۔ 50درآمدات پر 50 فیصد ٹیرف عائد
عظمیٰ نیوز سروس
نیویارک //امریکا اور برازیل کے درمیان سفارتی اور تجارتی تناؤ میں شدت آ گئی، جس کی وجہ یہ ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برازیل سے درآمد کی جانے والی بیشتر اشیا پر بھاری ٹیرف نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔یہ اقدام برازیلی عدلیہ کی جانب سے سابق صدر جائر بولسونارو کے خلاف جاری مقدمے کے ردعمل میں سامنے آیا ہے، جسے ٹرمپ نے سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔امریکی صدارتی حکم کے تحت اب برازیل سے آنے والی کئی اہم اشیا پر 50 فیصد تک ٹیرف لاگو ہوگا، تاہم 3 اہم شعبے ہوابازی، توانائی اور اورنج جوس اس فیصلے سے مستثنا رہیں گے۔اس اعلان کے بعد برازیل میں سیاسی و اقتصادی حلقوں میں ہلچل مچ گئی۔ وزیر خزانہ روجیرو سرون نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام اتنا سخت نہیں جتنا تصور کیا جا رہا تھا، ہم اس سے بھی زیادہ سنگین نتائج کے لیے تیار تھے۔ ان کے مطابق حکومت حالات پر نظر رکھے ہوئے ہے اور ردعمل کے تمام پہلوؤں پر غور کر رہی ہے۔ادھرامریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کو خبردار کیا ہے کہ “فلسطینی ریاست کی حمایت کے اعلان کے بعد ہمارا کینیڈا کے ساتھ تجارتی معاہدہ کرنا ‘بہت مشکل’ ہو گیا ہے “۔ٹرمپ نے براز جمعرات ٹروتھ سوشل سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ “کینیڈا کو دیکھیں! اس نے فلسطین کو بحیثیت ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ یہ اعلان، ہمارے ان کے ساتھ تجارتی معاہدے کو بہت دشوار بنا دے گا۔ افسوس ہے کینیڈا پر”۔ٹرمپ کے یہ بیانات ایسے وقت پر سامنے آئے ہیں جب کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے بروز بدھ جاری کردہ اعلان میں کہا ہے کہ “ہمارا ملک، غزہ میں “ناقابل برداشت” انسانی صورتحال کے پیش نظر، ماہِ ستمبر میں، فلسطین کو بحیثیت ایک ریاست تسلیم کرلے گا”۔کارنی نے اوٹاوا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ “کینیڈا، ستمبر 2025 میں متوقع 80 ویں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس میں فلسطین کو بحیثیت ایک ریاست کے تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے “۔ یہ بیان انہوں نے ایک آن لائن کابینہ اجلاس کی صدارت کے بعد دیا ہے ۔