ایجنسیز
انقرہ// ترکی کی مرکزی اپوزیشن جماعت ریپبلکن پیپلز پارٹی کے معزول سربراہ اوزگور اوزیل نے صدررجب طیب اردوان کو چیلنج کرنے کے لیے جمعہ کو نئی سیاسی جماعت ’نیو پارٹی‘ کے قیام کا اعلان کر دیا۔اوزیل نے 90 دیگر ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ باضابطہ طور پرسی ایچ پی سے استعفیٰ دیا اور بعد ازاں وزارت داخلہ میں نئی جماعت کا اندراج کرایا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک ویڈیو میں اوزیل کو استعفے کے دستاویزات پر دستخط کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ ہماری سرزمین، قوم اور پارٹی کے لیے مبارک ثابت ہو۔‘‘یاد رہے کہ مئی میں ایک اپیلی عدالت نے 2023 میں منعقدہCHP کے پارٹی اجلاس کے نتائج کو مبینہ بے ضابطگیوں کی بنیاد پر کالعدم قرار دیتے ہوئے اوزیل کی بطور پارٹی چیئرمین تقرری منسوخ کر دی تھی، جس کے بعد سابق سربراہ کمال کلیچدار اوغلو کو دوبارہ پارٹی قیادت سونپ دی گئی۔ اس فیصلے پر پارٹی کارکنوں اور اوزیل کے حامیوں نے شدید احتجاج کیا تھا۔51 سالہ اوزیل نے 77 سالہ کلیچدار اوغلو کی جگہ سنبھالی تھی، جنہوں نے 13 برس تک پارٹی کی قیادت کی، تاہم کئی تجزیہ کار انہیں صدر اردوان کے خلاف غیر مؤثر اپوزیشن قرار دیتے رہے۔اوزیل کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان کی برطرفی اپوزیشن کو کمزور کرنے کی ایک وسیع مہم کا حصہ ہے۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران سی ایچ پی کے زیر انتظام بلدیاتی اداروں کے سینکڑوں منتخب میئرز اور دیگر عہدیداروں کو بدعنوانی کے مقدمات کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔ان میں استنبول کے میئر اکرم امام اوغلو بھی شامل ہیں، جنہیں صدر اردوان کے سب سے مضبوط ممکنہ سیاسی حریف کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ امام اوغلو گزشتہ سال مارچ سے جیل میں ہیں اور ان کے خلاف کئی فوجداری مقدمات زیر سماعت ہیں، جن میں طویل قید کی سزاؤں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا وہ بھی نیو پارٹی میں شامل ہوں گے یا نہیں۔دوسری جانب صدر اردوان کی حکومت کا مؤقف ہے کہ ترکی کی عدلیہ آزاد اور غیر جانبدار ہے اور عدالتیں کسی سیاسی دباؤ کے بغیر فیصلے کرتی ہیں۔