ندائے حق
اسد مرزا
واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک نازک سفارتی پیش رفت براہِ راست اسرائیل کی لبنان میں فوجی جارحیت سے ٹکرا گئی ہے اور اس نے امن معاہدے پر گہرا سایہ ڈال دیا ہے جو ایک نسل میں مشرقِ وسطیٰ کا سب سے اہم سفارتی سنگِ میل بن سکتا تھا۔جدید مشرقِ وسطیٰ کی سفارت کاری کے دائرے میں امن ہمیشہ سب سے ناپائیدار شے رہا ہے۔ یہ تلخ حقیقت ایک بار پھر پوری شدت کے ساتھ سامنے آئی جب 19 جون 2026 کو امریکا اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ کے پُرسکون پہاڑی مقام بُرگن اسٹاک میں طے شدہ عملداری مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو گئے۔ سوئس وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی کہ امریکا، ایران، قطر اور پاکستان کے درمیان منصوبہ بند مذاکرات ملتوی کر دیے گئے ہیں اور کوئی نئی تاریخ فراہم نہیں کی گئی ۔ اس ناکامی کی فوری وجہ نہ ایرانی ضد تھی، نہ امریکی بدنیتی۔ وجہ تھی لبنانی سرزمین پر گرتے اسرائیلی بم۔
معاہدے کا ڈھانچہ : یہ سمجھنے کے لیے کہ دنیا ایک تاریخی سمجھوتے کے کتنا قریب تھی، یہ جاننا ضروری ہے کہ امریکا۔ایران معاہدہ اصل میں کیا حاصل کرنا چاہتا تھا۔ اس معاہدے پر دستخط ایران میں جنگ ختم کرنے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنےاور تہران کے جوہری پروگرام سمیت وسیع تر مسائل پر ساٹھ روزہ مذاکرات کا آغاز کرنے کے لیے کیے گئے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ معاہدہ لبنان میں لڑائی کو بھی روکنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے علیحدہ علیحدہ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔ یہ کسی بھی پیمانے پر ایک غیر معمولی سفارتی کامیابی تھی۔ 28 فروری 2026 کو امریکا۔اسرائیل کے مشترکہ حملوں سے شروع ہونے والی جنگ نے تقریباً چار ماہ تک پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لیے رکھا تھا۔
اسرائیل کا غیر متوقع پتّہ :اس نازک سفارتی لمحے میں اسرائیل نہ دستخط کنندہ کے طور پر، نہ ثالث کے طور پر، بلکہ ایک فعال تخریب کار کے طور پر میدان میں اترا۔ اسرائیلی فوج نے لبنان میں راتوں رات حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملے کیے جبکہ امریکا۔ایران کا وہ فریم ورک جو پورے خطے میں دشمنیاں ختم کرنا چاہتا تھا، ابھی نافذ العمل تھا۔ اسی دوران لبنان میں چار اسرائیلی فوجی بھی لقمۂ اجل بنے جن میں ایک لیفٹیننٹ کرنل بھی شامل تھا، جس نے اسرائیلی کابینہ کے اندر سے آتش گیر ردِ عمل کو ہوا دی۔
اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر اتامار بن گویر نے اعلان کیا کہ ’’پورا لبنان جل کر راکھ ہو جانا چاہیے‘‘ اور مزید کہا: ’’امریکیوں کی عزت کے ساتھ، اسرائیل کو پوری دنیا کو واضح کر دینا چاہیے کہ ہمارے بیٹوں کا خون اور ہمارے شہریوں کی سلامتی سودے بازی کا موضوع نہیں۔‘‘ بن گویر نے اس سے بھی آگے بڑھ کر لکھا،’’ہر اسرائیلی ماں کے ایک آنسو کے بدلے ہزار لبنانی مائیں روئیں، بس ہو گئی یہ پنگ پانگ۔ مشرقِ وسطیٰ میں جوابی کارروائی اور ضبط سے جیت نہیں ملتی — یہاں دیوانگی کی ضرورت ہے۔‘‘
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے براہِ راست جواب دیتے ہوئے اسرائیل پر ’’مستقل جنگ‘‘ چاہنے کا الزام عائد کیا اور بن گویر کے بیانات کو کسی عام دیوانے کی بڑ نہیں بلکہ اسرائیلی حکومت کے وزیر کی عوامی پوسٹ قرار دیا۔ عراقچی نے مزید کہا کہ ایران لبنان میں اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتا ہے اور امریکا کو ان کے نتائج کے لیے براہِ راست ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔
