ٹی ای این
سرینگر// جموں و کشمیر پرائیویٹ ایمپینلڈ ہاسپیٹلز اینڈ ڈائیلاسز سینٹرز ایسوسی ایشن نے اعلان کیا ہے کہ نجی اسپتال اور ڈائیلاسز مراکز یکم جولائی 2026 سے آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (PM-JAY) اور صحت (SEHAT) اسکیم سے اجتماعی طور پر الگ ہونے کے اپنے فیصلے پر قائم ہیں۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے بار بار یقین دہانیاں کرائے جانے کے باوجود ان کے دیرینہ مسائل حل نہیں کیے گئے۔ایسوسی ایشن کے مطابق انتظامیہ کے ساتھ متعدد اجلاس اور بات چیت کے ادوار منعقد ہوئے، تاہم نجی اسپتالوں کو درپیش مشکلات کے ازالے کے لیے اب تک کوئی مؤثر اور عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ایسوسی ایشن نے کہا کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے شروع کی گئی آیوشمان بھارت اسکیم کے مقاصد اور وژن کی مکمل حمایت کرتی ہے، لیکن مارچ 2024 کے بعد سے اسکیم اپنی “کمزور ترین کارکردگی” کے دور سے گزر رہی ہے۔ایسوسی ایشن کے مطابق نجی اسپتال طویل عرصے سے دعوؤں کی ادائیگی میں تاخیر، علاج کے پیکیج نرخوں کی ناکافی شرح، پیچیدہ منظوری کے طریقہ کار اور بڑھتے ہوئے مالی بوجھ کا سامنا کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے اسکیم کے تحت مفت اور کیش لیس علاج کی خدمات جاری رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔
ایسوسی ایشن کے ترجمان نے کہا کہ اجتماعی اخراج کے اعلان کے بعد بھی حکام کی جانب سے صرف زبانی یقین دہانیاں دی گئیں، لیکن نظام کو بہتر بنانے اور اسپتالوں کے مسائل حل کرنے کے لیے کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا گیا۔ایسوسی ایشن نے الزام عائد کیا کہ ہر سال اسپتالوں کو اپنی واجب الادا رقوم کی ادائیگی کے لیے بار بار حکام سے رجوع کرنا پڑتا ہے، مگر مستقل حل فراہم نہیں کیا جاتا۔ ایسوسی ایشن کے مطابق سینکڑوں کروڑ روپے کی رقم اب بھی اسٹیٹ ہیلتھ ایجنسی (SHA) کے پاس زیر التوا ہے، جس سے خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے نجی اسپتال شدید مالی بحران کا شکار ہیں۔اسپتال انتظامیہ نے خبردار کیا کہ ادائیگیوں میں تاخیر کے باعث ادویات، طبی سامان کی خریداری اور عملے کی دستیابی متاثر ہو رہی ہے، جس سے صحت خدمات کے معیار اور تسلسل پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ایسوسی ایشن نے خاص طور پر ڈائیلاسس مریضوں کی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر نجی ڈائیلاسس مراکز اسکیم سے الگ ہو گئے تو ہزاروں غریب مریض، جو صحت اسکیم کے تحت مفت ڈائیلاسس حاصل کر رہے ہیں، کیش لیس علاج کی سہولت سے محروم ہو سکتے ہیں۔ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ زیر التوا ادائیگیاں فوری طور پر جاری کی جائیں، علاج کے پیکیج نرخوں پر نظرثانی کی جائے اور پیشگی منظوری کے طریقہ کار کو آسان اور تیز بنایا جائے تاکہ اسکیم کو طویل مدت تک مؤثر انداز میں جاری رکھا جا سکے۔