عظمیٰ نیوزسروس
جموں//مسلسل بارشوں کے باعث جمعہ کی علی الصبح ضلع ادھم پور کے برکوانڈا اور کدواہ گائوں میں اچانک سیلاب آ گیا، جس کے نتیجے میں کئی مکانات اورکھڑی مکئی کی فصلوں کو نقصان پہنچا جبکہ انتظامیہ نے متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا۔ حکام نے بتایا کہ شدید بارش کے باعث پانی کی سطح اچانک بلند ہونے سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔سیلابی ریلے نے برکوانڈا کے نشیبی علاقوں میں واقع گھروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور گھریلو سامان بھی بہا لے گیا۔ایک سرکاری افسر نے بتایاکہ کم سے کم 3مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ احتیاطی اقدام کے طور پر حساس علاقوں میں رہائش پذیرمتاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ نے احتیاطی اقدام کے طور پر تین متاثرہ خاندانوں کو بارکوانڈا کے سرکاری مڈل اسکول میں منتقل کیا۔ابھی تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے، جبکہ حکام نے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگانا شروع کر دیا ہے۔حکام نے بتایا کہ ایک اور واقعے میں، بسنت گڑھ تحصیل کے کدواہ گاؤں میں سیلاب نے تباہی مچائی، جہاں بہتے پانی نے کچھ مکانات اور کھڑی مکئی کی فصلوں کو نقصان پہنچایا۔حکام نے بتایا کہ سیلابی پانی کو ایک متبادل چینل کے ذریعے موڑ دیا گیا، جس سے رہائشی ڈھانچے اور زرعی اراضی کو مزید نقصان ہونے سے بچایا گیا۔ادھم پور میں توی ندی خطرے کے نشان سے نیچے بہہ رہی ہے۔ تازہ ترین ریڈنگز کے مطابق دریا15فٹ کی الرٹ لیول کے مقابلے میں12.655فٹ پر بہہ رہا تھا۔تاہم دریائے چناب میں اکھنور کے مقام پر پانی کی سطح ایک بار پھر فلڈ الرٹ لیول سے تجاوز کر گئی۔گزشتہ پانچ دنوں سے جاری موسلادھار بارش نے جموں و کشمیر کے کئی حصوں میں بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔سیلابی ریلوں کے تازہ واقعات کے فوراً بعد پولیس، ایس ڈی آر ایف اور مقامی انتظامیہ کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور ریسکیو و امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ نقصانات کا جائزہ لینے کا عمل بھی جاری ہے۔اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ حکام نے ندی نالوں اور سیلاب سے متاثر ہونے والے علاقوں کے رہائشیوں کو مسلسل بارش کے پیش نظر چوکس رہنے کی ہدایت دی ہے۔