یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ دانستہ طورمنظم انداز میں اور صدیوں تاریخ کا یہ باب فراموش کیا گیا، ازمنہ وسطیٰ کا عہدِ زریں ’’دورِ ظلمت‘‘ قرار دیا گیا، اور علوم کی عظیم ترین تشکیل و ترویج اور اشاعت کا’’ عہد نامبارک‘ ‘ٹھہرایا گیا۔ ایسا کیوں ہوا؟ کس نے کیا؟ جب کہ اس کا بیشتر زمانہ تہذیبوں کی حیاتِ نو اور عروج کا تھا۔ اس عہد کی مکمل تعریف و تشریح سے کسے کیا خدشہ لاحق تھا؟ اس دور کی تفصیلات پر ’’اندھیروں‘‘ کے مہیب سائے کیوں ڈالے گئے؟ دبیز پردے کیوں گرائے گئے؟ گو کہ اس عہد پر چیدہ چیدہ درست تحقیق مشرق اور مغرب میں سامنے آئیں مگر ان کی تعداد اور اثرات انتہائی کم ہیں اور خاصی بےاعتنائی کا شکار ہیں ،جب کہ یہ انسانی تاریخ کا وہ اہم باب ہے جس کی بڑے پیمانے پر تکرار اور اظہار اتنا ہی ضروری ہے، جتنا اسے چھپانے اور مسخ کرنے والوں نے ضروری سمجھا۔ازمنہ وسطیٰ پانچویں سے پندرھویں صدی عیسوی کا دور کہلاتا ہے۔ اس دور کے بارے میں دو گمراہیاں عام ہیں۔ ایک یہ کہ مذہب نے سائنس اور عیسائیت کی جنگ میں شکست کھائی۔ یہ صریح جھوٹ ہے۔ دوسری گمراہی یہ کہ جدید سائنسی علوم کی پیدائش اٹلی میں ہوئی۔ مغرب کے معتبر نقاد حسن عسکری مضمون ’’ازمنہ وسطیٰ‘‘ میں واضح کرتے ہیں کہ ’’مغرب میں ازمنہ وسطیٰ کی وہ تصویر کھینچی جاتی ہے جو پروٹسٹنٹ مصنفوں، عقلیت پرستوں اور لادینوں نے کھینچی ہے، ان لوگوں نے اس زمانے کا نام’ ’ظلماتی دور‘‘ رکھا ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس دور میں بادشاہوں، نوابوں، اور پادریوں نے مل کر عوام کو اپنے شکنجے میں کس رکھا تھا۔ پادری علم کے ٹھیکیدار بن بیٹھے تھے، اور عوام کو علم سے محروم کردیا تھا۔ یہ تصویر بڑی حد تک خیالی ہے۔ (حال میں) ازمنہ وسطیٰ کے بارے میں جو تحقیق ہوئی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اوقات نواب اور زمیندار کاشت کاروں پر ظلم تو ضرور کرتے تھے لیکن فی الجملہ انسانی رشتوں کا جو احترام اُس دور میں تھا، وہ مغربی معاشرے میں پھر کبھی نہیں رہا۔ یہ بات کمیونزم کے بانی کارل مارکس نے بھی تسلیم کی ہے۔ اسی طرح یہ کہنا بھی سراسر غلط ہے کہ یہ تاریکی اور جہالت کا دور تھا۔ چونکہ سولہویں صدی سے لوگوں نے ازمنہ وسطیٰ کی کتابیں پڑھنا چھوڑ دی تھیں، اس لیے یورپ کے لوگوں کے لیے اپنا ادب اجنبی ہوکر رہ گیا تھا۔‘‘
جدیدیت کے ماہر نقاد محمد ظفر اقبال ’’اسلام اور جدید سائنس نئے تناظرمیں‘‘ کے باب ’’کلیسا اور سائنس کی دشمنی: ایک چلتا خیال‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’عام طور پر جدیدیت پسند مفکرین تاریخ سائنس کے عمیق مطالعے کے بغیر چند چلتے ہوئے مشہور افسانے سن کر عوام کو یہ باور کرواتے ہیں کہ کلیسا اور سائنس میں تصادم ہوگیا تھا۔ کلیسا سائنس کا دشمن تھا اور اس سے مذہب بدنام ہوا۔ جب کہ یہ بالکل غلط اور لغو الزام ہے، حقیقت یہ ہے کہ کلیسا منطق، سائنس اور فلسفے کے سائے میں مذہبی تعلیمات اور عیسوی اعتقادات کی عقلی اور سائنسی توجیہات پیش کر رہا تھا، یہ سلسلہ انتہائی کامیابی سے اٹھارہ سو سال تک چلتا رہا۔ سائنس، منطق، فلسفہ، عیسوی مذہب قدم بہ قدم ایک دوسرے کے ہمراہ چلتے رہے۔ کاپرنیکس اور کلیسا کی جنگ مذہب اور سائنس کی جنگ نہیں تھی بلکہ یہ جنگ فی الاصل قدیم یونانی فلسفہ و سائنس اور جدید فلسفہ و سائنس کی جنگ تھی۔ کیونکہ مذہبِ عیسوی نے منطق، سائنس و فلسفے کو ایک دینی رویّے کے طور پر اختیار کرلیا تھا، لہٰذا عیسائیت کا گلا جدید سائنس و فلسفے نے کاٹ دیا۔ اگر عیسائیت سائنس کے ساتھ منسلک نہ ہوتی اور فلسفہ کے منطقی دلائل کو اپنے حق میں استعمال نہ کرتی تو سائنس اس پر اثرانداز نہ ہوسکتی۔ عیسائیت کی غلطی یہ تھی کہ اس نے مذہبی منہاج علم کو فلسفیانہ سائنسی اور منطقی یونانی علوم کے منہاج سے مخلوط کردیا تھا۔‘‘
یہ ہے ازمنہ وسطیٰ کی دو تاریخی گمراہیوں کا احوال۔ ایک سرسری سا جائزہ ہزار سال کی تاریخ کا ضروری ہے تاکہ تصویر کسی قدر واضح ہوسکے۔ بلاشبہ ازمنہ وسطیٰ کا ابتدائی زمانہ تہذیبوں کی زبوں حالی کا ہے۔ ساتویں صدی میں اسلام کی آمد سے بتدریج مغرب میں نہ صرف تہذیبوں کو حیاتِ نو ملی، بلکہ وہ اسلام کے سائے میں طویل عرصہ فلاحی اور اصلاحی نعمتوں سے بہرہ مند ہوئیں۔ سید ابوالحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ شاندار تصنیف ’’انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر‘‘ کے باب ’’بعثتِ محمدیؐ سے پہلے‘‘ میں مسیحی دنیا کا حال یوں سناتے ہیں:’’چھٹی صدی مسیحی بلا اختلاف تاریخِ انسانی کا تاریک ترین اور پست ترین دور تھا، صدیوں سے انسانیت جس پستی و نشیب کی طرف جارہی تھی، اس کے آخری نقطے کی طرف پہنچ گئی تھی۔ روئے زمین پر اُس وقت کوئی طاقت نہ تھی جو گرتی ہوئی انسانیت کا ہاتھ پکڑ سکے… رومی و ایرانی اُس وقت مشرق و مغرب کی قیادت کے اجارہ دار بنے ہوئے تھے۔ وہ دنیا کے لیے کوئی اچھا نمونہ ہونے کے بجائے ہرقسم کی خرابی اور فساد کے علَم بردار و ذمے دار تھے…‘‘
ایرانی اور رومی سلطنتوں کی خاک سے ازمنہ وسطیٰ کا عہدِ زریں نمودار ہوا، مسلم بغداد اور مسلم اندلس نے نہ صرف ڈوبتی تہذیبوں کو سہارا دیا، بلکہ معاشرہ بندی کی اعلیٰ تعلیم دی، یونانی و دنیا کے دیگر علوم کی یورپ میں ترویج عام کی۔ اسلام کی آمد سے مغرب میں جو انقلاب برپا ہوا، اس کی علمی و سائنسی نوعیت پر برطانوی ماہر سماجیات و بشریات ڈاکٹر رابرٹ بریفالٹ کی منفرد اور اہم کتاب Making of Humanity کے باب ’’دارالحکمت‘‘ سے رجوع کرتے ہیں، وہ لکھتے ہیں:’’جس سامی قوم نے اسلام کا علَم بلند کیا، وہ بھی یورپ کی طرح دینی عقیدے سے سرشار تھی۔ اسی کا نام لے کر وہ اپنے خیموں سے اٹھی، اور حیرت انگیز طور پر قلیل مدت کے اندر ایک سلطنت کی بانی بن گئی جو رومن سلطنت سے زیادہ وسیع تھی۔ یورپ کی حقیقی نشاۃ ثانیہ پندرھویں صدی میں نہیں، بلکہ موروں اور عربوں کے احیائے ثقافت کے زیر اثر وجود میں آئی۔ یورپ کی نئی پیدائش کا گہوارہ اٹلی نہیں بلکہ اندلس میں تھا۔ یہ براعظم سفاکی کے گڑھوں میں گرتے گرتے جہالت و تنزل کی تاریک تریں گہرائیوں میں پہنچ چکا تھا۔ حالانکہ اسی زمانے میں عرب دنیا کے بغداد، قاہرہ، قرطبہ، طلیطلہ تہذیب اور ذہنی سرگرمی کے روز افزوں مرکز بن چکے تھے۔ وہیں وہ زندگی نمودار ہوئی، جسے آئندہ چل کر انسانی ارتقاء کی ایک نئی منزل کی شکل اختیار کرنا تھا۔‘‘