لبنان کی دراڑ: لبنان کا سوال پورے سفارتی ڈھانچے میں وہ دراڑ ہے جس نے بالآخر سب کچھ ہلا دیا۔ پاکستان نے، جس نے جنگ بندی میں ثالثی کی، واضح طور پر کہا کہ لبنان جنگ بندی میں شامل ہے، لیکن نائب صدر جے ڈی وینس نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکا اس بات سے متفق نہیں کہ اسرائیل لبنان میں حملے بند کرے گا۔ اس بنیادی ابہام نے — کہ لبنان معاہدے کے دائرے میں ہے یا نہیں — اسرائیل کو مہلت دی کہ وہ مہر کی سیاہی سوکھنے سے پہلے ہی اپنی مہم جاری رکھے۔
ایران کا موقف قابلِ قیاس طور پر سخت ہو گیا۔ معاملے سے واقف ایک علاقائی سفارتکار نے NBC نیوز کو بتایا کہ تہران نے سوئس مذاکرات میں آگے بڑھنے کے لیے لبنان میں دشمنی کے خاتمے کی ضمانت کو شرط قرار دیا۔ واشنگٹن نے وہ ضمانت دینے سے انکار کر دیا کیونکہ اس کے نقطۂ نظر سے حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیاں ایک الگ معاملہ تھا۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلا کہ بُرگن اسٹاک مذاکرات کسی وفد کے انے سے پہلے ہی ناکام ہو گئے۔امریکی سفارتی زبان چاہے جتنی نپی تلی تھی، حقیقت زیادہ سادہ تھی۔ اسرائیل کی فوجی مہم نے ایران کی شرکت کو سیاسی طور پر ناقابلِ قبول بنا دیا تھا۔
واشنگٹن دو چکیوں کے درمیان :اس واقعے کو خاص طور پر اہم بناتی ہے وہ بات جو شاید اکتوبر 7 کے بعد کے دور میں پہلی بار ہوئی ۔امریکی اعلیٰ عہدیداروں نے علانیہ اور سختی سے اسرائیلی اقدامات پر تنقید کی، اور وہ بھی ایسے لہجے میں جو ایک سال پہلے ناقابلِ تصور ہوتا۔ وینس نے اسرائیل کے ایران معاہدے پر ’’فریاد‘‘ کو ڈانٹا اور ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل اس معاہدے پر تنقید کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے ۔تاہم خود امریکی حکومت کی پوزیشن میں ایک بنیادی تضاد ہے۔ لبنان کو جنگ بندی کے فریم ورک میں واضح طور پر شامل نہ کر کے واشنگٹن نے اسرائیل کو وہ قانونی ابہام فراہم کیا، جس کی اسے حملے جاری رکھنے کے لیے ضرورت تھی۔ اس ابہام کا نتیجہ اب ایک ملتوی امن عمل اور جنوبی لبنان میں تازہ قتل و غارت کی صورت میں سامنے ہے، جہاں اسرائیلی فضائی حملوں اور توپ خانے سے ہلاکتوں کی تعداد جمعے تک چوبیس ہو گئی، جب نابطیہ شہر اور گرد و نواح کے قصبوں کو نشانہ بنایا گیا۔
وسیع تر داؤ:لبنان کا سوال محض انسانی المیے کا معاملہ نہیں، خواہ وہ کتنا ہی سنگین کیوں نہ ہو۔ یہ ہر اس پائیدار امریکا۔ایران امن کی جڑ میں موجودہے جو حقیقت میں قائم رہ سکے۔ حزب اللہ ایران کا سب سے اہم علاقائی حلیف ہے اور تہران کی یہ صلاحیت کہ وہ دعویٰ کر سکے کہ امن معاہدے میں لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کا خاتمہ بھی شامل ہے، کسی بھی ایسے سمجھوتے کی سیاسی جواز کے لیے مرکزی اہمیت رکھتی ہے جسے ایرانی قیادت اپنے داخلی حلقوں میں قابلِ قبول بنا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حزب اللہ امریکا۔ایران معاہدے سے خود کو طاقتور سمجھ رہا ہے، یہ مانتے ہوئے کہ ایران کی سفارتی طاقت نے اس کی پوزیشن کمزور نہیں بلکہ مضبوط کی ہے، اور وہ اسرائیلی حملوں کا جواب دے کر یہ واضح پیغام دے رہا ہے کہ وہ یک طرفہ جنگ بندی قبول نہیں کرے گا۔ یہ صورتِ حال ایک ایسا چکر پیدا کرتی ہے جس سے نکلنا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔اسرائیلی حملے حزب اللہ کی جوابی کارروائیوں کو بھڑکاتے ہیں، اسرائیلی جانی نقصان ملکی سطح پر مزید کشیدگی کا دباؤ ڈالتا ہے اور یہ چکر اس سفارتی عمل کو کمزور کرتا ہے جو اسے ختم کر سکتا تھا۔
آگے کی راہ :سوئٹزرلینڈ نے اشارہ دیا ہے کہ بُرگن اسٹاک میں ابتدائی کام جاری ہے اور جب بھی فریقین تیار ہوں، وہ مذاکرات کی سہولت کاری کے لیے موجود ہے۔ یہ سفارتی صبر کی زبان ہے، کسی آسنن پیش رفت کی نہیں۔ امریکا۔ایران معاہدہ، اپنے تمام تاریخی وعدوں کے ساتھ، اپنے سب سے خطرناک مرحلے میں داخل ہو گیا ہے — دستخط شدہ مفاہمت نامے اور ایک فعال امن کے درمیان کا خلا، جسے اسرائیل کی فوج مزید ختم کرنے پر تُلی نظر آتی ہے۔
[email protected]>