فکر و فہم
حمیرہ فاروق
اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے جو ہمیں قدم قدم پر رہنمائی اور رہبری کرتا ہے۔ دنیا میں زندگی کس طرز کی گزارنی ہوگی اُس سب کی تعلیم ہمیں بذریعہ اسلام دی گئی، تاکہ انسان انسانیت کے فرض کو نبھائے۔ چونکہ رسول اللہؐ ہمارے لیے اسوہ ٔحسنہ ہیں، اُن کی مبارک زندگی ہمارے لیے نمونہ ، رحمت اور ایمان کا ایک حصہ خاص بھی ہے۔ دنیا میں اگر دیکھا جائے تو حُسن خُلق میں آپؐ سب سے اعلیٰ اور افضل ترین انسان تھے۔ جن کے بارے میں ارشاد ربانی ہیں،’’اور بے شک آپؐ عظیم اخلاق پر فائز ہیں۔‘‘رسول اللہؐ نے ہمیں بہترین اخلاق اپنانے کی تعلیم دی آپؐ نے فرمایا،’’ تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں ۔‘‘
اخلاقیات ہمارے دین کی روح ہیں اور یہ انسان بالخصوص مسلمان کی پہچان بھی ۔ ایک انسان کو تو اس کے اخلاق اور کردار سے ہی پہچانا جاتا ہے۔ چاہے وہ پھر گفتگو، لین دین، رشتہ داری ، غربت کا عذاب ہو یا قرض کی وبا، یہاں انسان کے اخلاق کا امتحان ہوتا ہے کہ واقعی وہ انسانیت میں شامل ہے یا خارج۔
اخلاقیات انسان کا وہ اہم پہلو ہے جو اس کی شخصیت کا حقیقی عکس فراہم کرتا ہے۔ احادیث اور قرآن پاک میں جگہ جگہ پر اچھے اخلاق اپنانے کا درس دیا گیا۔ نبی کریمؐ نے فرمایا،’’قیامت کے دن مومن کے میزان میں سب سے بھاری چیز اچھا اخلاق ہوگا۔‘‘
انسان کو نماز، روزہ، زکوۃ، حج ان فرائض کے ساتھ ساتھ اچھا اخلاق ہونا اشّد ضروری ہے، بغیر اس کے وہ سچا مومن نہیں ہوسکتا، کیونکہ اخلاقیات کا اثر صرف ایک انسان تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس سے پورا معاشرہ متاثر ہو جاتا ہے۔ انسان کا سچا اور ایماندار ہونا اس کے اخلاق کو مزین کرتا ہے ،اگر معاشرے کا ہر فرد صادق اور امین ہوگا تو ہمارا بگڑا معاشرہ امن کا گہوارہ بن جائے کا ۔ عزت اور عصمت فروش بیڑیوں کی بیڑ سے ہمارا خستہ حال معاشرہ آزاد ہو جائے گا ۔
اخلاقیات کا یہ غلط معنی ہرگز نہیں لینا چاہیے کہ ہم کسی سے یا کوئی ہم سے مسکرا کے بات کریں۔ مسکرا کر بات کرنے کا مطلب کبھی توجہ ہٹانے اور دھوکے کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔ اچھے اخلاق وہ ہے جس میں عزت، سچائی، سادگی، عاجزی، دیانتداری، کردار کی پارسائی ہو، جو حق کو ادا کرے، غریب کی مدد اور یتیموں پر رحم کریں، ہماسیوں کے ساتھ نیک برتاؤ اور رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کا معاملہ اختیار کریں، مقروض ہو تو قرض کی ادائیگی کریں، دل کو حسد بغض عداوت اور دوسری غلاظتوں سے منزہ رکھیں۔ دوسرے بھائی کی کامیابی دیکھ کر خوش ہو جائے، غیبت، تکبر، منافقت، چغل خوری ، لعن طعن، لڑائی جھگڑے اور تمام فسادات جو انسان کے لیے باعث شر ہو اس سے دور رہنے کو اخلاقیات کہا جاتا ہے۔
