تہران// ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے امریکا کو خبرادر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جوہری معاہدے کو منسوخ کیا تو ایران بھی معاہدے کی پاسداری نہیں کرے گا.تفصیلات کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ یوٹیوب پر اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ امریکا خود جوہری معاہدے کہ مسلسل خلاف ورزیوں کا مرتکب ہورہا ہے اور اس کی کوشش ہے کہ دوسرے ممالک کو ایران میں کاروبار اور سرمایہ کاری سر روکے۔ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ جوہری معاہدے کے ختم ہونے کے بعد تہران دوبارہ ایٹمی منصوبوں کے حوالے عالمی طاقتوں کے ساتھ سنہ 2015 میں ہونے والے معاہدے پر کوئی مذاکرات نہیں کرے گا۔خیال رہے کہ گذشتہ روز ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں اسرائیل کی جانب سے ایران پرایٹمی ہتھیار بنانے کے حوالے سے لگائے جانے والے الزامات کی تردید کی تھی اس موقع پر انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ پرانے الزامات کی تکرار ہے جن سے اقوام متحدہ کا ایٹمی ہتھیاروں کی نگرانی کا ادارہ پہلے ہی نمٹ چکا ہے۔واضح رہے کہ جواد ظریف کا یہ مؤقف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے پر باقی رہنے یا منسوخ کرنے کے فیصلے سے ایک دن قبل سامنے آیا ہے۔ایرانی حکومت اور عوام اپنی سیکیورٹی کسی بھی عالمی طاقت کو ٹھیکے پر نہیں دے گا، کیوں ہم معاہدے پر نیک نیتی سے عمل پیرا ہیں۔یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ واضح کرچکے ہیں کہ ایرانی جوہری معاہدے میں ایران کے بیلسٹک میزائل کے حوالے ترمیم نہیں کی گئی تو امریکا معاہدے کو ختم کردے گا۔