فرانس//فرانس کے صدر ایمینوئل میخواں نے کہا ہے کہ انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو راضی کر لیا ہے کہ وہ شام سے اپنی فوج کو وطن واپس نہ بلائیں اور انھیں شام میں 'طویل مدت' کے لیے تعینات کریں۔یاد رہے کہ اس ماہ کے آغاز میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ 'امریکہ شام سے بہت جلد نکل جائے گا۔'ٹی وی انٹرویو میں فرانس کے صدر نے مزید کہا کہ انھوں نے صدر ٹرمپ کو کہا ہے کہ شام پر حملوں کی تعداد محدود رکھیں۔واضح رہے کہ سنیچر کو امریکہ نے اپنے اتحادی فرانس اور برطانیہ کے ساتھ شامی حکومت کے دوما پر مبینہ کیمیائی حملے کے جواب میں ٹوماہاک میزائلوں سے حملہ کیا تھا۔میخواں کے بیان کے بعد وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ سینڈرز نے کہا: 'امریکی مشن میں تبدیلی نہیں آئی ہے۔ صدر اس بارے میں واضح ہیں کہ امریکہ جتنا جلد ممکن ہو وہاں سے نکل آئے۔'تاہم انھوں نے کہا کہ امریکہ دولت اسلامیہ کو مکمل طور پر ختم کر دینے کا پابند ہے تاکہ وہ واپسی نہ کرسکے۔جمعے کی شام حملے کے متعلق قوم سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے زور دے کر کہا تھا کہ 'امریکہ کسی بھی صورت شام میں غیر معینہ مدت تک رہنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔'امریکہ کے تقریبا دو ہزار زمینی فوجی مشرقی شام میں ہیں جو کرد اتحاد اور سیرین ڈیموکریٹک فور?سز نامی عرب ملیشیا کی حمایت کر رہا ہے۔صدر میخواں نے کہا کہ وہ بشمول روس تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات چیت کرنے کے خواہشمند ہیں تاکہ شام کے مسئلے کا سیاسی حل ڈھونڈا جا سکے اور اس سلسلے میں وہ اگلے ماہ روس کے دورے پر جائیں گے۔فرانسیسی صدر نے ملک کے ٹی وی چینل بی ایف ایم ٹی وی کو براہ راست انٹرویو دیا جو کہ تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہا اور اس دوران یہ انٹرویو ٹوئٹر پر بھی سب سے مقبول ٹرینڈز میں سے ایک تھا۔شام میں کیا ہو رہا ہے؟ادھر شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کی خود مختار تنظیم او پی ڈبلیو سی کے نمائندے ملک کے دارالحکومت شام میں موجود ہیں اور وہ دوما میں ہونے والی مبینہ کیمیائی حملوں کی تحقیق کریں گے۔توقع تھی کہ تحقیق کار ہفتے یا اتوار کو دوما روانہ ہوں گے لیکن اس بارے میں ابھی تک کوئی مزید معلومات نہیں آئی ہیں۔روس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ دوما میں کسی قسم کے کیمیائی ہتھیار کے استعمال کے کوئی ثبوت نہیں ہیں اور یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ تفتیش کاروں کے جواب دینے سے قبل حملے کیوں کیے گئے۔روس نے برطانیہ پر الزام لگایا ہے کہ دوما میں کیے جانے والے حملہ ان کی جانب سے تھا۔ادھر تفتیش کاروں کی تنظیم او پی ڈبلیو سی نہ یہ طے کرے گی اور نہ ہی اس بارے میں کوئی اعلان کرے گی کہ مبینہ کیمیائی حملے کس نے کیے۔دوسری جانب امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کے جانب سے شام پر حملے کے حوالے سے روس نے کہا ہے کہ شام پر مزید میزائل حملوں سے بین الاقوامی تعلقات میں افراتفری کی صورتحال پیدا ہو جائے گی۔