واشنگٹن// امریکا نے چین کی جانب سے سائبر جاسوسی کے سلسلے میں تازہ کارروائی کرتے ہوئے چین کے دو شہریوں پر 'ہیکنگ' کی فرد جرم عائد کردی۔ دونوں چینی افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے ملک کے لیے کام کرتے ہوئے امریکا سمیت تقریباً ایک درجن ملکوں کے سرکاری اداروں اور کمپنیوں سے ہیکنگ کے ذریعے ڈیٹا چرانے کی کوشش کی۔ ان دو ہیکرز پر امریکی خلائی، ایوی ایشین اور فارما سیوٹیکل سمیت اہم صنعتوں کے سسٹم میں گھس کر غیر قانونی طور پر حساس ڈیٹا چرانے کا الزام ہے۔ پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہیکرز کی شناخت زھو ہوا اور ڑانگ شلونگ کے نام سے ہوئی ہے جنہوں نے 12 امریکی ریاستوں کے 45 سے زائد اداروں کے سسٹم میں گھس کر سیکڑوں گیگا بائٹ ڈیٹا چوری کیا۔ ان دونوں ہیکرز کو تاحال حراست میں نہیں لیا گیا جبکہ امریکا کا چین سے قیدیوں کے تبادلے کا کوئی معاہدہ نہیں ہے، لہٰذا ان دونوں چینی شہریوں کی گرفتاری سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ امریکا کے قانون نافذ کرنے والے ادارے کے حکام نے ہیکرز کی اس کارروائی کو مخالف ملکوں کی جانب سے امریکا کے خلاف منظم طریقے سے ہیکنگ کے ذریعے خفیہ معلومات چرانے کی مہم کا حصہ قرار دیا۔ ایف بی ا?ئی کے ڈائریکٹر کرس ورے نے کہا کہ چین کے ریاستی عناصر معاشی جاسوسی میں سب سے زیادہ متحرک ہیں، ہم مقابلے کی فضا کا خیر مقدم کرتے ہیں۔