اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ

عظمیٰ یاسمین
  تھنہ منڈی // جموں و کشمیر میں آسمان چھوتی مہنگائی اور بیروزگاری نے مزدور طبقہ اور غریب عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے جس کے نتیجے میں بالخصوص یہاں کا پڑھا لکھا طبقہ کسمپرسی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ آسمان چھوتی مہنگائی نے مزدور پیشہ افراد کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ اس سلسلے میں کئی صارفین نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ضروری اشیاء کی قیمتوں میں تشویشناک اضافہ کی وجہ سے اکثر عوام غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے ہیں جو انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔عام آدمی کا معیارِ زندگی مہنگائی کی وجہ سے بہت متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے روزگاری کو ختم کرنے کیلئے حکومت کو کوئی لائحہ عمل اختیار کرنا پڑے گا اور ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر عوامی اور اجتماعی مفادات کے لئے کوششیں کرنی ہوں گی۔اس کے علاوہ آسمان کو چھوتی قیمتوں پر قابو پانے کیلئے ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی کرنا پڑے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کا فرض بنتا ہے کہ عوام کو ضرورت زندگی کی اشیاء سستے داموں مہیا کرے لیکن بدقسمتی سے یہاں سب کچھ اس کے برعکس ہو رہا ہے اور مہنگائی کا جادو سر چڑھ کے بول رہا ہے جس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ مرغا 170 روپے انڈا 150 روپے کریلا 120 روپے شملہ مرچ 100 روپے بھنڈی 120 روپے لیموں 250 روپے سویا بین 100 روپے گوبھی 50 روپے تربوزہ 50 روپے ٹماٹر 50 روپے اور دودھ 70 تا 80 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کیا جا رہا ہے جبکہ دیگر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بھی بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے جس کی وجہ سے سبزیوں دالوں اور دیگر اشیائے خوردونوش کا خریدنا ایک غریب انسان کے دست قدرت سے باہر ہے۔ وہیں دیگر اشیاء کی بڑھتی قیمتوں نے غریب عوام کو پریشان کر کے رکھ دیا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے دکانداروں سبزی فروشوں اور میوہ فروشوں کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے اور وہ من مانی قیمتوں پر سامان فروخت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بازاروں میں قیمتوں کو اعتدال میں رکھنے اور ذخیرہ اندوزی کو روکنے کیلئے خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے جارہے ہیںجس کی وجہ سے دکاندار بلا خوف صارفین سے من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں۔ عوام نے حکام سے ناجائز منافع خوروں کے خلاف کارروائی کرنے اور قیمتوں کے بے تحاشہ اضافہ کو روکنے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