یہ قدیم ترین درس گاہ ہے۔ یہ بہنیں آج بھی دنیا بھر کی خواتین کے لیے فروغِ علم کا زندہ پیغام ہیں۔ طب، طبیعیات، کیمیا، ریاضی، اور علم فلکیات ایک طرف، اسلام کی آمد نے یورپ کی روزمرہ زندگی میں جس نفاست اور تہذیب کی بنا ڈالی، اس کی علمی ونفسیاتی تاثیر مسلّم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسواک (ٹوتھ برش) اور صابن کا استعمال مسلمانوں نے یورپ کو سکھایا۔ اکثر مسلمان یہ جانتے ہیں کہ مسواک سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہے، مگر شاید کچھ ہی لوگ جانتے ہوں کہ یہ عربی مسواک یورپ میں دانتوں کی صفائی کا پہلا طریقہ تھا، جسے اپنایا گیا۔ عیسائیت میں نہانا اور صفائی گناہ تصور کیے جاتے تھے، یہ کام مسلمانوں نے سکھائے۔ سن ہزار عیسوی کے آس پاس ابن الہیثم نے پہلی بار نظر کی کمزوری کی درست تشخیص اور علاج متعارف کروایا۔ اسپتال کا سب سے پہلا نمونہ مسلم مصر میں ملتا ہے، قاہرہ میں 872 عیسوی میں احمد بن طولون اسپتال قائم کیا گیا تھا، یہ فلاحی اسپتال تھا۔ غریبوں کے مفت علاج کا یہ نمونہ مسلم اندلس سمیت پوری مسلمان دنیا میں پھیلادیا گیا۔ یہ روزمرہ کی وہ چند ضرورتیں ہیں جو آج بھی انسانی معمولات کا بنیادی اور لازمی حصہ ہیں۔ریاضی، الجبرا، اور جیومیٹری مسلمانوں کی عنایتیں ہیں۔ صفر کا عدد مسلم ریاضی کی ایجاد ہے۔ ایلگوریتھم، جس پر آج کی سائنس کا خاصا انحصار ہے، محمد بن موسیٰ الخوارزمی کا کارنامہ ہے جو عہدِ عباسی کے ماہرِ فلکیات و ریاضی تھے۔ آج کی دنیا میں فلاح اور علوم کی جتنی صورتیں ہیں، وہ عہدِ ازمنہ وسطیٰ ہی کی عنایتیں ہیں۔ اگر تاریخِ انسانی سے ازمنہ وسطیٰ کا عہد نکال دیا جائے، تو سوائے جہالت اور گمراہیوں کے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ یہ انسانی تہذیب کی معنوی صور ت گری کا عہد ہے۔ اگر کوئی سمجھنا چاہے کہ آج کی دنیا میں عالمگیر اصلاح اور فلاح کی کیا صورت ممکن ہوسکتی ہے، تو وہ مسلم اندلس کی ابتدائی صدیوں کی گلیوں میں نیک نیتی سے چہل قدمی کرلے، نشانِ منزل مل جائے گا۔ اسلامی، عیسائی، اور یہودی تہذیبیں، جن کے پیروکاروں کی تعداد آج تک دنیا کی غالب ترین آبادی ہے، اگر مسلمان، عیسائی اور یہودی آج بھی عالمی معاشی سرگرمیوں سے قطع تعلق کر دیں، جن پر سرمایہ دار مغرب کی نظریاتی بنیادیں کھڑی ہیں، تو سارا ڈھچر زمیں بوس ہوجائے۔ اس مالی خدائی کی قوت یہ ہے کہ اگر خدا پر ایمان رکھنے والے بینکوں اور مالیاتی اداروں سے بہ یک وقت سرمایہ نکال لیں، تو سرمایہ دار سامری کا جادو پلک جھپکتے میں اوجھل ہوجائے۔ عالمی فساد کی حقیقت عیاں کرنے کے لیے صرف عالمی مالی نظام کا انکار درکار ہے۔ مگر صد افسوس کہ مذہبی اکثریت اس سود و زیاں کی حقیقت سے آگاہ نہیں۔ یہ جملہ معترضہ تھا۔ تاریخ کا رُخ کرتے ہیں۔