اچھا اخلاق والا انسان قابل احترام اور لائق اعتبار ہوتا ہے، نہ وہ دھوکا دے سکتا ہے اور نہ ہی منافقت کے دوغلے پن سے انسان کو قید میں رکھ سکتا ہے۔ وہ جس طرح خود سکون کی زندگی گزارتا ہے، دوسروں کے لیے بھی وہی نیت رکھتا ہے۔ وہ اللہ کا مطیع بن کر دنیا میں زندگی گزاتا ہے ۔ اچھے اخلاق کےذریعے انسان تہجد اور کثرت سے روزہ رکھنے والے کے مقام تک پہنچ سکتا ہے اور برے اخلاق کی وجہ سے تہجد گزار جہنم کا ایندھن بن سکتا ہے۔ جس کے اخلاق اچھے ہوں، اللہ اس کو کامیابیوں ، عزت اور سکون کی دولت سے مالامال کرتا ہے، وہ زندگی کے ہر ایک قدم میں راحت اور سکون کو پاتے ہیں ۔ وہ نہ دوسروں کا مذاق اڑاتے ہیں اور نہ ہی فضول خرچی کے عادی رہتے ہیں بلکہ وہ اعتدال اور صبر و شکر سے زندگی گزار لیتے ہیں۔ ناامیدی سے دور اور قناعت پسندی ان کا شیوہ رہتا ہے۔ وہ لوگوں کے تلخ لہجوں کو برداشت کرنے کی قوت رکھتے ہیں، کوئی دل دکھاے تو ان کو معاف کرتے ہیں۔ الغرض اچھے اخلاق والا فرد ہمیشہ انسانیت کے لیے ایک چراغ ہوتا ہے ۔
اسلام نے اچھے اخلاق کی تعلیم قدم قدم پر دی اُٹھنے سے لے کر بیٹھنے تک اچھے اخلاق کو اپنانے کا درس دیا اور شریعت نے ہر کام میں حدود رکھیں ، ظلم نہیں۔ اور ہر کام جو شریعت کے اندر کیا جائے اخلاقیات میں آتا ہے، کیونکہ اخلاقیات شریعت کے حدود میں رب کی رضا کے لیے کام کرنے کو کہا جاتا ہے۔ جہاں چور کو اسکی چوری کرنے پر ہاتھ کاٹا جائے ۔ قاتل کے لیے قصاص اور زانی کے لیے کوڑے یا رجم کی سزا۔ اور جہاں ہر کام میں رب کی رضا کو شامل نہ رکھا جائے تو بداخلاقی کہلائی جائے گی۔
لہٰذا ہمیں اپنے اخلاق کو اس قدر ٹھیک کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ ہر انسان بنا خوف اور سر اٹھا کے زندگی گزارے۔ جہاں نہ کسی عورت کو عصمت ریزی کا خوف ہو اور نہ معاشرہ کو بدکرداری کی مُہر لگائی جائے۔ یہ ہمارے دین کی تعلیم ہے۔ کیونکہ رسول اللہ ؐ کی بعثت کے تمام مقاصد کا خلاصہ انسانی اخلاق کی تکمیل ہے اور اخلاق زندگی کا خلاصہ بھی ہے۔ لہٰذا بُرے اخلاق رزیل اور منافقانہ روش سے بعض رکھنے کی اپنے نفس کو رکھنے کی عادی بنائیں، اسی میں ہم سب کی خیر ہوگی اور یہی جنت کا راستہ ہے، جہاں لوگ ایک دوسرے کے شر سے دور رہ کر خیر کی برکت کو حاصل کریں۔ ورنہ بداخلاقی سے انسان اگر باقی ہزار نیکیاں کریں سب رائیگاں ہو جائیں گی۔
[email protected]