ادب و احترام کے تقاضے ؟

گھروں میں جب کوئی باہر سے عورتیں آتیں،امی بیٹوں سے کہتی ہیں، تم اُدھر جا کر بیٹھو ،یہاں خواتین بیٹھیں گی۔جس کمرے میں بہنیں سوئی ہوں،وہاں بھائیوں کوبے دھڑک جانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی ۔اگر راستے میں کسی عورت کو مدد کی ضرورت ہوتی تھی تو ماں اپنے بیٹے سے کہتی: ’’بیٹا جاؤ! تمہاری ماں جیسی ہے، اس کی مدد کرو‘‘ بیٹا فوراًماں ہی سمجھ کر ایسا کرتا۔
کسی کی بیٹی کو کوئی کام ہوتا تو امی یوں کہتیں ’’جاؤ تمہاری بہن جیسی ہے،اس کا فلاں کام کر دو، یا اُسےگھر چھوڑ آؤ‘‘بیٹے کے دل میں بیٹھ جاتا کہ ’’میری بھی بہن ایسی ہی ہے، یہ بھی میری بہن جیسی ہے‘‘۔ بہنوں کی سہیلیاں گھر آتیں تو ان کا بہنوں ہی کی طرح احترام کیا جاتا۔ بیٹوں، بیٹیوں کے رشتے طے ہو جاتے تھے ،لیکن اُنہیں پتہ تک نہ ہوتا تھا۔شادی ماں باپ کی پسند سے کر لیتے اورمرتے دم تک نبھاتے ،خوش رہتےاور سکون پاتے۔کبھی ڈپریشن نہ ہوتا تھا،کیونکہ تربیت ہی ایسی ہوتی تھی۔ یہ ہمارا معاشرہ تھا جو ماؤں نے تشکیل دیا تھا۔مگردور حاضرہ پر نظر ڈالتے ہیںتو بالکل اس کے برعکس دکھائی دیتا ہے۔اب تو لگتا ہے کہ نئی نسلوں کی مائیں اپنے بچوں کی تربیت کرنا جانتی ہی نہیں ہیںیاوہ تربیت کرنا بھول گئی ہیں۔
ماؤں ،بہنوں ،بیٹیوں یاد رکھو !اگر کھیت میں’’ دانہ‘‘ نہ ڈالا جائے تو قدرت اسے ’’گھاس پھوس‘‘ سے بھر دیتی ہے،گویا اگر’’دماغ‘‘کو’’اچھی فکروں‘‘ سے نہ بھرا جائے تو ’’کج فکری ‘‘اسے اپنا مسکن بنا لیتی ہے۔ یعنی اس میں صرف ’’اُلٹے سیدھے ‘‘خیالات آتے ہیں اور وہ ’’شیطان کا گھر‘‘ بن جاتا ہےا ور جس کے پاس ’’جو کچھ‘‘ ہوتا ہے ،وہ’’وہی کچھ‘‘ بانٹتا ہے۔ مثلاً٭خوش مزاج انسان ’’خوشیاں ‘‘بانٹتا ہے٭غمزدہ انسان ’’غم‘‘ بانٹتا ہے٭عالم ’’علم‘‘ بانٹتا ہے٭دیندار انسان ’’دین‘‘ بانٹتا ہے٭خوف زدہ انسان ’’خوف‘‘ بانٹتا ہے۔یادرکھئے! آپ کو زندگی میں جو کچھ بھی حاصل ہو، اسے ’’ہضم ‘‘کرنا سیکھیں، اس لئے کہ٭ کھانا ہضم نہ ہونے پر’’بیماریاں‘‘ پیدا ہوتی ہیں٭مال وثروت ہضم نہ ہونے کی صورت میں’’ریاکاری‘‘ بڑھتی ہے٭بات ہضم نہ ہونے پر ’’چغلی‘‘ اور ’’غیبت‘‘ بڑھتی ہے٭ تعریف ہضم نہ ہونے کی صورت میں ’’غرور‘‘ میں اضافہ ہوتا ہے٭ مذمت کے ہضم نہ ہونے کی وجہ سے ’’دشمنی‘‘ بڑھتی ہے٭غم ہضم نہ ہونے کی صورت میں ’’مایوسی‘‘ بڑھتی ہے٭اقتدار اور طاقت ہضم نہ ہونے کی صورت میں ’’خطرات‘‘ میں اضافہ ہوتا ہے۔اس لئے میرے عزیزو!اپنی زندگی کو آسان بنائیں ۔ ایک’’ با مقصد‘‘ اور ’’با اخلاق‘‘ زندگی گزاریں، لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کریں۔خوش رہیں ۔۔۔ خوشیاں بانٹیں۔۔۔۔ اور ایک دوسرے سے محبت اور احترام کریں۔اب ذرا محبت و احترام کی ایک چھوٹی سی کہانی بھی سُنیے:
ایک شخص اکثر ایک بوڑھی عورت سے سنگترے خریدا کرتا تھا ،وزن و پیمائش اور قیمت کی ادا ئیگی سے فارغ ہوکر وہ سنگترے کو چاک کرتا اور ایک دانہ اپنے منہ میں ڈال کے شکایت کرتا کہ یہ تو کھٹے ہیں ، یہ کہہ کروہ سنگترہ اس بوڑھی عورت کے حوالے کر دیتا….. بزرگ عورت ایک دانہ چکھ کے کہتی ’’ یہ تو با لکل میٹھا ہے‘‘، مگر تب تک وہ خریدار اپنا تھیلہ لے کے وہا ں سے جا چکا ہوتا….اس شخص کی زوجہ بھی اس کے ساتھ ہی ہوتی تھی ….ایک دن اس کی بیوی نے پوچھا: ’’جب اس کے سنگترے ہمیشہ میٹھے ہی نکلتے ہیں تو یہ روز کا ڈرامہ کیسا‘‘ شوہرنے مسکرا کے جواب دیا ’’ وہ بوڑھی ماں میٹھے سنگترے بیچتی ہیں، مگر غربت کی وجہ سے وہ خود اس کو کھانے سے محروم ہیں …
اس طرح سے میں اس کو ایک سنگترہ بلا کسی قیمت کے کھلانے میں کامیاب ہو جا تا ہوں …بس اتنی سی بات ہے‘‘۔ اس بوڑھی عورت کے سامنے ایک سبزی فروش عورت روزانہ یہ تماشہ دیکھتی تھی ،سو ایک دن وہ بھی اُس سے پوچھ بیٹھی ’’ یہ آدمی روزانہ تمہارے سنگترے میں نقص نکال دیتا ہے اور تم ہو کہ ہمیشہ ایک زائد سنگترہ وزن کرتی ہو،کیا وجہ ہے ‘‘۔ 
یہ سن کے بوڑھی عورت کے لبوں پر مسکراہٹ آ گئی اور وہ گویا ہوئی۔ ’’ میں جانتی ہو ں کہ وہ ایسا مجھے ایک سنگترہ کھلانے کے لیے کرتا ہے اور وہ یہ سوچ بیٹھا ہے کہ میں اس سے بیگانہ ہوں۔ میں کبھی زیادہ وزن نہیں کرتی …..یہ تو اس کی محبت ہے جو ترازو کے پلے کو بوجھل کر دیتی ہے۔ محبت اور احترام کی مسرتیں ان چھوٹے چھوٹے میٹھے دانو ں میں پنہاں ہیں۔ سچ ہے کہ محبت کا صلہ بھی محبت ہے۔