ازمنہ وسطیٰ کے باب میں تاریخ کی مذہبی منہاج پر دجل کے پردے ڈالے گئے۔ لہٰذا جعلی نشاۃ ثانیہ کا آغاز ہی دھوکے وفریب سے ہوا۔ اس عہد کی سائنسی و علمی ترقی کی بنیادیں صدیوں قبل پڑچکی تھیں، صرف منہاج بدل دی گئی تھی۔ خدا پرستی عقل پرستی میں ڈھل گئی تھی، اور انسان پرستی میں منتقل ہوگئی تھی۔ اس میں چھاپہ خانہ کی ایجاد نے جو رفتار اور پھیلاؤ پیدا کیا، اُس نے اس عہد کی ’ترقی‘ پر مبالغہ آرائی کا بھرپور مگر ناجائز جواز مہیا کیا۔ بالکل اس طرح جیسے ایل گوریتھم کی دریافت محمد بن موسیٰ الخوارزمی کا کارنامہ تھا، مگر کمپیوٹر سائنس کی آمد نے وہ جست لگائی کہ ایلگوریتھم کے طالب علم الخوارزمی کے نام سے بھی واقف نہیں، یہ محض تیز رفتاری کا دھوکا ہے جو علمی بنیادوں کو بھی معلومات کی دنیا میں نامعلوم بنا دیتا ہے۔ غرض جعلی نشاۃ ثانیہ کی منہاج کہتی ہے کہ وحی پر مبنی علوم اور نقل پر قائم روایتیں ناقابل قبول ہیں، عقلیت اور انسان پرستی ہی سب کچھ ہے۔ یعنی انسان کی عقل نعوذباللہ عقلِ کُل ہے، اور انسان کی اہمیت ہر ثانوی شے پر مقدم ہے، گویا انسان ہی اب اس زمین کا خدا ہے۔ ابتدا میں مذہب کا یکسر رد نہیں کیا گیا، بلکہ حیثیت گھٹا دی گئی، جدیدیت کا یہی طریقہ واردات آج بھی ہے۔ یہ مذہبی معاشروں میں بتدریج مذہب کی اہمیت کم کرتے کرتے ختم کرتی ہے، اور پھر انسان پرستی کی فرعونی صورت اختیار کرلیتی ہے ۔ مغربی اخلاقیات کی یہ پُرفریب صورت مادی طاقت کے اصول پر آگے بڑھتی ہے۔ جیسا کہ اطالوی دانشور میکیاولی نے طاقت کے اصول کی تاکید کی، اور مغرب سمیت دنیا کا ہر جابرنظام اسی اصول پرکاربند ہے۔ (آج مسلمان عوام طاقت کے اس سیاق وسباق میں بری طرح جکڑے ہوئے ہیں)۔ انیسویں صدی میں چارلس ڈارون کی تھیوری نے جیسے جدیدیت میں جان ڈال دی، جہاں جہاں اسے قبولیت حاصل ہوئی، وہاں مذہب اور تہذیب کی زندگی محال ہوگئی۔ نوآبادیاتی نظام کی چاندی ہوگئی۔ وہ لوٹ مار، وہ قتل عام، ملکوں کی وہ بندر بانٹ ہوئی کہ تہذیبوں کی زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔ عالمی جنگوں نے جدیدیت کا بھرکس نکال دیا۔لہٰذا ازمنہ وسطیٰ کا یہ تاریخی سچ نہ صرف تاریخ کی درستی کے لیے ناگزیر ہے بلکہ تاریخ کی منہاج کی درستی کے لیے بھی لازم ہے۔ جدیدیت اور سائنس پرستی نے جس رُخ پر لے جاکر تباہی و بربادی کا سامان کیا ہے، اس رخ کو سیدھا صراطِ مستقیم پر لانا ہوگا، کیونکہ انسانی تہذیب کی منہاج رب کائنات کی خدائی اور اس کی عقلِ کُل کے سوا کہیں نہیں۔
تہذیبوں کا یہ گم گشتہ باب دوبارہ کھلنا چاہیے، اور اسی حکمتِ تہذیب پر نئے باب رقم ہونے چاہییں۔ موجودہ عہد کی ضرورت ہے کہ مسلم اندلس کے سنہرے عہد کی تہذیبی زندگی کا احیاء کیا جائے۔ عالمگیر تہذیب کا یہ نمونہ اختیار کیا جائے جہاں یہودی بھی سنہرے دور میں جی رہے تھے، جہاں عیسائی طلبہ بھی نئے علوم سے مستفید ہورہے تھے، جہاں انسانی زندگی کی فلاح اور نفس کے اطمینان کا کافی و شافی سامان سب کے لیے یکساں تھا۔ (ختم شد)