیت کے ترازو میں تولا جائے بعید ہے۔
نریندرا مودی نے اپنے انٹرویو میں کشمیر میں دفعہ 370اور دفعہ 35Aکو کالعدم قرار دینے کی بات کی جبکہ اُن کا یہ بھی ماننا ہے کہ جمہوریت کو در نظر رکھنا ہو گاضمنناََ وہ کشمیریت کے دائرے میں ہی کشمیر کے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ دفعہ 370اور دفعہ 35A کے ضمن میں آئینی بحث میں پڑے بغیر یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ کیا کسی بھی دفعہ کو جو ریاستی تشخص کی آئینی دار ہو لوگوں کی جمہوری رائے لئے بغیر کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے ؟؟یہ بھی پوچھا جا سکتا ہے کہ اگر اِن دفعات کو جو کہ ریاست جموں و کشمیر کیلئے حیاتی ہیں عوام الناس کی رائے لئے بغیر کالعدم قرار دیا جائے تو کیا یہ جمہوری اقدار کے منافی نہیں ہو گا؟؟مودی جی کا ہم زماں اور ایک ہی سانس میں یہ کہنا کہ دفعات 370اور 35Aکو کالعدم قرار دیا جائے گا اور کشمیر کے مسائل کا حل واجپائی کے انسانیت،جمہوریت اور کشمیریت کے تصور میں مضمر ہے ایک ایسا بیاں ہے جسے ضد و نقیص کہا جائے تو مبالغہ نہ ہو گا۔ اِن متضاد بیانات کو ایک ہی ترازو میں نہیں تولا جا سکتا ہے کیونکہ یہ ایک دوسرے کی ضد ہیں۔
نریندرا مودی کے بیاں کو جمہوریت کے دائرے میں پرکھنے کے بعد کشمیریت کے دائرے میں پرکھنا ہو گا۔ کشمیریت کو اگر وادی کشمیر سے متعلق امور کا عنواں دیا جائے تو بیجا نہ ہو گا گر چہ اِس عنواں کو ایک ایسے رنگ میں رنگنے کی کوششیں کی گئی ہیں جو کشمیر کے حقیقی تشخص سے میل نہیں کھاتیں۔ کشمیر میں کئی حلقوں کا یہ بھی خیال ہے کہ کشمیریت کا جس انداز سے ذکر کیا جاتا ہے وہ کشمیر کی اکثریت متعلق کے مذہبی عقیدے کے منافی ہے۔اِن حلقوں کے تاثر میں کتنا وزن ہے وہ بحث طلب ہے البتہ جہاں کشمیریت کے ساتھ صوفی ازم کا ذکر چھیڑا جاتا ہے وہاں شک کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ کشمیر میں صوفی روایات رہی ہیںلیکن صوفی ازم کو سماجی اور سیاسی امور سے بے تعلقی کا نام دینا ایک ایسے بیانیہ کو جنم دیتا ہے جو حقیقت سے عاری ہے۔ کشمیر کے صوفی ریشیوں میں حضرت شیخ نورالدین نورانی ؒ کا نام افضل ہے ۔ اُنکا سماجی تحرک کشمیر کے فوک کلچر (Folk Culture) یعنی لوگوں کی ثقافتی روایات کی ایک زندہ جاوید حقیقت ہے۔ اُنہوں نے رہبانیت ترک کی بلکہ اپنے مرید خاص بابا نصرالدین ؒ کو یہ تلقین کی کہ یہ غلط راہ ہے۔وہ سماجی تحرک(Social Activism) کے دلدادہ رہے اور اُنہوں نے ملا ازم کو مذہبی اجارہ داری سے تعبیر دی بلکہ وہ یہ بھی کہہ گئے کہ ملا سے رجوع کرنا ہے تو صرف مولانا رومی ؒ سے رجوع کرو ۔جہاں تک رومی ؒ کا تعلق ہے تو اُنکا صوفی فلسفہ انقلابی تصور پہ مبنی تھا:
گفت رومی ہر بنائے کہنہ کہ آباداں کنند
می ندانی اول ان بنیاد را ویران کنند!
