ادھم پور پارلیمانی حلقہ میں انتخابات کی گنتی کے عمل کیلئے تیاریاں | کائونٹنگ کیلئے 10 اے آر او اور 60 ٹیمیں تشکیل ریٹرننگ آفیسر نے کائونٹنگ کے عملے کے تربیتی سیشن کی صدارت کی

عظمیٰ نیوز سروس

کٹھوعہ//ریٹرننگ آفیسر اودھم پور پارلیمانی حلقہ ڈاکٹر راکیش منہاس نے ڈی سی آفس کمپلیکس کے کانفرنس ہال میں الیکٹرانک ٹرانسمیشن پوسٹل بیلٹ سسٹم (اِی ٹی پی بی ایس) کے تحت ووٹوں کی کائونٹنگ کے لئے نامزد اے آر اوز کے لئے منعقدہ میٹنگ کم ٹریننگ سیشن کی صدارت کی۔میٹنگ میں جانکاری دی گئی کہ اِی ٹی پی بی ایس کے ذریعے ڈالے گئے ووٹوں کی کائونٹنگ 4؍جون کو ہونے والے لوک سبھا 2024 ء کے عام اِنتخابات کے لئے ووٹ کائونٹنگ دِن کے ابتدائی اَوقات میں کی جائے گی۔تربیتی سیشن کے دوران ماسٹر ٹرینر سدیشور بھگت (ڈِی آئی او این آئی سی کٹھوعہ) نے پاور پوائنٹ پرزنٹیشن کے ذریعے تربیت حاصل کرنے والوں کو پوسٹل بیلٹ کی کائونٹنگ کے لئے اَپنائے جانے والے ایس او پیز کے بارے میں آگاہ کیا اور کائونٹنگ کی مشق کے دوران احتیاطی تدابیر کی وضاحت کی۔ریٹرننگ آفیسر نے اے آر اوز کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے پوسٹل بیلٹ پیپر کی کائونٹنگ کے بارے میں الیکشن کمیشن کے وضع کردہ رہنما خطوط سے واقفیت پر زور دیا۔ اُنہوں نے مزید ہدایت دی کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ ہینڈ بُک کا مطالعہ کریں تاکہ بیلٹ پر کیو آر کوڈ کی سکیننگ ، بیلٹ کو درست یا غیر قانونی قرار دینے وغیرہ جیسے مختلف پہلوؤں میں واضح معلومات حاصل کی جاسکے اور اَپنی ٹیم کے اراکین کو تمام رہنما خطوط اور طریقۂ کار سے مزید واقف کریں۔اُنہوںنے مزید بتایا کہ پورے اودھم پور پارلیمانی حلقہ میں ڈالے گئے اِی ٹی پی بی ایس ووٹوں کی کائونٹنگ کے لئے کل 60 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ اُنہوں نے اے آر اوز کو ہدایت دی کہ وہ اِس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام ٹیمیں وقت سے پہلے کائونٹنگ کے مقام پر پہنچ جائیں کیوں کہ پوسٹل بیلٹ کی کائونٹنگ صبح 8 بجے شروع ہوگی۔یہ بات قابلِ ذِکر ہے کہ الیکشن کمیشن نے پہلی بار الیکٹرانک طور پرٹرانسمیٹیڈ پوسٹل بیلٹ سسٹم (اِی ٹی پی بی ایس) میںاِنتظامات کئے تھے جس سے جسمانی طور خاص اَفراد اور 85 برس سے زیادہ عمر کے رائے دہندگان گھر میں آرام سے پوسٹل بیلٹ کے ذریعے اپنا ووٹ ڈالتے تھے کیوں کہ پولنگ پارٹیاں اُن کی دہلیز پر پہنچ جاتی تھیں۔میٹنگ کم ٹریننگ پروگرام میں اے ڈی سی کٹھوعہ رنجیت سنگھ، سی پی او نو رنجیت ٹھاکر،ڈل آفیسراور دیگر نامزد اے آر اوز بھی موجود تھے۔