جدیدیت پرستوں کی منظم بددیانتی، اور اس کا کافی کچھ سبب مذکورہ اقتباسات میں واضح ہے۔ آگے ایک مقام پر رابرٹ بریفالٹ لکھتے ہیں: ’’بغداد، شیراز، اور قرطبہ کے حکمرانوں کی سرپرستی میں علوم و فنون نے حیرت انگیز ترقی کی۔ اس امر کی نہ کوئی مثال پہلے موجود تھی، نہ اب تک ہے کہ کسی وسیع سلطنت کے طول وعرض میں حکمران طبقے اتنے بڑے پیمانے پر حصولِ علم کی مجنونانہ خواہش سے سرشار ہوگئے ہوں۔ خلفاء، امرا اپنے محلوں سے اُٹھ کر کتب خانوں اور رصد گاہوں میں جاگھسے تھے۔ اہلِ علم کے خطبات سننے اور ریاضی کے متعلق مذاکرات کرنے میں ہرگز کوتاہی نہ کرتے، مسودات و مخطوطات اور نباتاتی نمونوں سے لدے ہوئے کارواں بخارا سے دجلہ تک، اور مصر سے اندلس تک رواں دواں رہتے تھے۔ اس حقیقت کو بار بار پیش کیا جاچکا ہے، لیکن بعض لوگوں نے اس سے ہمیشہ تغافل کیا ہے، اور اس کی اہمیت کم کرنے کی پیہم کوششیں کی ہیں۔ یورپ کیسے کسی ’کافر کتے‘ کا شرمندہ احسان ہو! اس اعتراف کو مسیحی تاریخ میں کوئی مقام حاصل نہیں ہوسکتا تھا۔ اور بعد کے تمام تصورات پر دروغ گوئی اورغلط بیانی کا غلبہ رہا۔ روایاتِ قدیم کی گرفت ان کے شدید مخالف پر بھی قائم رہتی ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ خود گبن (معروف مؤرخ) بھی اسلام کو بنظر استخفاف دیکھتا ہے۔ گزشتہ صدی تک عربوں کی تاریخ و ثقافت کا اتنا علم بھی موجود نہ تھا جو صحت وحقیقت سے قریب ہو (یہ تحریر1919ء کی ہے)۔ یہ بالکل تصور نہیں کیا جا سکتا کہ سفاکی میں ڈوبی ہوئی آبادیوں کے پہلو بہ پہلو رہنے اور ان سے مسلسل رابطہ رکھنے والی ایک درخشاں اور پُرقوت تہذیب تخلیقی قوت سے بھرپور بھی ہو، اور پھر ان آبادیوں کی نشو و ارتقاء پرگہرا اور اہم اثر نہ ڈالے۔ ظاہر ہے کہ اسلام اور یورپ کے رابطے میں قانونِ فطرت معطل و ملتوی نہیں ہوگیا تھا۔ اور اب اس کے گراں قدر ثبوت مہیا ہوچکے ہیں۔ حالانکہ اس رابطے کی یادداشتوں کو دبانے، بگاڑنے، اور محو کر دینے کی سازشیں برابر جاری رہی ہیں۔ اس کی وسعت و اہمیت بلاشبہ اس قدر زیادہ تھی کہ آج کل اس کی تفصیل کے ساتھ اس کا اظہار بھی ممکن نہیں۔ اگر ان حالات کو ذہن میں رکھا جائے، تواس میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا کہ ہم عربوں کے اثر کے متعلق جو کچھ بھی بیان کریں گے، وہ کم تو ہو سکتا ہے، زیادہ ہرگز نہیں ہو سکتا۔ یہ خیال غالب ہے کہ اگر عرب نہ ہوتے تو زمانہ حاضر کی یورپی تہذیب پیدا ہی نہ ہوئی ہوتی، اور یہ قطعی و یقینی ہے کہ یورپی تہذیب ایسی نوعیت اختیار نہ کر سکتی جس کی وجہ سے وہ ارتقا کی ماقبل منزلوں سے آگے بڑھ گئی ہے، کیونکہ یورپ کی نشوونما کا کوئی ایک پہلو بھی ایسا نہیں، جس میں ثقافتِ اسلامی کے قطعی اثر کا سراغ نہ مل سکے۔ جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ یورپ میں وہ قوت پیدا ہوگئی جو اس کی کامیابی کا سب سے بڑا سرچشمہ ہے، یعنی طبعی سائنس اور سائنسی روح‘‘۔ یہ اقتباس طویل ہے، مگر مغرب کے علمی اور تحقیقی نوادرات میں سے ایک ہے۔