رومی ؒ کہہ گئے کہ پرانی عمارت کو آباد کرنا ہو تو کیا یہ نہیں جانتے کہ پہلے اُسے بنیادسے ویراں کرلو!مدعا و مفہوم یہ کہ ترقی کے زینے پہ قدم رکھنے کیلئے پرانے اور فرسودہ خیالات کو ذہن سے نکالنا ہو گا۔ کشمیر کبھی شیوازم کا گہوارہ رہا ہے۔کبھی یہاں بدھ ازم نے اِس قدر گھر کر لیا کہ بدھ ازم کی عالمی کانفرنس یہاں منعقد ہوئی ۔کشمیر کے ماضی کو ایک تاریخی حقیقت مانتے ہوئے زماں حال میں کشمیر کے مسلم تشخص کو کشمیریت کے دلفریب نعرے سے زائل کرنے کی کوشش کو ایک لا حاصل سعی ہی کہا جا سکتا ہے۔ صوفی ازم ہو یا اسلامی دائرے میں کوئی اور مکتب فکر سماجی تحرک سے مبرا قرار نہیں دیا سکتا۔
ریاست جموں و کشمیر کے مسائل کا تعلق ریاست کے موجودہ سیاسی خد و خال تک ہی محدود نہیں بلکہ جہاں ریاست کا ایک حصہ بھارتی انتظامیہ کے تحت ہے وہی خط متارکہ کے اُس پار ریاست کا ایک حصہ پاکستانی انتظامیہ کے تحت ہے۔جمہوری اقدار کا تقاضا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کے بارے میں کوئی ایسا فیصلہ جو دور رس نتائج کا حامل ہو خط متارکہ کے آر پار کے ریاستی عوام کی منجملہ اکثریتی رائے سے ہونا چاہیے لیکن سچ تو یہ ہے کہ مسلے کی تاریخی نوعیت کو نا دیدہ لیتے ہوئے اہم نوعیت کے فیصلے جہاں اُس پار لئے گئے وہی اِس پار بھی لئے گئے ہیں۔ آئینی اعتبار سے پاکستانی انتظامیہ کشمیر جسے عرف عام میں آزاد کشمیر کہا جاتا ہے کی آئینی نوعیت گلگت بلتستان سے مختلف ہے۔ بھارتی انتظامیہ کشمیر میں لیہہ اور کرگل میں پہاڑی کونسلیں قائم ہو چکی ہیں ۔مجموعی طور پہ بھارتی انتظامیہ جموں و کشمیر میں آئینی مراحل پہ ایک مسلسل بحث سیاسی افق پہ چھائی ہوئی ہے جو ماضی قریب میں شدید سے شدید تر ہوئی ہے۔ اگر بھارتی انتظامیہ کے تحت جموں و کشمیر میں کوئی آئینی تبدیلی مسلہ کشمیر کی ہمہ گیر سیاسی نوعیت کو نادیدہ لیتے ہوئے کرنے پہ اصرار ہے تو یہ جمہوری اقدار کے منافی ہو گاچونکہ یہ مانا گیا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کا حتٰمی سیاسی تشخص اُن جغرافیائی حدود سے وابستہ ہے جو 1947ء میں ایک واضح حقیقت تھی۔مسلے کا ہر فریق اِس پہ متفق ہے بلکہ بھارت کا بھی یہی ماننا ہے۔بھارت ساری ریاست پہ اپنا حق جتاتا ہے ۔اِس دعوے کی بنیاد بھارتی رائے میں اُس الحاق پہ ٹکی ہوئی ہے جو مہاراجہ ہری سنگھ نے کیا تھا۔پس جہاں کوئی بھی آئینی اقدام لینے کا موضوع جو کہ دور رس نتائج کا حامل ہو زیر بحث ہووہاں آر پار کی منجملہ ریاست کو مد نظر رکھنا ہو گا جو کہ 1947ء کے جغرافیائی حدود سے وابستہ ہو۔
اتل بہاری واجپائی کی مانند نریندرا مودی کی طبیعت شاعرانہ نہیں لہذا اُنہیں اپنی سوچ کو الفاظ کے لبادے میں چھپانے میں مشکل پیش آتی ہے۔انسانیت،کشمیریت و جمہوریت کی بات اُنہوں نے ضرور دہرائی لیکن اس تصور کا راگ الاپتے ہوئے وہ کشمیر کے خصوصی تشخص جو کہ دفعات 370اور 35A کے ساتھ لازم و ملزوم ہے کی بیخ کنی کرتے ہوئے نظر آئے۔ واجپائی اپنی تیکھی بات پر بھی ایک شاعرانہ غلاف چڑھاکے اُسے منوانے کے ہنر میں ماہر تھے جبکہ مودی سیاسی نظافت کے ہنر سے فیضیاب نہیں ۔ کشمیر ایک سیاسی پروسیس کا متلاشی ہے۔اِس پروسیس کو کسی اور سیاسی دائرے سے جوڑنا مناسب قرار نہیں دیا جا سکتا۔بھارت کے حالیہ انتخابات میں کشمیرکے سیاسی تشخص کو موضوع بنا کے اُسے بھارتی سیاست کی اُلجھنوں کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کر کے سیاسی میدان کو اپنے حق میں ہموار کرنے کی کوششیں کی گئی لیکن کوتاہ مدت کے مقاصد کی آبیاری کیلئے دراز مدت کے اغراض و مقاصد کو قربان کرنا سود مند ثابت نہیں ہو سکتا۔
Feedback on: [email protected]