افریقہ میں فوجی بغاوت ناکام، صورتحال قابو میں ہے: حکومت

لیبرویل // افریقی ملک گبون فوجی بغاوت کی ناکامی کے بعد ملک کی سیاسی صورتحال دوبارہ بحال ہونا شروع ہوگئی۔ تفصیلات کے مطاقب افریقی ملک گبون میں کچھ فوجی افسران نے ریڈیو اور ٹیلویڑن سمیت کئی سرکاری عمارتوں پر قبضہ کرلیا تھا، باغیوں نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومت ختم ہوگئی ہے اور اب تیل کی دولت سے مالامال ملک میں جمہوریت کو دوبارہ بحال کیا جائے گا، جہاں بیمار لیڈر کا خاندان گذشتہ 50 برسوں سے حکومت کررہا ہے۔ خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ گبون کے دارالحکومت لیبرویل میں ٹینک اور مسلح گاڑیاں ( بکتر بند ) گاڑیاں دیکھی جارہے ہیں۔ گبون حکومت کے ترجمان میپنگو کا کہنا ہے کہ حکام نے چار باغیوں کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ پانچواں شخص فرار ہوگیا۔ حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ صورتحال معمول پر آگئی ہے، سرکاری ٹی وی اور ریڈیو کی عمارت پر پیادہ فوجیوں نے قبضہ کرلیا تھا لیکن اب صورتحال بہتر ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ ناکام فوجی بغاوت کرنے والے جو افسران فرار ہوئے ہیں کچھ ہی گھنٹوں میں انہیں بھی گرفتار کرلیا جائے گا ملک کے ’علی بونگو‘ ایک مرتبہ پھر ملکی قیادت سنبھالنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ میڈیا کا کہنا ہے کہ پانچ فوجیوں نے سرکاری ریڈیو اسٹیشن پر قبضہ کرکے ’قومی بحالی کونسل‘ کا اعلان کیا تھا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں دکھا سکتا ہے کہ تین جوان فوجی مسلح ریڈیو اسٹیشن میں موجود ہیں اور اعلان کررہے ہیں۔ خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ گبون میں فوجی بغاوت نے سب کو حیرت زدہ کردیا، کیوں گبون کی مسلح افواج بونگوں خاندان کی وفادار سمجھی جاتی ہے۔ عینی شاہدین نے میڈیا کو بتایا کہ دارالحکومت کے بیشتر حصّے میں دوبارہ امن بحال ہوگیا ہے۔ خیال رہے کہ دیگر افریقی ممالک کے مقابلے میں گبون بہت کم سیاسی افراتفری کا شکار ہوا ہے اور سنہ 1960 سے اب تک صرف تین افراد صدر بنے ہیں۔ سابق عمر بونگوں نے چار دہائیوں تک گبون کی سیاست پر غلبہ قائم رکھا ہے، گبون تیل پیدا کرنے والا ملک ہے لیکن ملک کی اکثریت غریبی میں زندگی گزر رہی ہے۔ گبون کی کل آبادی 18 لاکھ اور زندگی کی شرح 62 سال ہیجبکہ نوجوانوں کی بے روزگاری کی ششرح 35 فیصد ہے اور ملک کا قومی نشان سیاہ پی’نتھر‘ ہے۔