یہی وہ واضح وجوہات تھیں جو جدیدیت سے ہضم نہ ہوسکیں۔ تمام تر آزاد خیالی اور تعلیمی و تحقیقی پیش رفت کے باوجود آج تک مغرب کی تاریخ مذہب دشمنی میں تعصب و تنگ نظری کی بدترین مثال ہے۔ اگر جدید مغرب اور سائنس پرست ان دو باتوں کا اعتراف کرلیں، مذہب اور تہذیب کی بنیادی اور تخلیقی حیثیت مان لیں، اور مسلم اندلس کو جدید سائنس کی جائے پیدائش تسلیم کر لیں، تو جدیدیت کی ساری عمارت ڈھے جائے، کیونکہ سائنس پرستوں کی ساری تاریخ کا اثبات ہی ان باتوں کی نفی میں ہے۔ ازمنہ وسطیٰ تاریخ کا وہ پہلا عہد ہے جب مذہب کے خلاف پہلی بار منظم حملوں کا سلسلہ شروع ہوا، جو آج تک جاری ہے۔ یہ ماقبل جدیدیت، اور روایتی عہد کی بامعنی اصطلاحوں میں پیش کیا جاتا رہا ہے، تاہم اب ماہرینِ حیاتیات نے اسے ’زرعی دور‘ کی سی دیہاتی بےچارگی میں پہنچا دیا ہے، جہاں اس عہد کی منظرکشی دیہی زندگی کی سی ہے، جیسے انسان براہِ راست جنگل سے میدانوں میں نکل آئے ہوں، کھیتی باڑی شروع کر دی ہو، پھرطوفانوں اور دیگر آفات سے گھبرائے ہوں، اور طرح طرح کے خدا گھڑ لیے ہوں، ازخود خدائی احکامات تخیل کر لیے ہوں، صحیفے وضع کر لیے ہوں، پھر کیتھولک کلیسا نے ظلم کا بازار گرم کیا، علمی سرگرمیوں پر پہرے بٹھائے، سائنس اور عقلی علوم کی راہیں روک دیں، پھر لوگوں نے بغاوت کی، پروٹسٹنٹ باغیوں نے کلیساؤں کی فرعونیت ڈھا دی، فرد کو آزادی مل گئی، وہ تقریر و تحقیق کے میدان میں کود پڑا، اور سائنسی انقلاب برپا کر دیا، اور یوں اس دورِ جہالت سے انسانوں کونجات ملی۔ اور پھر عثمانیوں نے پندرھویں صدی میں قسطنطنیہ پر حملہ کیا، اور یونانی علماء یورپ بھاگے، وہاں یونانی فلسفے کو فروغ دیا، یوں یونانیوں کی انسان پرستی پہلی بار یورپی فکر پر فیصلہ کن اثر مرتب کر سکی، یوں رومی اور یونانی علوم اور رومی انتظامی وراثتیں زندہ ہوگئیں، اور پھر جدید سائنس کا زریں سنہرا دور شروع ہوا، جو آج تک غالب ہے۔
یہ وہ گمراہ کن تاریخ ہے، جس میں صرف ایک یورپی باب ہی گم نہیں ہوابلکہ مستقبل کی تاریخ کا پورا تناظر ہی بدل گیا، بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ پورا فلسفہ حیات ہی الٹ گیا۔ انسانی تہذیبوں کی اعلیٰ ترین حالتیں منوں مٹی تلے دبا دی گئیں۔ ازمنہ وسطیٰ کا دور انسانی ترقی کا سب سے سنہرا دور ہے، یہ عیسائیوں کا بھی سنہرا دور ہے، یہ یہودیوں کا بھی سب سے سنہرا دور ہے، اور مسلمانوں کی گولڈن ایج بھی یہی ہے۔ یہ اس عہد کے بعد تینوں تہذیبوں کو پھر اس سے بہتر دور نصیب نہیں ہوا۔ یہ یونانی علوم کی ترویج و تراجم اور سائنسی سرگرمیوں کا بھی پہلا سنہرا دور ہے۔ (ملالہ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی اس دنیا میں) قدیم ترین زندہ جامعہ (یونیورسٹی) مراکش کی شہزادی فاطمہ الفرحی نے 859ء میں قائم کی تھی، ان کی بہن مریم نے درس گاہ کے ساتھ مسجد القراوین تعمیر کروائی تھی۔ یہ یونیورسٹی بارہ صدیوں بعد آج بھی طلبہ و طالبات کوتعلیم دے رہی ہے۔
(بقیہ بدھ کے شمارے میں ملاحظہ فرمائیں)