ایجنسیز
برلن//جرمنی کی اعلیٰ ترین عدالت نے اپنے ایک فیصلے میں کہا ہے کہ برلن حکومت وسیع پیمانے پر وہ وعدے اور عہد منسوخ نہیں کر سکتی، جو اس نے بہت سے افغان شہریوں کو جرمنی میں ان کی آباد کاری کے لیے قانونی داخلے کی اجازت دینے کے حوالے سے ماضی میں کیے تھے۔وفاقی دارالحکومت برلن سے جمعہ 24 جولائی کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق وفاقی جرمن آئینی عدالت، جو ملک میں آئینی امور اور ان سے متعلق مقدمات میں فیصلے سنانے والی اعلیٰ ترین عدالت ہے، نے اپنے ایک فیصلے میں کہا کہ افغانستان کے باشندوں کو ایک خصوصی پروگرام کے تحت ملک میں داخلے کی اجازت دینے سے متعلق ماضی میں کیے گئے جرمن حکومت کے عہد اجتماعی طور پر منسوخ نہیں کیے جا سکتے۔اس عدالت کے مطابق جرمن حکومت کو ایسا کوئی بھی فیصلہ متاثرہ افراد میں سے ہر ایک کے انفرادی کیس کے تفصیلی جائزے کی بنیاد پر کرنا چاہیے۔وفاقی جرمن آئینی عدالت نے جمعے کے روز اپنا یہ فیصلہ ایک ایسی آئینی شکایت کو بجا قرار دیتے ہوئے سنایا، جو ایک افغان خاتون اور اس کے دو کم عمر بیٹوں کی طرف سے دائر کی گئی تھی۔