لکھن پور سے لے کر یاترا راستے تک ایچ ڈی سی سی ٹی وی کیمرے نصب
عظمیٰ نیوزسروس
جموں// جموں کشمیر میں سالانہ امرناتھ یاترا کے لیے آنے والے عقیدت مندوں کی سکیورٹی میں اضافہ کرتے ہوئے ضلع کٹھوعہ کے لکھن پور میں واقع یاترا استقبالیہ مرکز پر ایک ڈرون مخالف نظام نصب کیا گیا ہے ۔ یہ سالانہ یاترا 3جولائی سے شروع ہوگی اور 28اگست کو ختم ہوگی۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ “سرحد پار سے کسی بھی ڈرون کی سرگرمی کو روکنے کے لیے یہ جدید ترین نظام لگایا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ سکیورٹی فورسز ضلع میں ہند۔پاک بین الاقوامی سرحد سے متصل علاقوں میں مسلسل تلاشی مہم بھی چلا رہی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ امرناتھ یاترا سے پہلے ، کٹھوعہ سے لے کر سری نگر تک تقریباً 400 کلومیٹر طویل جموں سری نگر قومی شاہراہ پر سکیورٹی کے وسیع انتظامات کیے گئے ہیں۔ذرائع نے کہا کہ “پاکستان نے ہتھیاروں، منشیات کی اسمگلنگ اور سکیورٹی فورسز کی تعیناتی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے کٹھوعہ اور آس پاس کے علاقوں سمیت جموں خطے کے سرحدی اضلاع میں اکثر ڈرون کا استعمال کیا ہے‘‘۔اس سال کی یاترا کے لیے سکیورٹی کو مزید پختہ کرنے کے لیے یاترا استقبالیہ مرکز پر ڈرون مخالف نظام نصب کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ “یہ نظام کسی بھی مشکوک ڈرون سرگرمی کی نگرانی کرنے ، اس کا پتہ لگانے اور کارروائی کرنے میں پوری طرح اہل ہے‘‘‘۔جموں و کشمیر کے داخلے کے راستے لکھن پور میں یاترا استقبالیہ مرکز پر سکیورٹی فورسز کی جانب سے ایک مشترکہ ریہرسل بھی کی گئی۔ اس مرکز پر جوانوں نے یاترا سے پہلے اپنی تیاری اور آپریشنل صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ “یاترا کو محفوظ اور پرامن بنانے کے لیے لکھن پور سے لے کر یاترا کے راستے تک اعلیٰ صلاحیت والے سی سی ٹی وی کیمرے لگائے گئے ہیں۔ استقبالیہ مرکز کے آس پاس اور دریائے راوی کے کنارے حساس علاقوں میں اضافی سکیورٹی اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں‘‘۔پولیس افسران نے کہا کہ اس ریہرسل کا بنیادی مقصد مختلف سکیورٹی ایجنسیوں کے درمیان تال میل بڑھانا اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے ان کی تیاریوں کا جائزہ لینا تھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امرناتھ یاتریوں کی سکیورٹی اولین ترجیح ہے اور تیرتھ یاترا کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لیے وقت رہتے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ “سکیورٹی فورسز پوری طرح سے چوکس ہیں اور عقیدت مندوں کو ایک محفوظ اور پرامن تیرتھ یاترا کا تجربہ کرانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے جا رہے ہیں‘‘۔